بھاگوت چاہتے ہیں، پوری دنیا میں ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگے

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت

کولکاتا، ۲۷ مارچ (ایجنسی): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں یہ کہہ کر ملک بھر میں قوم پرستی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ نئی نسل کو ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنا سکھایا جانا چاہیے۔ اب ہندوستان سے آگے بڑھتے ہوئے آج انھوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس نعرہ کو عالمی سطح پر لگایا جانا چاہیے۔

کولکاتا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا، ’’بھارت صرف ایک جغرافیائی نام نہیں، بلکہ ایک اصطلاح ہے جو اپنے اندر قدیم روایتی قدروں کو سموئے ہوئے ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بھارت وہ واحد ملک ہے، جہاں سب سے قدیم روایات ۔۔ ہندو روایات ۔۔ اب بھی موجود ہیں۔ دیگر سبھی ممالک بدل چکے ہیں، یا تو وہ ترقی کی جانب مائل ہو گئے یا پھر اخلاقی زوال کی طرف۔ لیکن ایسے وقت میں جب کہ اخلاقی زوال کا دور چل رہاہے، ہماری قدیم روایات پر اب بھی عمل کیا جا رہا ہے۔‘‘

بھاگوت نے مزید کہا کہ ’’اگر پوری دنیا میں ’بھارت ماتا کی جے‘ کو قائم کرنا ہے، اگر بھارت کو ایک خوشحال، برابری والا اور ظلم سے پاک ملک بنانا ہے، تو ہم سب کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم بھارت کو اپنے اندر محسوس کریں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ موہن بھاگوت کے ذریعہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کی بات کہنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم نوا جماعتوں نے ملک بھر میں سختی سے یہ بات منوانے کی کوشش کی ہے کہ جو شخص یہ نعرہ بولے گا وہی قوم پرست ہے، ورنہ اسے ملک مخالف مانا جائے گا۔ ظاہر ہے، اس کی وجہ سے دوسری سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کی طرف سے اعتراض جتائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے یہ کہتے ہوئے ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنے سے انکار کردیا ہے کہ ہندوستانی آئین میں ایسا کہنے کے لیے کہیں نہیں لکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرف سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ان کے مذہب میں صرف ایک خدا کی عبادت کے لیے کہا گیا ہے، اس لیے انہیں لفظ ’ماتا‘ کہنے پر اعتراض ہے، کیوں کہ اس سے ہندو مذہب کی کسی دیوی کا تصور سامنے آتا ہے۔ انھیں ’جے ہند‘ یا ’ہندوستان زندہ باد‘ کہنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، صرف لفظ ’ماتا‘ پر اعتراض ہے۔ لیکن آر ایس ایس، بی جے پی اور دیگر شدت پسند ہندو تنظیمیں ملک کے تمام شہریوں کے لیے یہ نعرہ لازمی کرنا چاہتی ہیں، جس کی وجہ سے پورے ملک میں ٹکراؤ کی صورت بنی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *