بھوپال انکاؤنٹر کی جوڈیشیل انکوائری ہو: ویلفیئر پارٹی

نئی دہلی:
ہائی سیکورٹی بھوپال جیل سے سیمی کے مبینہ دہشت گرد کے 8 ملزمین کا فرار اور پولیس کے ذریعہ ان کا انکاؤنٹر متعدد سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اس پورے واقعہ پر ہائی لیول جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ان متعدد واقعات کا تسلسل ہے جن پر ماضی میں بھی حقوق انسانی کی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے بڑے اعتراضات ہوئے تھے۔ بیرون ملک کی بھی متعدد حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔
اس واقعہ پر ریاستی حکومت اور پولیس کے متعدد بیانات یہ واضح کرتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ بھوپال جیل ایک ہائی سیکوریٹی جیل ہے لہذا اس جیل سے بغیر کسی ہتھیار اور بیرونی مدد کے فرار کی کہانی صرف ایک مفروضہ ہی نظر آتی ہے۔ اس سے قبل بھی گجرات، بٹلہ ہاؤس اور ورنگل انکاؤنٹرکی فرضی کہانیوں پر ہنوز پردہ پڑا ہوا ہے۔ جیل افسران اور بھوپال پولیس کی تعریف وتوصیف کی جارہی ہے کہ انہوں نے کتنی سرعت کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والوں کو پکڑ کر مار دیا لیکن کسی طرف سے اس بات کی وضاحت نہیں ہو رہی ہے کہ کس طرح 100میٹر سرنگ کھودی گئی اور 40 فٹ دیوار سے وہ لوگ چھلانگ لگا کر کیسے بھاگ گئے، پولیس اس بات پر بھی خاموش ہے کہ دو الگ الگ بیرک سے کیسے آٹھ قیدی ایک ساتھ فرار ہوگئے جبکہ دونوں بیرکوں کے بیچ خاصی دوری تھی۔ پولیس کے مطابق اگر ان سے ہتھیار کی برآمدگی ہوئی ہے تو وہ کہاں ہے اور ان تک کیسے پہنچا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب پولیس مفرور کے بالکل قریب پہنچ گئی تھی تو انھیں زندہ کیوں نہیں پکڑا گیا۔
اس فرضی انکاؤنٹر سے مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت نہ صرف اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے بلکہ ملک کے عوام کو اصل مسئلے سے بھی بھٹکانا چاہتی ہے اس مسئلے پر اعلیٰ سطحی جوڈیشیل انکوائری ہونی چاہئے تاکہ اس مسئلے کی تہہ تک جایا جاسکے۔ مرکز ی اور ریاستی حکومت فوری اس سلسلے میں اقدامات کرے۔
ویلفیئر پارٹی نے ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں، سول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیموں سے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *