بہارمیں اقلیتی طلبہ کے لئے کوچنگ برائے مسابقاتی امتحان

ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ
ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ

ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں یہ دور عا لمیت ہے اور اب پوری دنیا ایک عالمی بازار بن چکی ہے اور ہم سب اس ازلی اور ابدی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ بازار میں قیمت اسی شے کی ہوتی ہے جس پر صارفین کی توجہ زیادہ ہو۔ غرض کہ آج کی مارکیٹنگ میں وہی شے اپنی قیمت وصول کر سکتی ہے جس کے اندر صارفین کو اپنی طرف مخاطب کرنے کی کشش ہو۔ ٹھیک اسی طرح سرکاری یا غیر سرکاری محکموں میں بھی ویسے افراد کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنی علمیت و استعداد سے سامنے والے کو متاثر کر سکے یا پھر انہیں اپنی پیشہ وارانہ دانشمندی کی بدولت قائل کر سکے کہ وہ اس کی ضرورت بن گئے ہیں۔ مختصر یہ کہ دور حاضر میں صرف اور صرف ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے کیونکہ کثرت آبادی کی وجہ سے سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں ملازمت کے مواقع کم ہونے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب چوتھے درجے کی سرکاری ملازمتوں کے لئے بھی تحریری امتحان اور انٹرویو لئے جانے لگے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں ملازمت حاصل کرنے والوں کی کتنی بڑی بھیڑ ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں اتر پردیش حکومت نے تقریباً ۲۷۵ چوتھے درجے کے سرکاری ملازم کی آسامیاں نکالی تھیں اور اس کے لئے تقریباً ایک لاکھ امیدواروں نے فارم داخل کئے اور اس میں ہزاروں کی تعداد ماسٹر ڈگری حتیٰ کہ دو ہزار سے زیادہ پی ایچ ڈی ڈگری والے بھی شامل ہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں دنوں دن کس قدر بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔
دراصل آزادی کے بعد ہماری ناقص تعلیمی پالیسی نے عوام الناس کا ایک ایسا مزاج بنا دیا کہ ڈگری کی اہمیت بڑھتی چلی گئی اور علمی لیاقت پس پشت چلی گئی۔ نتیجتاً ڈگری والوں کی ایک بھیڑ تو جمع ہو گئی لیکن تجربہ کار اور با صلاحیت لوگوں کا فقدان ہونے لگا۔ اب جبکہ گلوبلائزیشن کا دور ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ پوری دنیا ایک بازار بن چکی ہے تو ایسے وقت میں صرف ڈگری والوں کے لئے مواقع اور بھی کم ہو گئے ہیں کیونکہ ملٹی نیشنل کمپنی یا ملکی نجی کمپنیوں کے دفاتر میں باصلاحیت افراد کو ہی اولیت دی جاتی ہے۔اس لئے ان دنوں قومی سطح پر مسابقاتی اور مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے خصوصی کوچنگ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، بلکہ اب تو کوچنگ بھی ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتہ اور راجستھان کے کوٹہ کے علاوہ تمام ریاستوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی اس طرح کی کوچنگ کا جال بچھ چکا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کوچنگ میں اقتصادی اعتبار سے کمزور اور سماجی اعتبارسے پسماندہ طبقے کے بچوں کو داخلہ نہیں مل سکتا کیونکہ ان پرائیوٹ کوچنگ کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو طبقہ اقتصادی طور پر ان کوچنگوں کی فیس برداشت کر سکتا ہے، ان کے بچّے ہی وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں معاشی طور پر پس ماندہ طبقہ کے بچّے محرومی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ شاید اس کا احساس حکومتوں کو بھی ہے، اسی لئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں بھی کمزور طبقے کے بچوں کے لئے خصوصی کوچنگ کا اہمتام کرتی رہی ہیں، بالخصوص یو جی سی نے اپنی بارہویں پنج سالہ منصوبے میں تمام ڈگری کالجوں میں ریمیڈیل کوچنگ برائے اقلیت، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لئے فنڈ فراہم کیا تھا۔ لیکن اس کاخاطر خواہ فائدہ ان طبقات سے متعلق بچوں کو محض اس لئے نہیں مل سکا کہ اکثر کالجوں میں یہ کاغذی بن کر رہ گیا۔ ریاستی حکومت نے بھی انتہائی پسماندہ طبقہ اور درج فہرست ذات اور قبائل کے لئے یونیورسٹیوں میں اس طرح کی کوچنگ کا اہتمام کیا تھا۔ مگر یہاں بھی اکثر جگہوں پر خانہ پری کا نمونہ ہی سامنے آیا۔
جہاں تک ریاست بہار کا سوال ہے تو یہاں حکومت کی جانب سے اقلیت مسلمانوں کے لئے اس طرح کی کوچنگ کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ گذشتہ سال سے محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود نے پٹنہ کے حج بھون میں پبلک سروس کمیشن کے امیدواروں کے لئے اس طرح کی خصوصی کوچنگ کا اہتمام کیا ہے، جس کا خاطر خواہ فائدہ ملتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس محکمہ کے پرنسپل سکریٹری جناب عامر سبحانی کی خصوصی دلچسپی سے اس سال کلیریکل گریڈ یعنی بینک، ریلوے، اسٹاف سلیکشن کمیشن اور دیگر ریاستی محکموں میں کلرک گریڈ کی ملازمت کے لئے ہونے والے مقابلہ جاتی امتحانات کی کوچنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس سال محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود کی جانب سے پٹنہ کے حج بھون اور دربھنگہ کے مارواڑی کالج میں تجربے کے طور پر دو کوچنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ ایک مرکز پر ۶۰ طلبا و طالبات یعنی ۳۰ لڑکوں اور ۳۰ لڑکیوں کے لئے چار ماہ کی کوچنگ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں ایسے بچوں کو کوچنگ دی جارہی ہے جو کسی نہ کسی مقابلہ جاتی امتحان کے امیدوار ہیں۔ ظاہر ہے کہ آج کے مسابقاتی اور مقابلہ جاتی دور میں اس طرح کی خصوصی کوچنگ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مسلم طبقہ ایک طرف تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے تو دوسری طرف اس کی اقتصادی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کا یہ قدم قابل تحسین ہے، لیکن ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس طرح کے مراکز تمام اضلاع کے ہیڈکواٹر میں قائم کئے جائیں۔ بالخصوص ان اضلاع میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ میرے خیال میں مسلم طبقے کے دانشوروں کو بھی اس معاملے میں پہل کرنی چاہئے اور حکومت تک اپنی درخواستیں پہنچانی چاہئیں۔ کیونکہ جب تک ہمارے مطالبے متعلقہ محکموں تک نہیں پہنچیں گے تو اس وقت تک اس طرح کی کوچنگ قائم نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ اس وقت محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود کے پرسنپل سکریٹری عامر سبحانی بذات خود عصری تعلیم کے اسرار و رموز کے واقف کار ہیں اور وہ عصری تقاضوں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں، اس لئے اگر مسلم آبادی کی طرف سے مقابلہ جاتی و مسابقاتی امتحان کی کوچنگ کے لئے درخواستیں ان تک پہنچیں گی تو قوی امید ہے کہ راستہ ہموار ہو جائے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ مسلم طبقے میں بھی ہونہار طالب علم ہیں لیکن انہیں اس طرح کی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب نہیں ہوپاتے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں مقابلہ جاتی امتحانوں کی بنیاد پر ہی نوکریاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔
واضح ہو کہ بہار میں مولانا ولی رحمانی امیر شریعت بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ نے ایک خصوصی مہم ”رحمانی ۳۰“ کے ذریعہ آئی آئی ٹی اور میڈیکل ٹسٹ کے لئے مفت کوچنگ کا اہتمام کیا ہے جس کا خاطر خواہ تنیجہ سامنے آیا ہے۔اور اب ”رحمانی ۳۰“ بہار کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی اس طرح کی کوچنگ کا اہتمام کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت مولانا ولی رحمانی ایک جید عالم دین اور دانشور ہیں اور وہ عصری تعلیم اور عصری تقاضوں سے خوب واقف ہیں، اس لئے وہ اس طرح کی کوچنگ کا اہتمام کرکے اقلیتی طبقے کو بیدار کر ہے ہیں۔ بلاشبہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف تعلیم کے تئیں بلکہ معیاری اور پیشہ وارنہ تعلیم کے تئیں مسلمانوں کو بیدار کیا جائے۔ جنوبی ہند میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت شمالی ہند کے مسلمانوں کے مقابلے محض اس لئے مستحکم ہے کہ وہاں عصری تعلیم کی طرف بیداری مہم کا آغاز تین دہائی پہلے ہی ہو چکاہے۔ بہار میں تو اس طرح کی مہم کی اشد ضرورت ہے کہ یہاں کی کثیر مسلم آبادی تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہے اور دنوں دن ان کی حالت بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر حکومت اور رضاکار تنظیموں کے ذریعہ پیشہ وارانہ تعلیم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تو ممکن ہے آئندہ کچھ برسوں میں یہاں کے مسلم معاشرے کی بھی تصویر بدل جائے، کیونکہ جب تک ہماری تقدیر بدلنے کے راستے ہموار نہیں ہوتے اس وقت تک مجموعی حالت میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ یہ اےک لمحۂ فکریہ ہے اور اس پر ہم سب لوگوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے تمام تر مسائل کے حل کا راز ہماری اس بیداری میں پوشیدہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *