بہار: بالیکا گرہ کا یہ سچ جان کر روح کانپ جائے گی

پٹنہ: بہار کے مختلف اضلاع میں سرکاری خرچے سے چل رہے بالیکا گرہ (گرلس شیلٹر ہوم) میں ہونے والے جنسی استحصال کا جو سچ سامنے آیا ہے، اس سے کسی بھی انسان کا دل دہل جائے گا. یہ سچ کسی میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ ریاستی حکومت کی طرف سے کرائے گئے سوشل آڈٹ کے بعد سامنے آیا ہے. اس سوشل آڈٹ کو ٹاٹا انسٹی ٹيوٹ آف سوشل سائنس (ٹس) کے تحت “کوشش” نامی ایک ادارے نے انجام دیا ہے. میڈیا رپورٹ کے مطابق “ٹس” نے اسی سال فروری میں اپنی رپورٹ حکومت بہار کے محکمہ سماجی فلاح کو سونپی تھی جس میں مظفر پور میں واقع بالیکا گرہ میں رہنے والی بچیوں کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کی بات کہی گئی تھی. رپورٹ میں حکومت سے وہاں سے لڑکیوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے اور پورے معاملے کی جانچ کرانے کی سفارش کی گئی تھی.

مظفر پور کے بالیکا گرہ میں رہنے والی جن 44 میں سے 42 بچیوں کی پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ هاسپيٹل (پی ایم سی ایچ) میں میڈیکل جانچ کرائی گئی، اس میں پایا گیا کہ 34 کا جنسی استحصال ہوا ہے. تازہ رپورٹ کے مطابق تین بچیوں کا اسقاط حمل کرایا گیا۔ ایک بچی کو جان سے بھی مار دیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ یہ سب وہاں ہوا ہے جو بے سہارا بچیوں کو سہارا دینے کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔ ان بچیوں نے کورٹ میں بھی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان درج کرایا ہے. ملزمین میں سے برجیش ٹھاکر سمیت دس افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بچیوں نے بتایا ہے کہ انہیں نشے کی دوا کھلائی جاتی تھی اور جنسی استحصال کیا جاتا تھا. جو بچیاں تیار نہیں ہوتی تھیں، انہیں مارا پیٹا جاتا تھا اور کئی دنوں تک بھوکا بھی رکھا جاتا تھا. ان بچیوں نے بالیکا گرہ چلا رہی سیوا سنکلپ نامی غیرسرکاری سماجی تنظیم کے مالک برجیش ٹھاکر پر جنسی استحصال کرنے اور کروانے کا سنگین الزام لگایا ہے. ان بچیوں کا جنسی استحصال کروانے میں بالیکا گرہ میں کام کرنے والی خواتین کا بھی ہاتھ بتایا گیا ہے. یہ بالیکا گرہ 2013 سے چل رہا تھا اور حکومت ہر سال اس کو 40 لاکھ روپے دیتی تھی.

مظفر پور کے بالیکا گرہ میں ہوئے ریپ اور گینگ ریپ کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات سے بہار میں سیاست تیز ہو گئی ہے. بہار میں وزیر اعلی نتیش کمار پر آر جے ڈی اور کانگریس کے علاوہ ہندوستانی عوام مورچہ اور مدھے پورہ سے ممبر پارلیمنٹ اور جن ادھیکار پارٹی کے سرپرست راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بھی مورچہ کھول دیا ہے. اس سانحے کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی، جس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بیان دیا تھا کہ اگر بہار حکومت سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرے گی تو اسے منظور کیا جائے گا. پہلے تو بہار میں جے ڈی یو اور بی جے پی کی حکومت نے سی بی آئی جانچ کرانے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں اپوزیشن اور عوام کی شدید ناراضگی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی نتیش کمار نے اس کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کے لئے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے. اس دوران بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے این ڈی اے بھگاؤ، بیٹی بچاؤ کے نعرے کے ساتھ گیا سے پٹنہ تک سائیکل یاترا کی ہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *