”بہار میں اردو کا فروغ لمحہ فکر وعمل ووسائل وامکان“ پر سیمینار

1

دربھنگہ، ۲۷ اپریل (عرفان): سوشل سروسیز ٹرسٹ کے زیر اہتمام اوربہار اردو اکیڈمی کے اشتراک سے ادبی مرکز، شیر محمد بھیگو، دربھنگہ میں بدھ کو قومی سمینار بہار میں اردو کا فروغ لمحۂ فکر وعمل اور وسائل وامکانات کا افتتاح وزیر اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبد الغفور، مہمان خصوصی اقلیتی فلاح کے سابق وزیر نوشاد عالم، پرو وی سی پروفیسر سید ممتاز الدین، پروفیسر طیب صدیقی اور عقیل صدیقی کے ہاتھوں شمع روشن کرکے ہوا۔

پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر عبد الغفور نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے حکومت کو جو کام کرنا چاہئے، حکومت اس سے زیادہ کرچکی ہے۔ جب بھی ہم نے حکومت سے اردو کی ترقی کے لیے کوئی کام کرنے کو کہا، حکومت نے کردیا۔ ہم نے اپنی آمدنی کا ایک فیصد کا عشر عشیر بھی اردو زبان کے فروغ کے لئے استعمال نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اردو والوں کی جانب سے اردو کو فراموش کئے جانے کے المیے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی سماج کی زبان اور اس کی تہذیب اس سماج کی ترقی کی ضامن ہوتے ہیں۔ جب اچھائی سے منہ موڑ لیا جاتا ہے تو اس قوم کی تنزلی شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ اردو کے مسائل پر گفتگو تو کرتے ہیں، لیکن عمل نہیں ہوپاتا ہے۔ حکومت اردو کے فروغ کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔

نوشاد عالم نے کہا کہ اس حکومت میں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اردو میں کچھ بہتر سے بہتر کیا جائے۔ سرکار کی کوشش سے صرف اردو کی ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ جب تک ہم اپنے گھروں میں اردو کاا ستعمال نہیں کریں گے اردو کا فروغ نہیں ہوگا۔ ہم اپنے گھروں میں اردو اخبارات ورسائل کو مطالعہ میں نہیں رکھیں گے اور بچوں کو اردو کی تعلیم نہیں دلائیں گے اردو کا فروغ ممکن نہیں ہے۔ اردو ایک طاقتور زبان ہے اور اس کے ذریعہ دوسری زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا جاسکتا ہے۔

2

وہیں پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر سید ممتاز الدین نے کہا کہ اردو زبان کا تعلق ہماری تہذیب اور تمدن سے ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی زبان کے تحفظ کے لیے خود ہی کوشش کرنی ہوگی۔ اس وقت سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلانے کے لئے حتی الامکان کوشش کریں۔ انہوں نے اردو کے ختم ہوتے رجحان پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بچوں کے رسالوں کو بھی فروغ دینے مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت جو کتابیں آرہی ہیں اس کی زبان بڑی مشکل ہوتی ہے ۔ اس کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اردو اساتذہ کے لیے ریفریشر کورس کا اہتمام بھی کئے جانے کا بھی مشورہ وزیر اقلیتی فلاح کو دیا۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض عبد المتین قاسمی نے انجام دیئے۔ افتتاح سے قبل ڈاکٹر عقیل صدیقی اور ڈاکٹر منصور خوشتردیگر منتظمین نے گلدستہ اور چادر دے کر مہمانوں کا استقبال کیا۔ منتظمین کی جانب سے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر نظر عالم اور یورو اسٹون اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر منوج کمار کو بھی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ پروگرام کا اختتام آرگنائز ڈاکٹر عقیل صدیقی کے اظہار تشکر پر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *