بہار میں بارش کا قہر

پٹنہ: بہار کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی وجہ سے راجدھانی پٹنہ کے ساتھ ہی ریاست کے زیادہ تر شہری اور دہی علاقوں میں معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے۔ پٹنہ کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں ڈوب گئی ہیں۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر اور گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ سڑکوں پر چہار طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ پٹنہ کا تاریخی گاندھی میدان جھیل میں تبدیل ہو گیا ہے۔ لگاتار بارش کے سبب ریاست کے سہرسہ، مدھے پورہ، سپول، دربھنگہ، مدھوبنی، مظفر پور، سمستی پور اور مشرقی و مغربی چمپارن جیسے اضلاع میں 30 ستمبر تک اسکولوں میں چھٹی کر دی گئی ہے۔ پٹنہ میں سنیچر کو بہت سے اسکول کھلے رہے۔ امتحان ہونے کے سبب بچوں کو اسکول جانا پڑا جس سے بہت سے والدین بچوں کی واپسی تک ذہنی پریشانی میں مبتلا رہے۔ اس دوران وزیر اعلی نتیش کمار نے بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا اور انتظامیہ کے افسران کو متاثر افراد کی فوری امداد کرنے کی ہدایت دی۔ بہار میں چند دنوں پہلے تک جہاں خشک سالی کی صورت حال تھی، وہیں اب بہت سے علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔ گنگا، بوڑھی گنڈک اور دوسری ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ہر طرف پانی پانی ہونے سے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی پریشانی ہو رہی ہے۔ بارش سے چند ایک علاقے میں دھان کی فصل کو فائدہ ہونے کی تو امید کی جا رہی ہے لیکن مکئی اور سبزیوں کی کاشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سے سبزیوں کے دام میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ہی سے عام لوگوں کو رلانے والی پیاز اور بھی زیادہ مہنگی ہوگی جس سے باورچی خانے کے بجٹ پر اثر پڑے گا۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply