بہار میں مکمل شراب بندی ایک تاریخی قدم

ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ
ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ

بہار کی حالیہ نتیش حکومت نے محض آٹھ دنوں پہلے یعنی یکم اپریل کو ریاست میں ملکی شراب پر پابندی لگائی تھی، جس کا چہار طرف خیر مقدم کیا گیا، لیکن حزب اختلاف اور چند سماجی رضاکار تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ ریاست میں غیر ملکی شراب کی فروخت پر بھی پابندی لگائی جائے۔ شاید اس لئے گذشتہ ۵ اپریل ۲۰۱۶ کو نتیش کمار کی کابینہ نے ایک تاریخی قدم اٹھایا اور اب ریاست میں کسی قسم کی شراب کا کاروبار نہیں ہوگا۔ واضح ہو کہ گذشتہ سال جون میں نتیش کمار نے جب اپنا وژن ڈاکیومنٹ جاری کیا تھا اسی وقت انہوں نے کہا تھا کہ اس بار اسمبلی انتخاب میں انہیں کامیابی ملی تو ریاست میں شراب کے فروخت پر پابندی لگائی جائے گی۔ لہٰذا نئی حکومت کی حلف برداری کے بعد ہی نتیش کمار نے اعلان کیا کہ اپریل ۲۰۱۶ سے ریاست میں ملکی شراب کے فروخت پر پابندی لگائی جائے گی۔ چونکہ نتیش کمار اس معاملے میں دیگر سیاسی رہنماﺅں سے قدرے مختلف ہیں کہ وہ اپنے قول پر اٹل رہتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے اعلامیہ کو نافذ بھی کیا اور اب جبکہ غیر ملکی شراب کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، تو بہار میں مکمل شراب بندی کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ واضح ہو کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور جے پرکاش نارائن نے بھی شراب بندی کی وکالت کی تھی اورصالح معاشرے کے لئے شراب کو مضر قرار دیا تھا۔ ریاست بہار جو خواندگی اور اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہے، یہاں کے لئے شراب نوشی اور بھی زیادہ مضر ثابت ہورہی تھی، کیونکہ مزدور طبقہ دیسی شراب پی کر نہ صرف اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے تھے بلکہ اس کی وجہ سے ان کے خاندانی تانے بانے بھی بکھر رہے تھے۔ دیہی علاقے میں جھگڑے فساد کی جڑ میں بھی شراب نوشی ہی ہوتی تھی۔ اس کا احساس تو بہت پہلے سے حکومت کو تھا لیکن چونکہ محکمۂ آبکاری سے حکومت کو بطور ٹیکس ایک خطیر رقم فراہم ہوتی تھی، اس لئے حکومت اس پر پابندی سے گریز کرتی تھی۔ لیکن نتیش کمار کو جب یہ احساس ہو گیا کہ شراب نوشی کی وجہ سے نہ صرف غریب طبقہ بلکہ بڑے گھرانے کی نئی نسل بھی تباہ ہو رہی ہے اور اس کے منفی اثرات سماج پر پڑ رہے ہیں، تو انہوں نے سرکاری ٹیکس کی پرواہ کئے بغیر یہ جوکھم بھرا قدم اٹھایا ہے۔ بلاشبہ ان کا یہ قدم نہ صرف سیاسی اعتبار سے تاریخی ہے بلکہ سماجی اور معاشرتی اصلاحی نظریہ سے بھی ایک انقلابی قدم ہے۔ ریاست میں تو ملکی اور غیر ملکی بلکہ تاڑی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، لیکن پڑوسی ریاستوں میں اس پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے۔ بالخصوص بہار کے ایک درجن اضلاع پالی سرحد سے ملحق ہیں اور اتر پردیش کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال و جھارکھنڈ کی سرحد سے بھی ملتے ہیں اور ان ریاستوں میں شراب کی فروخت پر کسی طرح کی پابندی عائد نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بہار میں شراب بندی کے نفاذ کو عملی صورت دینا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے لئے محکمۂ  اکسائز کو ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ حکومت بہار نے اس شراب بندی قانون کے لئے جو نوٹفکیشن جاری کیا ہے، اس میں سخت سزا کی بات کہی گئی ہے۔ مثلاً اب اگر کوئی تاجر ملکی یا غیر ملکی شراب فروخت کرتے پکڑا جائے گا تو اسے دس سال کی سزا ہو سکتی ہے اور لاکھوں کا جرمانہ بھی۔ اسی طرح شراب پینے والوں کے لئے بھی یہ سزا طے کی گئی ہے کہ ایک سال سے لے کر دس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ لیکن جب کبھی حکومت کسی شے کی فروخت پر پاندی عائد کرتی ہے تو اس کی کالابازاری بھی شروع ہو جاتی ہے اور اونچی قیمت پر اس کا کاروبار پھیلنے لگتا ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں انتظامیہ بھی ملوث رہتی ہے۔ اس لئے حکومت کو ان آفیسروں پر بھی سخت کارروائی کرنی ہوگی جو اس طرح کی کالابازاری کو فروغ دینے میں معاون ہوں گے۔ اگر حکومت نے مکمل شراب بندی کا اعلان کیا ہے تو ریاست کے ہر ضلع کلکٹر کو اس کے لئے جوابدہ بنانا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ سماجی، سیاسی، مذہبی اور اصلاحی کام کرنے والی تنظیموں کے رضاکاروں کو بھی ایک خصوصی مہم چلانی ہوگی تاکہ حکومت کے منصوبے کو تقویت مل سکے، کیونکہ شراب نوشی کی پابندی کے لئے بہت سی تنظمیں کام کرتی رہی ہیں۔ اب جبکہ اس کی پابندی کے لئے حکومت نے قانون بنا دیا ہے تو ان تنظمیوں کو کام کرنے بھی آسانی ہوگی۔ اس شراب بندی کے فیصلے کا نہ صرف ریاست میں بلکہ قومی سطح پر خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ بالخصوص عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی کئی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بلا شبہ نتیش کمار کا یہ فیصلہ مجموعی اعتبار سے سماجی مفاد میں ہے کہ شراب نوشی کی وجہ سے لاکھوں خاندان تباہ و برباد ہوتے رہے ہیں اور شراب نوشی کی وجہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچتا رہا ہے۔ کیونکہ اکثر جگہوں پر فسادات کی وجہ شراب نوشی رہی ہے اور عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے معاملات میں بھی شراب نوشی ایک اہم وجہ رہی ہے۔ اس لئے اب امید بندھتی ہے کہ اس پابندی سے سماج کی بہت ساری برائیوں پر بہ آسانی قابو پایا جاسکے گا۔ لیکن حکومت کو ایک اہم کام یہ بھی کرنا ہوگا کہ جو افرادشراب کے عادی ہیں ان کے لئے طبی سہولیات بھی فراہم کرانی ہوگی کیونکہ اچانک شراب بندی سے بہتیرے عادی شرابیوں کی صحت پر بھی مضر اثرات پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ حکومت نے تمام ضلع کلکٹر کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس پر کڑی نگاہ بھی رکھنی ہوگی۔ حکومت کو ایک اہم قدم یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ نشہ کرنے کے متبادل ذرائع مثلاً نشہ آور ادویات و یگر اشیاء پر بھی پابندی لگانی ہوگی ورنہ اس شراب بندی سے نشہ آورادویات کے بازار کو فروغ ملے گا اور اس کے بھی مضر اثرات ہوں گے۔ مختصر یہ کہ حکومت تو قانون بناتی ہے اور اس کے نفاذ کے لئے اقدام کرتی ہے لیکن کسی بھی قانون کے نفاذ میں صد فی صد کامیابی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک ہمارا معاشرہ حکومت کے فیصلے کا حامی نہ ہو۔ بالخصوص شراب بندی جیسی اصلاحی کوشش میں عوام الناس کا بھرپورتعاون لازمی ہے۔ اس لئے سماج کے بیدار طبقے کو بھی آگے آنا ہوگا اور معاشرتی اصلاح کے لئے کام کرنا ہوگا۔ بالخصوص شراب کے عادی افراد کے ساتھ مل بیٹھ کر اسے سمجھانا ہوگا اور اس کے تئیں ہمدردی بھی جتانی ہوگی کیونکہ برسوں سے شراب کے عادی اچانک شراب بندی کی وجہ سے کئی طرح کے طبی و نفسیاتی امراض کے شکار ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *