بہار کی یونیورسٹیوں میں مطلق العنانیت کا ماحول :عبد الجبّار

متھلا یونیورسٹی میں غیر سماجی عناصر کے اشارے پر کارروائی افسوسناک: ڈاکٹر بھرت رائے

LNM University

دربھنگہ، ۴ جولائی (نامہ نگار): بہارکی یونیورسٹیوں میں گذشتہ دو برسوں سے جس طرح کی افراتفری کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اور اعلیٰ عہدیداران نے اپنی مطلق العنانیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ حکومت کے قابو سے باہر ہو گئی ہے، ورنہ جس طرح کا ماحول پیدا ہوا ہے وہ نہیں ہو پاتا۔ آج بیشتر یونیورسٹی غیر سماجی عناصر کے قبضے میں ہے۔ سینکڑوں معاملات چانسلر یعنی گورنر موصوف کے یہاں زیر سماعت ہیں اور بڑی تعداد میں ہائی کورٹ پٹنہ میں مقدمے چل رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اور چانسلر موصوف کی توجہ اس طرف نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن عبدالجبّار نے اپنے پریس بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پاٹل صاحب کے وقت میں وائس چانسلروں کی بحالی میں جس طرح کی بدعنوانی ہوئی اس کا ثبوت یہ ہے کہ جے پی یونیورسٹی چھپرہ اور ویر کنور سنگھ یونیورسٹی آرہ کے وائس چانسلر کو پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم نامے کے مطابق عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے، جب کہ ایل این متھلا یونیورسٹی دربھنگہ کے وائس چانسلرڈاکٹر ساکیت کشواہا کی اہلیت پر بھی سوال کھڑا ہے اور ان کے خلاف بھی معاملہ عدلیہ میں زیر سماعت ہے۔

گذشتہ شب بہار کے وزیر تعلیم ڈاکٹر اشوک چودھری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ یونیورسٹیوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ واضح ہو کہ ان دنوں سب سے بدتر حالت ایل این متھلا یونیورسٹی دربھنگہ کی ہے کہ جہاں ایک غیر سماجی عناصر کے اشارے پر درجنوں اساتذہ اور پرنسپل پر بے بنیاد الزام عائد کر ان کا تبادلہ اور معطلی کردی گئی ہے۔ گذشتہ دو برسوں سے قومی میڈیا میں خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ ایک مبینہ آر ٹی آئی کا رکن روہت کمار کے ذریعہ یہاں کے اساتذہ، ملازمین اور پرنسپل حضرات کو پریشان کیا جارہا ہے، جبکہ اس مبینہ آرٹی آئی کارکن کے خلاف یونیورسٹی تھانہ میں دو مقدمے درج ہیں اور دونوں میں وہ چارج شیٹڈ ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق، یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کے ذریعہ اسی مبینہ آرٹی آئی کارکن سے درخواست لے کر جانچ کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور من گڑھت رپورٹ تیار کرائی جاتی ہے، جبکہ آر ٹی آئی اصول کے مطابق صرف اسے اطلاع دی جا سکتی ہے اور اگر کوئی آر ٹی آئی کارکن یونیورسٹی کی اطلاع سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ ریاستی اطلاعاتی کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن، یہاں ایک سازشی کاروبار چل رہا ہے اور یونیورسٹی کا پورا تعلیمی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ وائس چانسلر کی مطلق العنانیت کے خلاف سینکڑوں عرضداشتیں حکومت کو بھیجی جا چکی ہیں، مگر اب تک کوئی کاروائی نہیں ہو سکی ہے۔ نتیجہ ہے کہ آج یونیورسٹی غیر سماجی عناصر کے قبضے میں ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹرانسفر، پوسٹنگ اور معطلی کے ذریعہ خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ مجبوراً اساتذہ اور ملازمین ہائی کورٹ پہنچ رہے ہیں اور وہاں کے آرڈر کے نفاذ میں بھی طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں ایم ایل ایس ایم کالج دربھنگہ کے پرنسپل ڈاکٹر ڈی سی چودھری کو جب ہائی کورٹ پٹنہ کے ذریعہ راحت دی گئی تو پھر ایک سازشی رپورٹ کے ذریعہ انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ دیگر کئی پرنسپل کے خلاف بھی اسی طرح کی بے بنیاد رپورٹ تیار کرائی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکومت بہار کے محکمۂ تعلیم نے متھلا یونیورسٹی میں اس طرح کے ماحول پر فکرمندی ظاہر کی ہے اور ایک جانچ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، لیکن اب تک جانچ کمیٹی کا دورہ نہیں ہو سکا ہے۔ ادھر نجی کالج یونین کے صدر ڈاکٹر بھرت رائے نے بھی وزیر تعلیم بہار اور گورنر موصوف کو یونیورسٹی کے حالات سے آگاہ کرنے کے لئے عرضداشت بھیجی ہے اور گذارش کی ہے کہ متھلا یونیورسٹی کو غیر سماجی عناصر سے پاک کیا جائے اور یہاں تعلیمی شعبے میں نمایاں کام کرنے والوں کو جس طرح بدنام اور ہراساں کیا جارہا ہے اس پر فوری روک لگائی جائے۔

بہرکیف، اب متھلانچل میں غم وغصّہ بڑھتا جارہا ہے کہ یونیورسٹی میں تعلیم و تعلّم کی جگہ سازشوں اور بہتان تراشیوں کا بازار گرم ہے اور غیر سماجی عناصر نے یونیورسٹی کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے، جس پر حکومت کو فوری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *