بہن جی سنپتی پارٹی بن گئی ہے بی ایس پی: مودی

اقتدار ملا تو بندیل كھنڈ کو گجرات کے کچھ کی طرح فروغ دونگا: وزیر اعظم

لکھنؤ، (نامہ نگار): وزیر اعظم نریندر مودی نے پسماندگی کا شکار بندیل كھنڈ کے اوری میں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ قدرت نے اس خطے کو سب کچھ دیا لیکن بدقسمتی سے آپ نے ریاست میں ایسی حکومتیں بنائیں جنہوں نے آپ کو تباہ کر دیا. یوپی کی حالت خراب ہے اور اس میں بھی بدترین صورت حال بندیل کھنڈ کی ہے. ایس پی – کانگریس اور بی ایس پی نے بندیل کھنڈ کو تباہ کر دیا. یہ سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں. بندیل کھنڈ کو طے کرنا ہوگا کہ اس چکر سے نکلنا ہے کہ نہیں.

مودی نے نوٹبندی کے معاملے میں ایس پی – بی ایس پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا: نوٹبندی کے بعد جب میں نے کالے دھن کا حساب مانگا تو سب ایک ہو گئے. ایس پی – بی ایس پی کانگریس سب ایک ہو گئے. اگر نوٹبندی کا اعلان پہلے ہی کر دیتا تو لوٹنے والے لوٹ کر چلے جاتے. انہیں نوٹبندی سے پریشانی ہے کیونکہ تیاری کرنے کا موقع نہیں ملا. اب تو بی ایس پی کا نام ہی بدل گیا ہے، اب وہ بہن جی سنپتی پارٹی بن گئی ہے.

مودی نے کہا: آپ نے تمام جماعتوں کو پرکھ لیا. وہ 70 سال میں پانی تک نہیں دے پائیں. میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ پورے بندیل کھنڈ سے انہیں چن چن کر صاف کر دیجیے. یہاں کی صورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے دہلی کے ساتھ ہی لکھنؤ کا انجن بھی بی جے پی کے سپرد کردیں. بندیل کھنڈ کو ترقی کا پلیٹ فارم بنائیں گے اور اس کی نگرانی کی جائے گی. یہاں پر زمین مافیا اور کان کنی کے غیر قانونی ٹھیکیداروں کی دہشت گردی ہے، جنہیں اقتدار کا تحفظ ملا ہوا ہے. بی جے پی اقتدار میں آئی تو ہم املاک کو بچانے کے لیے سیٹلائٹ کا استعمال کریں گے. غیر قانونی طور پر کان کنی کرنے والوں پر کارروائی کی جائے گی. مہم چلائی جائے گی. اسپیشل سیل بنایا جائے گا. ملزمین کو جیل میں ڈالا جائے گا.

وزیر اعظم نے بندیل کھنڈ اور ریاست کی خراب صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: بنیادی تعلیم اور فی کس آمدنی کے معاملے میں یوپی ملک کی پہلی 20 ریاستوں میں بھی نہیں ہے. بچے غذائی قلت کا شکار ہیں. ایس پی یا بی ایس پی کی حکومت بننے پر یہاں کے تھانے پارٹی دفتر بن جاتے ہیں. مودی نے بندیل کھنڈ کی ترقی کے لیے اپنا وژن بتاتے ہوئے گجرات کے کچھ کی مثال دی اور کہا کہ اسی طرز پر اس خطے کو ترقی دی جائے گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *