بے سہارا لڑکی کو خواتین کے گروپ نے سہارا دیا

اوشارائے
اوشارائے

یوپی کے ۴۲ اضلاع میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار خواتین کا خود مددگار گروپ ’راجیو گاندھی مہیلا وکاس‘ پروجیکٹ کی چھتری تلے موجود ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد کو خود مددگار گروپ نے زندگی کی اقتصادی مایوسی اور الجھنوں سے باہر نکال کر ان کی زندگیوں کو ایک بہتر سمت دی ہے۔ مذکورہ گروپ نے ان خواتین کو بینک کے حکام اور ضلع انتظامیہ سے نہ صرف متعارف کرایا ہے بلکہ انہیں معاملات حل کرنے اور گروپ کی قیادت کرنے کا ہنر بھی سکھایا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ زچگی سے لے کر بچوں کی تعلیم و تربیت کا گُر بھی سکھاتی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی کو کتنا آسان بنایا جاسکتا ہے اس کی مثال خواتین کے اس گروپ میں باآسانی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔

اتر پردیش کے ضلع سلطان پور بلاک کے دوبے پورکے تحت بندھوواکڑا گاؤں آباد ہے۔ اس گاﺅں میں مذکورہ گروپ نے ایک نوزائیدہ بچی کو گود لیا ہے۔ سخت سردی کے موسم میں ٹھنڈ سے کانپتی، کمزور، بھوکی اور بے سہارا لڑکی کو پیدائش کے بعد اس کی ماں نے اس کو بے سہارا چھوڑ کر اس دنیا کو الوداع کہہ کر داعی اجل کو لبیک کہا۔ مگءر قدرت نے اس کے ساتھ زیادتی نہیں کی، بلکہ اب اس نوزائیدہ لڑکی کی ۵۵ سالہ نئی ماں گنگا دیوی مل گئی ہے۔ اس سلسلے میں خود مددگار گروپ کی ممبر گنگا دیوی تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ کو میں نے دماغی طور پر معذور ایک حاملہ خاتون کو انتہائی مخدوش حالت میں لکھنؤ/کولکاتہ ہائی وے پر پڑاہوا پایا، تو میں نے اپنے گھر سے اس کو پہننے کے لئے پیٹی کورٹ، بلاﺅز اور ساڑی دی، کھانے کا انتظام کیا اور رہنے کے لئے اپنے گھر میں جگہ دی۔ مگر جب رات کی تاریکی میں وہ درد زہ کی حالت میں مبتلا ہوئی تو ایک دایہ کو مدد کرنے کے لئے بلایا۔ آخر کار ایک ننھی منی سی دیوی نے ’’ایکتا‘‘ کے روپ میں یکم جنوری کو اس دنیا میں جنم لیا۔

مسکراتی ہوئی گنگا دیوی کے ساتھ ایکتا کی ہنسی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے
مسکراتی ہوئی گنگا دیوی کے ساتھ ایکتا کی ہنسی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے

اگلی صبح جب گنگا دیوی اپنے کمرے سے نکل کر باہر والے گھر میں گئی جہاں وہ بے سہارا عورت اپنی بچی کے ساتھ رہتی تھی، تو یہ دیکھ کر گنگا حیران رہ گئی کہ اس عورت کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ نوزائیدہ بچی ایک کونے میں ایک کپڑے میں لپٹی پڑی تھی۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ اس کی دونوں آنکھوں سے خون بہہ رہا ہے۔ اس نے فوراً بچی کی آنکھوں کو صاف کیا اور گائے کا تازہ دودھ پلانے کے بعد ڈاکٹر کو علاج کے لئے بلوایا۔ گنگا دیوی کے کندھوں پر اچانک نوزائیدہ زخمی بچی کا بوجھ پڑگیا تھا۔۔ ڈاکٹر نے علاج کے بعد صلاح دی کہ اس کو فوراً کسی بڑے اسپتال میں لے جانے کی ضرورت ہے تا کہ اس کی آنکھوں کو بچایا جاسکے۔ ڈاکٹر کو بچی کی اصلیت پتا چلی تو اس نے بھی اپنی جیب سے اس لڑکی کی مدد کی۔ گنگا دیوی نے علاج ومعالجہ کے ساتھ ہی ایکتا کی ماں کی بھی تلاش کرنا شروع کردیا۔ معلوم یہ ہوا کہ رات کی تاریکی میں ایک تیز رفتار ٹرک نے نوزائیدہ بچی ایکتا کی ماں کو اس سے جدا کر دیا تھا کیونکہ ایک خاتون کی لاش سڑک کے کنارے ہائی وے پر ملی تھی، جس کو دیکھ کر گنگا دیوی نے اپنی مہر تصدیق لگادی کہ یہ وہی عورت ہے جس کو میں نے اپنے گھرمیں پناہ دی تھی۔ گنگا دیوی کہتی ہیں کہ اس عورت کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہار یا بنگال کی باشندہ تھی، جو اَب اس دنیا میں نہیں رہی۔

ایکتا کی کہانی ایک ایسی کرن ہے جو ہمارے معاشرے میں بہت کم ہی نظر آتی ہے۔ گنگا دیوی اور اس کے مونگ پھلی فروخت کرنے والے شوہر بہت مالدار نہیں ہیں، مگر ا ن میں وہ انسانیت کا جذبہ ہے جس پر ہزاروں مالداری قربان کی جاسکتی ہے۔ اب گنگا دیوی اور اس کے شوہر ہی ایکتا کے والدین ہیں، حالانکہ خود مددگار گروپ کی تمام خواتین ایکتا کو اپنی بیٹی تسلیم کرتی ہیں۔ قدرت نے ایکتا سے ایک ماں واپس لیا تو اس گروپ کی سیکڑوں ماﺅں نے ایکتا کے لئے اپنے آنچل پھیلادیے۔ اب عالم یہ ہے کہ اس کی سالگرہ ہر سال ۱ جنوری کو خود مددگار گروپ کی بلاک سطح پر ایسوسی ایشن کی طرف سے منایا جاتا ہے جس میں اس کے لئے نئے کپڑے، مٹھائیاں، تحائف اور تعلیم وتربیت و پرورش کے لئے فنڈ یکجا کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اس کی پیدائش کی سرٹیفکیٹ نہیں بنی ہے کیونکہ اس کے والدین کے بارے میں کسی کو کوئی پتا نہیں ہے۔ حالانکہ اس کا نام گنگا دیوی کے تین بیٹوں کی ایک بیٹی کے طورپر راشن کارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔

خواتین کے خود مددگار گروپ کی اس لڑکی سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس لڑکی کے نام پر ایک فنڈ بنایا گیا ہے۔ اس ’’ایکتا فنڈ‘‘ میں جمع کرائی جانے والی رقم اب بڑھ کر ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ سال رواں کے ماہ جون کے وسط میں جب راقم الحروف ایکتا سے ملی، تو وہاں جشن کا ماحول تھا کیونکہ ایکتا نے سرسوتی سی شو ودیا مندر میں پہلی جماعت میں داخلہ لیا تھا، جہاں کی داخلہ فیس ۸۰۰ روپے ہے جبکہ ٹیوشن فیس ۲۰۰ روپے ہے جو خواتین کے خود مددگار گروپ کی طرف سے مہیا کرائی گئی ہے۔ گرامین بینک کے ڈائریکٹر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی شادی کے اخراجات وہ اُٹھائیں گے۔ جب کہ راجیو گاندھی مہیلا وکاس پریوجنا(RGMVP)  اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ گود لینے والی اس کاروائی کو قانونی شکل دے دی جائے تاکہ ایکتا اپنے گھر کی خوشی حاصل کرسکے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *