تخلیقی آگہی و تنقیدی شعور سے معمور تھے ظہیر غازی پوری: ارتضیٰ کریم

معروف شاعر و ادیب ظہیر غازی پوری کے انتقال پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر کا اظہار تعزیت

نئی دہلی: کہنہ مشق ادیب اور معروف شاعر ظہیرغازی پوری کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ظہیر غازی پوری معاصر شعری منظرنامے کا ایک معتبر نام تھے۔ ان کی وفات سے اردو زبان و ادب کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ وہ شاداب ذہن و فکر کے حامل تھے۔ تخلیقی آگہی کے ساتھ ان کے اندر غیرمعمولی تنقیدی بصیرت بھی تھی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ان کے تنقیدی کارنامو ں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تخلیقی اور تنقیدی میدان میں جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ تثلیث فن، الفاظ کا سفر، آشوب نوا، سبز موسم کی صدا، لفظوں کا پرند،دعوت صد نشتر وغیرہ ان کے شعری مجموعے ہیں جن سے ان کی تخلیقی قوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اردو دوہے‘ پر ظہیرغازی پوری کاجو تحقیقی اور تنقیدی کام ہے، وہ اس صنف سے دلچسپی رکھنے والو ں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مطالعۂ اقبال کے بعض اہم پہلو کے ذریعے اقبالیات شناسی میں بھی اضافہ کیا ہے۔اس کے علاوہ جھارکھنڈ اوربہار کے اہل قلم پر ان کی کتاب قابل ستائش ہے۔ ان تمام تنقیدی کتابوں سے ان کی تنقیدی بصیرت، ژرف نگاہی، استدلالی انداز کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ظہیرغازی پوری ایک متحرک اور فعال قلم کار تھے اوربرصغیر کے تمام مقتدر رسائل میں ان کی تخلیقات نہایت اہتمام سے شائع ہوتی تھیں۔عروض پر ان کی بہت گہری نگاہ تھی۔ ادبی دنیا میں وہ ایک ناقد، محقق ، شاعر و عروض داں کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *