ترکی: آخر طیب اردگان کو کیا ہوگیا ہے؟

 

ممتاز میر، برہانپور

معلوم نہیں انسانوں کو یہ و ہم کیوں ہو جا تا ہے کہ ان کے بغیر اس دنیا کا کاروبار بطریق احسن چل ہی نہیں سکتا۔ اس دنیا میں ازل سے ابد تک کا سب سے اچھا حکمراں حضرت عمر فاروقؓ تھے جن کا دور حکومت مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی دیکھنے کے متمنی ہیں۔ لیکن ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے بھی کاروبار حکومت اپنے ساتھیوں کے مشورے سے ہی چلایا۔ صرف ایک واقعہ تاریخ میں عراق کی زمینوں کا ایسا ملتا ہے جس میں وہ ایک طرف اور تمام صحابۂ کرامؓ دوسری طرف تھے۔ دونوں ہی قرآن کی آیات سے اپنی بات ثابت کرتے تھے۔ یہ بحث تین دن تک چلی۔ بالآخر صحابۂ کرامؓ نے حضرت عمر کی دلیل کو تسلیم کر لیا۔ مگر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان دلیل نہیں حکم دیتے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے قریب ترین ساتھی احمد داؤد اوغلو جنھیں ترکی کی خارجہ پالیسی کا معمار سمجھا جاتا ہے، پچھلے دنوں ترکی کی وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ احمد داؤد اوغلو رجب طیب اردگان اور اور عبداللہ گل کے ساتھ AKP کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ہیں۔ عبداللہ گل ترکی کے سابق صدر تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس وقت ترکی کی وزارت عظمیٰ اور پارٹی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھایا جب رجب طیب اردگان جیل میں تھے۔ رجب طیب اردگان جب جیل سے باہر آئے تو عبداللہ گل نے ان کے لئے ترکی کا تخت خالی کیا۔ اردگان وزیر اعظم بنے اور گل کو صدر بنایا گیا۔ مگر پھر گل کی خیر خواہانہ تنقید اردگان کی پیشانی پر بل ڈالنے لگی۔ ان کی معیاد صدارت ختم ہوتے ہی انھیں nowhere کر دیا گیا۔ آج پھر معمولی اختلافات اور خیر خواہانہ تنقید کی بنا پر اوغلو کو nowhere کیاجا رہا ہے۔ رجب طیب اردگان Absolute Power کی تلاش میں ہیں اور اسی لئے صدارتی طرز حکومت کا ڈول ڈالا جارہا ہے۔ حیرت ہے کہ ان جیسا غیر معمولی دانشور کیا ہٹلر کے انجام سے بے خبر ہے۔ سراب کے پیچھے اس دوڑ میں ان کا جو بھی انجام ہو ہمیں اس سے دلچسپی نہیں۔ ہم ترکی کے انجام سے ڈرتے ہیں۔ ہمارے لئے ترکی فی الوقت ’’ترکش مارا خدنگ آخریں‘‘ ہے۔ کل تک اسی جگہ ایران تھا۔ مگر وہ تو دن بدن طاقتور ہو رہا ہے اور امت مسلمہ دن بدن کمزور۔ عالم اسلام میں موجود ہم جیسے لوگ ہر ابھرنے والے سورج کو بڑی امید سے دیکھتے ہیں اور جب وہ سورج غروب ہوتا ہے تو اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں۔ ہم گذشتہ ایک دہائی سے رجب طیب اردگان کے بڑے مداح ہیں۔ مگر گذشتہ تین چار سالوں کے دوران ان کے خلاف کئی مضامین لکھ چکے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان کا سورج بھی غروب ہو جائے۔ صحابۂ کرام نے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمرؓ کو تلوار سے سیدھا رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔ آج کے زمانے کے مطابق ہم اپنے ممدوح کو قلم سے سیدھا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اکثر و بیشتر ترکی کے اخبارات پڑھتے ہیں۔ ذیل میں ہم وہ باتیں درج کر رہے ہیں جو رجب طیب اردگان اور احمد داؤد اوغلو میں اختلافات کا سبب بنیں۔

وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو چاہتے تھے کہ دسمبر ۲۰۱۳ میں جن وزراء پر کرپشن کے الزامات آئے تھے وہ سپریم کورٹ میں جا کر اپنی بریت ثابت کریں۔ مگر اردگان کے نزدیک اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیا اس سے یہ شبہ نہیں ہوتا کہ دال میں کچھ کالا ہے؟

نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن MIT کے سربراہ حاکن فدان نے جون ۲۰۱۵ میں احمد داؤد اوغلو کی اجازت سے انتخاب لڑنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ بات اردگان کو پسند نہ آئی اور انھیں جبراً اپنے عہدے پر واپس جانے کے لئے مجبور کردیا گیا۔ ہمارے نزدیک بھی یہی مناسب تھا۔ حاکن اپنی فیلڈ میں حد درجہ پیشہ ور ہیں۔

گزشتہ انتخابات جون ۱۵ اور نومبر ۱۵ میں فہرست امیدواران بھی تنازعے کا سبب بنی اور بالآخر سب کواردگان کی پسند کے سامنے سر جھکانا پڑا۔

بنالی یلدرم،جو کہ اردگان کے قریب ہیں ان کی وجہ سے بھی انتخابات میں فہرست امیدواران کا تنازعہ کھڑا ہوا تھا کیونکہ اردگان اوغلو کی جگہ یلدرم کو اہمیت دے رہے تھے۔

داؤد اوغلو جون ۱۵ کے الیکشن کے بعد coalition گورنمنٹ بنانا چاہ رہے تھے مگر اردگان نئے انتخابات کے حق میں تھے اب اوغلو کے استعفے کے بعد سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار ایک بار پھرنئے انتخابات کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں ۔ایک سال وقفے میں تین انتخابات ترکی جیسے ملک کی معیشت کے لئے کیا اچھی بات ہے؟

بنالی یلدرم اور بیرات البیرک[اردگان کا داماد]ان دونوں کو اردگان کی خواہش کے خلاف نئی کابینہ میں گھسایا گیا۔

سابق ڈپٹی پرائم منسٹر بلند ارنک کی اوغلو سے قربت اوغلو اور اردگان کے مشیران کے درمیان رسہ کشی کی وجہ بن گئی۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا تھا کہ داؤد اوغلو صدارتی طرز حکومت کی مناسب طریقے پر اشاعت نہیں کر رہے ہیں ۔مبصرین نے ان کے تعلق سے یہ تک کہا کہ اگر انھوں نے صدارتی طرز حکومت کی حمایت کی تو وہ خود کی نفی کر رہے ہونگے۔

داؤد اوغلو نیا دستور جلد سے جلدتیار کر لینا چاہتے تھے مگر اردگان کی مداخلت پر اس عمل کو دھیما کرنا پڑا

اردگان نے اوغلو کی اس تحریک پر سخت رد عمل کا اظہار کیا کہ سیاستدانوں جائداد اور انتخابی اخراجات کو شفافTransparent ہونا چاہئے

داؤد اوغلو نے طویل عرصے تکHDPممبران پارلیمنٹ سے تحفظImmunity ہٹانے کے لئے کوئی اقدام نہ کیا جبکہ اردگان اس مسئلے پر بیانات پر بیانات دے رہے تھے۔

غیر قانونی کردستان ورکرس پارٹیPKK کے تعلق سے اوغلو کا موقف تھا کہ اگر پارٹی مئی ۲۰۱۳کے اپنے موقف پر واپس آجاتی ہے تو پھر اس سے ہر مسئلے پر مذاکرات ممکن ہے مگر اردگان کے نزدیک کردش مسئلے کا حل صرف فوج ہی ہے۔

بنیادی طور پر اوغلو ان زیر حراست معلمین کے خلاف کیس چلانے کے خلاف تھے جنھوں نے ملک کے جنوب مشرق میں فوجی کاروائیوں کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط کئے تھے جبکہ اردگان ان کے خلاف سخت بیانات دے رہے تھے۔

انتخابات کے بعداوغلو نے ایک سرکیولر جاری کیا تھا جسمیں ایسے نازک معاملات کو ٹھنڈے بستے میں ڈالا گیا تھا جس میں معاشی افسران اور گورنرس ملوث ہوں مگر یہ حکم بھی اردگان کی مداخلت پر واپس لینا پڑا۔

کم حریت اخبار کے دو صحافی دنڈر اور گل کی رہائی بھی اوغلو اور اردگان کے درمیان وجہ اختلاف بنی

احمد داؤد اوغلو کی امریکی صدر اوبامہ اور نائب صدر جو بائڈن سے ہونے والی ملاقات بھی اسلئے ملتوی کر دی گئی کہ اس کی وجہ سے ترکی کے صدارتی محل کو کچھ پریشانی تھی۔

ترکی کی حکمراں پارٹی کے انتظامی بورڈ نے ۲۹۔اپریل کوداؤد اوغلو کا ضلعی اور ریاستی سربراہ مقرر کرنے کا اختیار ختم کردیا تھا اور یہ رجب طیب اردگان کے ایماء پر ہوا تھا ۔اور شاید یہی بات اوغلو کی وزارت عظمیٰ کے لئے آخری کیل ثابت ہوئی۔

اب ان تمام وجوہات کو دیکھ جائیے کیا یہ ایسی ہیں جن پر افہام و تفہیم نا ممکن تھی۔کیا ان کے لئے احمد داؤد اوغلو کو استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔ مگر رجب طیب اردگان کی بلا شرکت غیرے اقتدار کا مزہ لوٹنے کی خواہش absolute Powerحاصل کرنے کے غلبے نے پہلے عبداللہ گل اور اب احمد داؤد اوغلو کو ان سے دور کروایا۔انہی لوگوں کے ساتھ مل کر انھوں نے AKP کی بنیاد رکھی تھی ۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے نزدیک AKPاب ناقابل تسخیر بن چکی ہے۔اب انھیں ان ساتھیوں کی ضرورت نہیں جو سیدھا راستہ دکھائیں ۔اب انھیں ان کی شہنشاہیت کے گن گان کرنے والے چمچوں کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اردگان کی انٹیلیجنس لیول ،قوت فیصلہ ،عالمی حالات کا فہم بہادری و بیباکی نہایت غیر معمولی ہے۔مگر ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ازل سے ابد تک کا کامل ترین انسانﷺبھی اپنے ساتھیوں سے مشورے کرتے تھے اور کبھی کبھی اپنی ذاتی رائے کے خلاف ان کے مشورے قبول بھی کرتے تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *