تشددکے پس پشت!

Asif Iqbal

اگر ہماری او ر آپ کی پہچان تشدد بن جائے تو سوچئے کس شناخت کے ساتھ ہم اپنے گھر،خاندان،محلے،علاقہ،گاﺅں و قصبے اور چھوٹے و بڑے شہروں میں زندگی گزار پر مجبور ہوجائیں گے۔ ساتھ ہی وہ افراد جوہمارے اطراف پائے جاتے ہیں وہ ہمیں کس نظر سے دیکھیں گے؟ ان دوصورتوں کے علاوہ ایک اور صورت جو عالمی پیمانہ پر ہماری بنتی جا رہی ہے وہ بھی کچھ اچھی نہیں ہے۔ ہماری پہچان، یعنی ہندوستان اور ہندوستانیوں کی پہچان۔ ہماری پہچان، یعنی ملک میں موجود برسر اقتدار افراد، گروہ اور حکومتوں کی پہچان۔یہ وہ تشویشناک صورتحال ہے جوخصوصاً ملک کے موجودہ منظر نامہ میں تو عموماً ہریانہ کے جاٹ ریزرویشن تحریک کی روشنی میں دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔ صورتحال کے پس منظر ہی میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسلام جسے عموماً تشدد اور دہشت گردی جیسے ناموں سے موسوم کیا جا تا ہے، اس سے صرف نظر کہ واقعہ کیا ہے۔ کیاواقعی اسلام اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر افراد، گروہ اور برسر اقتدار لوگ تشدد اختیار نہیں کرتے؟ اور اگر وہ تشدد میں مبتلا ہوتے ہیں اور بہت ہی منظم انداز میں توکیوں کر وہ دہشت گرد نہیں کہلاتے؟ ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن تحریک نے جس طرح صرف دس بارہ دنوں کے اندر پوری ریاست میں خوف کا ماحول پروان چڑھایا اور ریاست اور عوام کو جس طرح ہر قسم کے نقصانات براشت کرنے پڑے، کیا ان سرگرمیوں کو امن و امان کے ساتھ انجام دی جانے والی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا؟ ایک معمولی جائزہ ہی خوب اچھی طرح واضح کر دیتا ہے کہ یہ تحریک جس کا آغاز راستہ جام سے شروع ہوا، جب وہ اپنے شباب پر پہنچی تو اس نے امن و امان کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہر قسم کا تشدد اختیار کیا۔ نہ صرف تشدد اختیار کیا بلکہ سماج کے تانے بانے میں بھی سیند لگائی ۔

آپ جانتے ہیں کہ ریاست ہریانہ کی کل آبادی کا انتیس فی صد سیاسی طور جاٹ برادری پر مشتمل ہے جو اثر و رسوخ کے لحاظ سے انتہائی با اثر ہیں۔ زراعت کے شعبے سے وابستہ جاٹ برادی کی اکثریت ہریانہ، پنجاب، دہلی، راجستھان اور اتر پردیش کی ریاستوں میں مقیم ہے۔ کل آٹھ کروڑ پچیس لاکھ جاٹ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں آباد ہیں۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی اپنے قدم مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں جاٹ برادری کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو ا ہے۔ جاٹ ریزرویشن تحریک کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا جبکہ ریاستی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ معاشی طور پر غیر مستحکم افراد کے کوٹے میں جاٹ برادری کا حصہ دس سے بڑھا کر بیس فی صد کر دیا جائے گا۔ جاٹوں کے مطالبات گزشتہ کئی سالوںسے نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں۔ آغاز میں انتہائی نچلی سطح پر ہونے والے احتجاج کا کسی نے نوٹس نہ لیا مگر گزشتہ ہفتے اس تحریک میں شدت آئی تو عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی۔ ہریانہ میں تحریک کے اثرات جاٹ اکثریتی علاقوں میں زیادہ رہے ہیں۔ بالخصوص روہتک، سونی پت، جھجھر، جند اور بھوانی میں۔ ڈی ایچ اوہریانہ کے مطابق تحریک کے دروان ہوئی جھڑپوں میں تیس لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کی روشنی میں اب تک تقریباً دوسو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ 33 بسیں جلائی گئیں، 99 تباہ ہوئیں۔ ہریانہ روڈ ویز کو 15 کروڑ کا نقصان ہوا۔ ریل سروس ٹھپ ہونے سے محکمہ کو 100 کروڑ کا نقصان ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ کی روہتک شاخ متشدد لوگوں نے خاک میں ملادی۔ تحریک کے دوران آتش زنی اور توڑ پھوڑ سے 20 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا۔ دوران تشدد 17 ہزار پیڑوں کو کاٹا گیا، جنہیں سڑکیں جام اور ریلوے ٹریک پر لگایا گیا۔ سب سے زیادہ 1500 پیڑ جیند، 3300 بھیوانی، 2400 ہسار، 1200 جھجھر، 1391 سونی پت، 1020 کیتھل اور 968 روہتک میں کاٹے گئے۔ تشدد کے دروان مرتھل اور دیگر علاقوں میں تقریباً 50 خواتین کی عصمتیں مجروح ہوئیں تو وہیں بے شمار خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کے واقعات رونما ہوئے۔ ایسو چیم نے اس پورے تشدد کے دوران ہوئے نقصان کو 34 ہزار کروڑ کا نقصان بتایا ہے جو ملک اور ریاست کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔

ہندوستان میں جاری تشدد کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟ اس کو بھی سمجھنا چاہیے۔ تشدد کی ایک بڑی وجہ جہالت ہے تووہیں لاءاینڈ آرڈر کی خراب صورتحال بھی کچھ کم وجہ نہیں ہے۔ نفرت کی بنیاد پر قائم ہونے والی فکر تشدد میں چنگاری کا کام کرتی ہے۔ لیکن جب یہ چنگاری بھڑک جاتی ہے تو یہیں نفرت پر مبنی فکر اور اس سے وابستہ افراد کو اپنی چپیٹ میں لے لیتی ہے۔ گرچہ ایسا کم ہوتا ہے لیکن پھر بھی جب اور جیسے انہیں موقع ملتا ہے نفرت اور تشدد کی آگ میں جو گرچہ دوسروں کے لیے پروان چڑھائی گئی تھی، وہ اس آگ میں بری طرح نہ صرف جھلستے ہیں بلکہ خاک و خون کی ہولی کھیلنے سے بھی نہیں چوکتے۔ تشدد کی ایک اور وجہ ہے جوسب سے اہم ہے وہ سماجی تانہ بانہ ہے جس پر ہندوستانی کی سماج کی تعمیر ہوئی تھی اور جسے ایک بار پھر بڑی قوت اور منصوبہ بندی کے ساتھ قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ ان تعلیمات میں آغاز و اختتام انسانوں پر انسانوں کا ہی تشدد دکھایا گیا ہے، لہذا فکر سے وابستگی اختیار کرتے ہوئے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ یہ تشدد کہیں اعلیٰ و انیٰ ذات کی شکل میں توکہیں معا شی بنیادوں پر، کہیں مذہبی بنیادوں پر تو کہیں راجا اور پرجا کی شکل میں، یعنی طاقت کے توازن کی بنیاد پر۔ لہذا مخصوص فکر سے وابستہ افراد و گروہ کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ عام یا مخصوص حالات میں تشدد سے گریز کریں۔ برخالاف اس کے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہر قسم کے تشد د سے روکا گیا ہے اور بہت حد تک مسلمان اس پر قائم بھی ہیں۔ اس کے باوجود خود مسلمان اسلامی تعلیمات سے نہ صرف دور بلکہ لاعلم بھی ہیں۔ نتیجتاً یہ مسلمان اسلام کے نظریہ امن وا مان اور محبت و بھائی چارہ سے اس درجہ وابستہ نہیں ہیں جو مطلوب ہے۔

صورتحال کے پس منظر میں جبکہ ملک اور اہل ملک تشدد سے دوچار ہیں لازم ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ایک بار پھر دہرا یاجائے۔ فائدہ یہ ہوگا کہ تشدد جو راست یا بلاواسطہ برداشت کیا جا رہا ہے، یا جس میں ہم شریک ہیں، یا جس کے بڑھنے کی آئندہ دنوں پیشین گوئی کی جارہی ہے، اس میں ہم بحیثیت مسلمان ثابت قدم رہیں۔ ثابت قدمی اس معنی میں کہ کسی بھی سطح پر عقائد و نظریات اور افکار و معاملات میں ہم اسلامی تعلیمات سے دور نہ ہو نے پائیں۔ سطح پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے، امن ا ومان برقرار رکھتے ہوئے، قول و عمل سے یہ ثابت کردیں کہ اسلام تشدد کو پسند نہیں کرتا۔ اور جومسلمان اور ان کے مخالفین اس کو اختیار کرتے ہیں ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن مخالفت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جھوٹ پر مبنی خبروں، واقعات اور بیانات کی بھی ہم مخالفت کریں۔ کیونکہ ہمارے خدا نے ہم کو واضح تعلیمات عطا کی ہیں۔ فرمایا: “اوررحمان کے بندے وہ ہیں جواللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا “(الفرقان:۸۶)۔ ہمیں اس تعلیم پرپختہ یقین ہے اور ہم عمل پیرا بھی ہیں۔ اس کے باوجود دنیا اس بات کی شاہد ہے کہ ہر زمانہ میں وہی لوگ جو متشدد ہیں، فساد اور بگاڑ جن کی رگ رگ میں رچا بسا ہے اور جو ظلم و زیادتیاں جن کی پہچان ہے، جب ان کو ان کے اعمال کی جانب متوجہ کیا جاتا ہے تو وہی یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تو دراصل اصلاح چاہتے ہیں، اور خطا کار ہم نہیں کوئی اور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں”(البقرہ:۱۱)۔ اس کے باوجود ہم بحیثیت مسلمان تشدد اختیار کرنے والوں میں شمار نہیں ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے سامنے مکہ کی وہ پوری تاریخ موجود ہے جس میں مسلمانوں نے سخت ترین حالات سے مقابلہ کرنے کے باوجود اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ یعنی انہوں نے ہر لمحہ یہ ثابت کر دیا کہ واقعی اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قائد و رہنما ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *