تعصب اور تنگ نظری اردو زبان کے خمیر میں نہیں ہے : مظفر حسین

پورے ہندوستان کی ادبی و سماجی تنظیموں کی مالی اعانت کونسل کا اہم مقصد: ارتضیٰ کریم

NCPUL_Grant in Aid Meeting

نئی دہلی، ۹ فروری: اردو زبان کے فروغ اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے کونسل کئی اسکیمیں چلا رہی ہے۔ انہی میں سے ایک اہم اسکیم مالی تعاون ہے۔ ہم اس اسکیم کے تحت ملک کے ان علاقوں تک روشنی پہنچانے کا کام کریں گے جہاں اب تک روشنی نہیں پہنچ پائی ہے۔ خاص طور پر جنوبی ہند کی ریاستوں سے مالی تعاون کی درخواستیں کم موصول ہوتی ہیں لہٰذا پورے ہندوستان کی ادبی، سماجی تنظیموں کی مالی اعانت کونسل کا اہم مقصد ہے۔ یہ باتیں قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے صدر دفتر اردو بھون میں منعقدہ گرانٹ ان ایڈ پینل کی میٹنگ میں کہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی درخواستوں اور مسودات پر خصوصی توجہ دی جائے گی جو غیراردو داں ہوں لیکن اردو سے محبت رکھتے ہوں۔ اس میٹنگ میں سیمینار، کانفرنس، ورکشاپ، مشاعرے اور اردو ، عربی و فارسی مسودات کی اشاعت اورریسرچ پروجیکٹ سے متعلق درخواستوں پر غور و خوض کیا گیا اور ملک کی مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی درخواستوں کو مالی تعاون کے لیے منظور کیا گیا۔
اس موقعے پر کونسل کے وائس چیئرمین پدم شری مظفر حسین نے کہا کہ ہم اس زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشاں ہیں جو محبت، میل ملاپ اور رواداری کی زبان بنی ہوئی ہے۔ آج بھی اس زبان میں حب الوطنی کے نغمے گائے جارہے ہیں۔ اس زبان کے خمیر میں تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم نے کی۔ اس موقعے پر انھو ںنے کہا کہ موصولہ درخواستوں سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی نمائندگی ہورہی ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایسے موضوعات کو ترجیحی طور پر جگہ دیں گے جو لسانیات، رسم الخط ، میڈیا، سائنس و جدید ٹکنالوجی سے وابستہ ہوں۔
میٹنگ میں گرانٹ ان ایڈ کے ممبران پروفیسر علیم اللہ حالی، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر شہاب عنایت ملک، پروفیسر قدسیہ انجم، پروفیسر فاروق بخشی، ڈاکٹر فوزیہ چودھری، قومی کونسل کے پرنسل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، جناب فیروز عالم، ڈاکٹر توقیر راہی، جاوید اقبال انصاری اور شاہد اختر انصاری وغیرہ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *