تمل ناڈو: ایم کے اسٹالن بنے ڈی ایم کے کے صدر

نئی دہلی: ڈی ایم کے یعنی دراوڑ مونیتر كجگم کی کمان ایم کے اسٹالن نے سنبھال لی ہے. پارٹی کے سربراہ ایم کروناندھی کے انتقال کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے متھوویل کروناندھی اسٹالن منگل، 28 اگست کو پارٹی کے صدر منتخب ہوئے. کروناندھی کی بڑھتی ہوئی عمر اور بیماری کی وجہ سے ایم کے اسٹالن گزشتہ کئی برسوں سے کارگزار صدر کے طور پر پارٹی کا کام سنبھال رہے تھے. غور طلب ہے کہ ایم کروناندھی ڈی ایم کے کے بانیوں میں سے تھے. انہوں نے 1969 میں ڈی ایم کے کے بانی سی این انادورئی کی وفات کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالی تھی اور 7 اگست 2018 کو اپنے انتقال تک صدر کے عہدے پر قائم تھے. ڈی ایم کے ملک کی پہلی ایسی پارٹی ہے جس نے کانگریس کے بعد کسی ریاست کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی.

ایم کے اسٹالن

ایم  کروناندھی کے انتقال کے بعد ڈی ایم کے کے صدر کے عہدہ کے لیے ان کے دو بیٹوں ایم کے الاگری اور ایم کے اسٹالن میں مقابلہ چل رہا تھا. ایم کے الاگری نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے بھائی کی قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھایا تھا. لیکن ڈی ایم کے کی عام کمیٹی نے متفقہ طور پر ایم کے اسٹالن کو پارٹی کا صدر منتخب کر لیا. اس عہدے کے لیے 26 اگست کو کاغذات نامزدگی داخل کیا گیا تھا. ایم کے اسٹالن کے علاوہ کسی دوسرے نے نامزدگی کا پرچہ نہیں بھرا تھا. ڈی ایم کے کے جنرل سکریٹری کے انباجھاگن نے 20 اگست کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس اجلاس کا اعلان کیا تھا. منگل کی میٹنگ میں عام کمیٹی نے صدر کے علاوہ خزانچی کا بھی انتخاب کیا. اس سے پہلے گزشتہ سال جنوری میں عام کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں پارٹی کے کارگزار کے طور پر ایم کے اسٹالن کی مدت بڑھائی گئی تھی. پارٹی کے سینئر لیڈر دورئی موروگن خزانچی منتخب ہوئے. یہ عہدہ ایم کے اسٹالن کے ڈی ایم کے کا صدر بننے کے بعد خالی ہوا تھا.

ایم کے اسٹالن کے ڈی ایم کی کمان سنبھالنے پر تمل ناڈو کی سیاست پر نظر رکھنے والے معروف سیاسی مبصر جے آر شرن نے کہا: ایم کے اسٹالن ڈی ایم کے کے فطری لیڈر ہیں. وہ گزشتہ چار دہائی سے زیادہ عرصے سے سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جد و جہد کر رہے تھے. ایم  کروناندھی کی وجہ سے ان کے خاندان والوں کو تھوڑی آسانی تو ہوئی، لیکن خود کروناندھی نے اپنے بیٹے کو کسی عہدے پر ایسے ہی نہیں بیٹھا دیا تھا. ایم کے اسٹالن نے 14 سال کی عمر میں 1969 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی تشہیری مہم میں حصہ لے کر سیاست میں آنے کے اشارہ دے دیے تھے. ایم کے اسٹالن کی پیدائش 1 مارچ 1953 کو ہوئی تھی. ان کی والدہ ایم کروناندھی کی دوسری بیوی دیالو امل ہیں. ایم کے اسٹالن 1975 میں ایمرجنسی کے دوران میسا یعنی داخلی سلامتی دیکھ بھال ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے تھے. وہ سب سے پہلے 1989 میں تھاوزنڈ لائٹس اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے  اور چار بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں. انہیں پہلی بار 2006  میں وزیر اور 2009 میں نائب وزیر اعلی بنایا گیا.

ڈی ایم کے لیڈر کے سامنے فی الحال دو سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کی چنوتی ہے. ان میں سے ایک ایم کروناندھی کے انتقال سے خالی ہوئی سیٹ ہے. پچھلے لوک سبھا  اور پھر 2011  اور 2016  کے اسمبلی انتخابات میں ڈی ایم کے کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی. جے جے للتا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں ڈی ایم کے کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی. ایسے میں اپنے بڑے بھائی ایم کے الاگری کی دھمکی کے درمیان ڈی ایم کے کو دوبارہ مضبوط کرنا ایم کے اسٹالن کے لیے آسان نہیں ہوگا. یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ مشن -2019 کے تحت وہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے ساتھ جاتے ہیں یا پھر کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کا دامن تھامے رہتے ہیں. غور طلب ہے کہ ایم کروناندھی قومی سطح کی سیاست میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتے رہے تھے.

ایم کے اسٹالن نے ویسے 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی اور یوپی اے اتحاد کو جیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا. جے آر شرن کہتے ہیں کہ ایم کے اسٹالن کے اپنے حامی ہیں. پارٹی میں ان کی گرفت مضبوط ہے. انہیں تنظیم سے لے کر حکومت چلانے تک کا تجربہ ہے. اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ قومی سطح پر کس طرح کا کردار ادا کرتے ہیں. ایم کے اسٹالن کے سامنے دوسری بڑی چنوتی دراوڑ تحریک کو سمت دینے کی ہے.

غور طلب ہے کہ ڈی ایم کے دراوڑ تحریک ہی سے نكلي سیاسی پارٹی ہے. اسے سی این دورئی نے 1949 میں قائم کیا تھا. ایک آزاد دراوڑ ریاست کی تحریک سے نکلی دراوڑ مونیتر كجگم نے سماج کے محروم طبقوں کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی حقوق دلانے کی جنگ لڑی اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہی. نتیجہ یہ ہوا کہ آج تمل ناڈو میں کوئی بھی پارٹی پسماندوں اور غریبوں کو نظر انداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتی. ایم کے اسٹالن کے لیے تمل ناڈو میں موقع بھی ہے اور بڑا چیلنج بھی. 65 سال کے اسٹالن کا آگے کا سفر کیسا رہتا ہے، اسے دیکھنا دلچسپ ہوگا.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *