تمل ناڈو میں سیاسی شہ مات کا کھیل جاری ۔ ششی کلا نے اوپی سی کو کیا برخواست

چنئی /منصور عالم عرفانی کی رپورٹ

تمل ناڈو  پر ایک بار پر دیش کی نگاہ آٹکی ہے ، کل رات سے شروع ہوا سیاسی ڈرامہ آج اپنے عروج پر ہے ، کل رات او پی سی جےللیتا کے سمادھی پر 40 منٹ تک جاکر بیٹھے

اس دوران کئی باروہ بھابھک بھی ہوئے ، جب وہاں سےباہر نکلے  تو باہر میڈیا کی جمع تھی ۔وہاں موجود میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے او پی سی نے کہا کہ اماں کی آتما نے انہیں عوام کو سچائی بتانے کو کہا، اس لئے میں کچھ راز کی بات بتانا چاہتا ہوں ۔

انہوں نے کہاکہ میرے اوپر وزیر اعلی کی کرسی چھوڑنے کے لئے ششی کلا گروپ نے زبردست دبائو بنایا

اور ششی کلا کو وزیر اعلی کی امید وار کے طور پر  اعلان کرنے کا دبائو دیا ۔۔ اس لئے مجبوری میں مجھے استعفی دینا پڑا ۔۔ ششی کلا گروپ نے پارٹی کو ہتھیا لیا ہے ، اور اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے ،

انہوں نےکہا کہ اماں اپنے حیات میں انہیں دو مرتبہ اس کرسی پر بٹھایا ، اور وہ چاہتی تھی کہ ان کے بعد میں وزیر اعلی بنا رہوں ،مگر کچھ لوگوں کے ذریعے ان کے خواب کو پورا نہیں ہونے دیا جا رہا ہے

اوپی سی کے اس خلاصے کے بعد تمل ناڈو میں ہلچل سی مچ گئی ، اور صبح ہوتے ہوتے گھر کی لڑائی سڑکوں تک آگئی ۔

آج صبح سے ہی منتریوں اورایم ایل ایز کا آنا شروع ہوگیا ہے ، پارٹی اب دو خیموں میں تقسیم ہوچکی ہے ، مگر زیادہ ترمنسٹر اور ایل ایل اے اوپی سی کو سپورٹ کررہے ہیں ،

اسی بیچ اوپی سی نے مرحومہ جے للیتا کی موت کو مشکوک مانتے ہوئے ریٹائرڈ جج سے انکوائری کا حکم دے دیا ۔ اس حکم نامے کے بعد آنا فانا میں کمیٹی تشکیل دی گئی ،اور کل سے ہی اس کی انکوائری شروع ہوجائیگی ، اس اعلان کے بعد ششی کلا خیمے میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے ، چونکہ ششی کلا پر ہی جے للیتا کو سلو پوائیزن دینے کے الزام لگتے رہیں ہیں ، تاکہ جے للیتا کی موت کے بعد وہ ان کی جگہ لے سکیں ۔

اس بیچ ایک اور مقدمہ کا فیصلہ کل تک آنے ہی والا ہے جس میں انکم سے زیادہ دولت رکھنے کے جرم میں ششی کلا پر چل رہا ہے ، اب اس کے بعد ششی کلا کی راہ اتنی آسان نہیں دکھ رہی جتنا کہ وہ سمجھ رہی تھی ۔

آج صبح سے اوپی سی کی رہائش گاہ کے سامنے لوگون کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، اور ابھی بھی دور دور سے ان کے حمایتی لگاتار چنئی پہونچ رہے ہیں ، جب اس معاملے میں نے چنئی میں موجود عمران حسین سے پوچھا تو انہوں کہا کہ ششی کلا ایک مکار اور فریبی عورت ہے

وہ عہدہ پانے کے لئے کسی حد تک بھی جانے کو تیار ہے ، اسکو  یہاں کی عوام بالکل پسند نہیں کرتی ۔۔

جب یہی سوال تنجاوور میں موجود ویر منی سے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ” ششی کلا نے اپنے بہت سارےسارے غنڈے پال رکھے ہیں ، اور وہ عورت اپنے غنڈو ں سے سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں اجاڑ چکی ہے ، اسکو وزیر اعلی بننے کا کوئی حق ہی نہیں ۔۔

کوئمبتورمیں چائے دکان چلا رہے ٹی موروگن سے ششی اور او پی سی کے درمیان چل رہے اس رسہ کشی کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا ”  کہ ششی کلا کون ہے اوپی سی کو ہٹانےوالی ، اماں نے اپنی حیات میں اوپی سی کو وزیر اعلی بنایا تو ابھی بھی انہیں کو رہنا چاہئے ،واضح ہو کہ ششی کلا کہیں سے ودھایک نہیں ہیں ،وہ یوں ہی وزیر اعلی بننے کی خواب سنجو رہی ہے ، ششی کلا کو تمل ناڈو کے لوگ ایک کوڑی پسند نہیں کرتے ، مگر اوپی سی سے لوگ ہمدردی رکھتے ہیں ۔۔ کل تک واضح ہوجائیگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *