توقیر رضا کا دورۂ دیوبند، روشن مستقبل کی جانب ایک قدم

نہال صغیر
نہال صغیر

ہندوستان کی تاریخ میں ۸ مئی ۲۰۱۶ ایک یادگار دن مانا جائے گا۔ اس لئے نہیں کہ اس دن کوئی تاریخی ہستی پیدا ہوئی یا کوئی فتح نصیب ہوئی، بلکہ یہ دن اس لئے یاد رکھا جائے گا کہ اس دن ایک ’’کرامت‘‘ ظہور پذیر ہوئی۔ وہ ’’کرامت‘‘ ہے مولانا توقیر رضا خاں صاحب کا دیوبند کا دورہ۔ یقیناً یہ ایک کرامت ہی ہے۔ یہ کرامت مئی کے دوسرے ہفتہ کے اول روز ہوئی۔ ایک لمبے عرصہ سے بر صغیر میں مسلمانوں کے دو گروپ جس شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان رہے ہیں اور جس طرح ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے لوگوں سے سلام تک کرنے کے خلاف فتوے صادر کرتا رہا ہے، اس تناظر میں تو اس کو کرامت ہی کہا جا سکتا ہے، جس کا فائدہ دشمنوں نے خوب اٹھایا ہے۔ لیکن مئی کا یہ تاریخی دن یقینی طور پر دشمنان اسلام و مسلمانوں کے لئے کربناک دن تھا۔ باہم متحارب گروپوں میں سے ایک قدرے نظریاتی طور پرشدت پسند گروپ نے دوسرے کے دکھ میں شامل ہو کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے اختلافات سے دشمنوں کو کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ ان کا یہ کہنا کہ اب اتحاد کا وقت آگیا ہے یا یہ کہ ہمیں مسلک کی بنیاد پر کوئی لڑا نہیں سکتا، محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک تاریخی جملہ ہے جو تاریخ نے اپنے اوراق میں محفوظ کرلیا ہے۔ یہاں ہم تھوڑا تاریخی طور پر ساڑھے تیرہ سو سال قبل پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں۔

جب روم کی سلطنت نے حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓ کی باہمی چپقلش سے فائدہ اٹھانا چاہا اور امیر معاوریہؓ کو پیغام بھیجا کہ ہم علیؓ کے خلاف تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن وہ دور قرن اول کا تھا۔ امیر معاویہ نے انتہائی سخت جملہ یعنی رومی کتے کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تونے ہماری آپسی لڑائی سے فائدہ اٹھا کر علیؓ کے خلاف پیش قدمی کی تو علیؓ کی حمایت میں جو سب سے پہلے تلوار اٹھے گی وہ میری ہو گی۔ یہ ایک ایسا واضح پیغام تھا کہ پھر کئی صدیوں تک کسی کافر کی یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے کسی معاملہ میں کسی ایک فریق کا طرف دار بن کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائے۔ آج بھی کم و بیش مسلم امہ کی ملکی و بین الاقوامی حالت وہی ہے کہ دشمن ان کے مسلکی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر امت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں جب کہ دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم سے وہی آواز آئی تھی اور بلند تر لہجہ میں آئی تھی کہ ’’دہشت گردی کو فروغ دینے میں وہابی اور دیوبندی پیش پیش ہیں‘‘۔ جس کے بعد ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں نے کچھ زیادہ ہی متحرک رول اپنانا شروع کیا۔ جب مالے گاؤں کے مظلومین نوجوانوں کو عدلیہ نے بری کیا تو خفیہ ایجنسیوں نے تیرہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے اس گنتی کو پورا کرنا چاہا۔ اس وقت اتحاد کی بات نہیں کی جائے گی تو کب ہوگی اتحاد کی بات۔ لہٰذا مولانا توقیر رضا نے بالکل بروقت اقدام کرتے ہوئے دیوبند پہنچ کر ملت کی گھات میں بیٹھے ہوئے اس کے دشمنوں کو وہ واضح پیغام دے دیا ہے جس کی ضرورت پچھلی کئی دہائیوں سے محسوس کی جارہی تھی۔

Tauqir Raza Khan

توقع کے عین مطابق ہی مولانا توقیر رضا کی اس پیش قدمی کو بہ اخلاص امت میں جو عزت اور توقیر بخشی گئی اور جس شان سے اس کا استقبال کیا گیا، اس پر کسی تعجب کی کوئی گنجائش نہیں کیوں کہ تقریباً ایک صدی سے بٹی اور باہم دست و گریبان امت کے دو فرقوں کو اکٹھا ہونے کا سنہری موقعہ تھا۔ میں نے اس واقعہ کو ’’کرامت‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ نام دراصل دہلی کے ایک صحافی ودود ساجد نے دیا ہے اور بالکل درست نام دیا ہے کیوں کہ جس شدت کے ساتھ کفر کے فتوے جارے ہوتے رہے ہیں اور جس انداز سے جمعہ کے خطبہ تک میں ایک گروہ دوسرے گروہ کو مطعون کرتا رہا ہے، اس سے اتحاد کی صورت مضمحل ہو چلی تھی۔ ایسی صورت میں اتحاد اس وقت پیدا نہیں ہو سکتا جب تک کسی ایک گروہ کی طرف سے اخلاص کے ساتھ پیش قدمی نہ ہو اور وہ پیش قدمی مولانا توقیر رضا کی، اور بازی مار لے گئے اللہ ان کی کوشش کو کامیاب کرے،آمین۔ یہ یقیناً ہماری نظر میں کرامت ہے تو ہمارے دشمنوں کے لئے یہ صدمہ عظیم ہے۔ یہ دن ان کی مایوسی اور اپنی انگلیوں کے کاٹنے کا دن ہے جب ان کی برسوں کی محنت اوراربوں کا سرمایہ اللہ کی ایک ہدایت سے تہس نہس ہو گیا۔ یہاں اللہ کی اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ ’’وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے اور یقناً اللہ کی تدبیر کی کامیاب ہونے والی ہے‘‘۔ حالانکہ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان تو پہلے سے ہی اس پر ہے کہ اللہ کی تدبیر ہی کامیاب ہونے والی ہے۔ لیکن ایسے واقعات ہمارے ایمان میں مزید اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس پراللہ کا جتنا شکریہ اور حمد کریں کم ہے۔ ہر زمانے میں امت کے لئے یہی واضح خطوط ہیں جن پر چل کر وہ کامیاب ہو ئی ہے۔ وہ ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا اور انتشار سے بچنا۔

اوپر کے یہ پیراگراف میں یہ تمہید اس لئے باندھنے کی ضرورت پڑی ہے کہ موجودہ توقیر رضا کے دیوبند جا کر اظہار یکجہتی کو بھی کچھ لوگوں نے شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ محض ان کی اپنے لئے جگہ کی تلا ش ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے کہ یہ ایسا ہی ہو جیسا کہ بعض احباب اس کے متعلق اظہار کررہے ہیں۔ لیکن یہ ویسا بھی تو ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم جیسے لوگ سوچ اور سمجھ رہے ہیں۔ وہ تو دلوں کے حالات بدلنے پر بھی قادر ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔ تاریخ اسلام کے اوائل کا ہی واقعہ لے لیجئے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یاد کرلیجئے اللہ نے ان کے دل کو پھیر کر اسلام کی تقویت کا ذریعہ نہیں بنایا؟ اس کے بھی عہد وسطیٰ میں اللہ نے تاتاریوں کے دلوں کو اسلام کی طرف نہیں موڑا؟ اور وہی لوگ جو کل تک مسلمانوں کے درپے آزار تھے آچانک وہ اس کے محافظ بن کر اٹھے اور ایک بار پھر مسلمانوں عالمی قوت بنادیا۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ نے ملت اسلامیہ ہند کے دو سو سالہ زوال کو اتحاد امت کے ذریعہ پھر عروج میں بدلنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ اور کون ہے جو اللہ کے ارادوں کی راہوں میں کوئی رخنہ ڈال سکے۔ جیسا کہ بعض احباب نے اسے کرامت کہا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ نے امت کی شیرازہ بندی کا ارادہا کرلیا ہے تو ہمیں مزید ایسے حیرت انگیز واقعات سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے جو یقیناًہماری شادمانی کی وجہ بنیں گے۔

ہم اس کے باوجود خوش گمان ہیں کہ مولانا توقیر رضا کی مخالفت اور ان سے توبہ کا مطالبہ شروع ہو چکا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی نیک کام یونہی نہیں شروع ہو جاتا اور نہ ہی اس کو اس وقت تک کامیابی ملتی ہے جب تک کہ اس کی مخالفت نہیں کی جائے۔ اس کے نقیب کو پریشان نہ کیا جائے۔ عوامی طور پر اس کا ناطقہ بند نہ کیا جائے کیوں کہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے دشمن اس کی تشہیر میں مدد کرتا ہے۔ اس کی جتنی زیادہ مخالفت ہو گی توقیر رضا کی کاوش کو اتنی ہی مقبولیت ملے گی۔ اس لئے ہمیں اس سے گھبرا نے اور خوفزدہ ہونے کے بجائے اللہ سے دعا ہو نا چاہئے کہ وہ امت کی گرتی ہوئی ساکھ کو اس تحاد کے ذریعہ بحال کردے جس کی تڑپ ہر اس دل میں ہے جو امت کی درماندگی سے آزردہ خاطر رہتا ہے ۔

اٹھ کہ خورشید کا سامان سفر تازہ کریں                       نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *