توقیر رضا کی اتحاد امت کی کوشش سے اضطراب کیوں؟

نہال صغیر
نہال صغیر

وطن عزیز کے مسلمان جس نازک وقت سے گزر رہے ہیں وہ وقت ان پر تاریخ میں شاید ہی کبھی آیا ہو ۔اس دور میں ان کے اتحاد اور اس کے لئے حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت جتنی اہم ہے اس کا اندازہ ہر روز ظہور پذیر واقعات و حادثات سے ہو تا رہتا ۔جس طرح 9/11 کے بعد دنیا تبدیل ہو گئی اسی طرح 6 ؍دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا ۔یہ وہ دن تھا جب جمہوریہ ہند اور اس کے دستور کے سایہ میں محفوظ ہونے کا زعم منتشر ہو گیا ۔ اس عظیم سانحہ کے بعد مسلمانوں کو متحد ہوجانا چاہئے تھا ۔لیکن شاید کچھ لوگوں نے جن کا کاروبار ہی ملت کو انتشار کا شکار بنانا رہتا ہے انہوں نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔اس کا سبب صرف اتحاد کی عدم موجودگی ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی کا فقدان بھی تھا۔لیکن حالیہ کچھ سالوں میں جس طرح فرضی بم دھماکے اور مختلف واقعات کے بہانے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا اس پر تو متحد ہو ہی جانا چاہئے ۔اس خطرے کو مولانا توقیر رضا نے محسوس کیا اور وہ اہل دیوبند سے ملنے نیز ایک گرفتار شدہ نوجوان کے گھر والوں سے ملاقات کرکے اس کے اہل خانہ کو اخلاقی حمایت دے کر وہ کام کیا ہے جس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔حالانکہ کچھ لوگ اور گروہ جو اکثر اتحاد امت کا راگ الاپتے رہتے ہیں ان کا کام صرف اتنا ہے کہ کبھی جمعہ یا عیدین کی نماز مختلف مسالک کے امام کے پیچھے ادا کرلی بس ان کی نظر میں اتحاد قائم ہو گیا ۔اس کے علاوہ خواہ وہ کتنا ہی مخالف مسلک کے افراد و جماعت کے لئے زہر اگلتے رہیں ۔حالانکہ کوئی بھی تحریک بغیر عملی اقدام کے کامیاب نہیں ہوتی ۔توقیر رضا نے صرف مسلکی اتحاد کا ڈھنڈورا ہی نہیں پیٹا بلکہ اس جانب قدم بڑھایا ۔ہر چند کے چند صوفی نما افراداور ان کی تنظیموں نے دہلی میں کانفرنس کرکے امت کو اضطراب میں مبتلا کردیا تھا اور اپنے احمقانہ اقدام سے دشمنان اسلام و مسلمان کو وہ موقعہ دے دیا تھا جس کے وہ برسوں سے منتظر تھے۔یہ صوفی نما افراد کم از کم دو سال سے ایک علماء مشائخ بورڈ بنا کر یہ زہر پھیلا رہے تھے اور دشمنوں کو موقعہ دے رہے تھے ۔اس پر کسی نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا ۔جس کو نوٹس لیا جانا چاہئے تھا۔یہ علماء و مشائخ بورڈ نے دو یا تین سال قبل مرادآباد اجلاس سے اپنا یہ زہریلا پروپگنڈہ شروع کیا تھا کہ دیوبندی اور وہابی دہشت گردی کے منبع ہیں ۔سیرت اتحاد امت کا مخالف نہیں ہے لیکن وہ کسی بھی طرح منافقانہ رویہ کے خلاف ہے ۔جو لوگ اتحاد اتحاد کا نعرہ لگاتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ صرف جمعہ اور عیدین کی نماز مختلف مسالک کے امام کے پیچھے پڑھنے کے ڈرامے سے آگے نکل کر توقیر رضا کی طرح عملی قدم اٹھائیں ۔حالانکہ عیدین و جمعہ کی نمازوں میں اتحاد کا مظاہرہ بھی برا نہیں ہے ۔لیکن انہیں وہ حوصلہ دکھانا ہی چاہئے کہ جس سے دشمن کو راست پیغام جائے کہ ہم تمہارے انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کواپنے عملی اتحاد سے ناکام بنا دیں گے ۔

مئی کا مہینہ اتحاد امت کے خواب دیکھنے والوں کے لئے خوشگوار احساس کی تاریخ رقم کرنے والا بنا ۔مولانا توقیر رضا جو کہ احمد رضا خان کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ،نے دیوبند پہنچ کر جہاں کچھ لوگوں کو حیرت زدہ کردیا تو کسی کو خوشگواریت کے احساس سے بھر دیا وہیں کچھ لوگوں کے روزی روٹی کے حصول کا ذریعہ شاید بند ہونے والا ہے اس لئے وہ گروہ ان کے خلاف فتوے بازی پر اتارو ہو گیا ۔وہی فتوے بازی جس نے پچھلی ایک صدی سے امت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔بے شک مولانا توقیر رضا کے اقدام کو امت میں قبولیت عام بخشا لیکن ایک چھوٹا سا گروہ ہے جس کو یہ گوارا نہیں ہے ۔اس کی شاید وجہ ہے کہ توقیر رضا نے یہ قدم اٹھا کر جہاں اپنا قد بلند کرلیا ہے وہیں دوسری طرف حاسدین اتحاد امت بونے نظر آنے لگے ہیں ۔اس مخالفت میں جہاں حسد اور خاندانی دشمنی کی جھلک نظر آتی ہے وہیں اس کا تعلق پیٹ کے کاروبار سے بھی ہے ۔جس کا اظہار توقیر رضا نے بھی کیا ہے کہ ذاتی مفاد کے لئے علمائے دیوبند سے ملنے والے ملی مفاد میں دیوبند جانے پر معترض ہیں۔اچھا کیا کہ توقیر رضا نے بوکھلا ہٹ کا شکار لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش رہنے پر مجبور کیا کہ’’ اگر میری زبان کھل گئی تو سب کوکلمہ پڑھنا پڑ ے گا اور نکاح کرنا ہوگا‘‘۔حالات کچھ ایسے ہی ہیں ۔توقیر رضا نے اپنے ای ٹی وی کے ساتھ انٹر ویو میں بھی کہا کہ اپنے مسلک اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے بھی ہم ملی اور قومی مفاد میں متحد ہو سکتے ہیں ۔بالکل صحیح ہے میرے خیال میں مسلم اور اردو صحافیوں کی اکثریت اس طرف نشاندہی کرتے رہے ہیں ۔لگتا ہے مسلم اور اردو صحافیوں کی سعی کا نتیجہ برآمد ہونے لگا ہے ۔جب ہی بظاہر ندی کے دو کناروں کی طرح نظر آنے والے امت کے دو گروہ جن کے کبھی ایک پلیٹ فارم پر آنے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ملی اور قومی مفاد کے لئے متحد ہونے کی جانب اور موجودہ حکومت کو واضح پیغام دینے کی سمت رواں دواں ہونے والے ہیں کہ ’’ہماری مسلکی گروہ بندی سے کسی خوش فہمی میں مبتلا مت ہونا ،ہم اختلاف کے باوجود تمہاری بد نیتی پر مبنی منصوبہ بندی کے خلاف سینہ سپر ہونے کو تیار ہیں‘‘۔
بہر حال شروع میں توقیر رضا کی مخالفت سے کچھ مایوسی سی چھا رہی تھی ۔لیکن ان کی ثابت قدمی اور مخالفین کی قلیل تعداد نے مایوسی کو خوش گوار مستقبل کے اشاروں کی وجہ سے ہمارے عزم و حوصلوں میں اضافہ کردیا ۔اللہ کرے امت کو یہ اتحاد کی کوشش راس آئے اور ایوان کفر و باطل جو طاغوتی منصوبے بنائے خوش ہو رہے ہیں اس کو ناکام و نامراد کردے ۔لیکن یہ ناکام و نامراد اسی وقت ہوں گے جب ہم بھی توقیر رضا کی طرح آگے بڑھیں اور امت کو انتشار کے اس دور سے نجات دلائیں ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ سب اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے باہر آکر حالات کی نازکیت کو دیکھیں اور اس کا حل تلاش کریں ۔کسی کو خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے کہ وہ فرقہ یا وہ گروہ محفوظ ہے ۔اس پر کوئی آنچ نہیں آنے والی ۔یہ خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ۔بقول کسی شاعر کے ’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ‘۔دشمن کی تو ہمیشہ سے یہ چال رہی ہے کہ وہ ہمیں ٹکڑوں اور گروہوں میں بانٹ کر شکار کرتا ہے ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سمجھ میں نہ آئے ۔اگر کسی کو دہشت گرد بتا کر اور فرضی معاملات میں پھنسا کر تباہ و برباد کیا جارہا ہے یا اس کے حوصلوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کسی کو فسادات کے ذریعہ کمزور اور تباہ کیا جارہا ہے ۔اس کا ادراک اور اس کا ازالہ ضروری ہے ۔ادراک تو کچھ کچھ ہو رہا ہے ۔اسی ادراک کا نتیجہ ہے توقیر رضا اور اہل دیوبند کی ملاقات ہے ۔

یہ ایک صحیح وقت پر اٹھایا گیا قدم ہے اور بالکل صحیح جانب ہے ۔اس لئے جن لوگوں نے توقیر رضا کو ہدف ملامت بنانے کی کوشش کی ان کو ان کی ہی زبان میں جواب مل گیا ۔یہ عام طور پر رائج بھی رہا ہے کہ جس نے بھی اتحاد ملت کے لئے کام کیا یا اس سلسلے میں کوئی تحریک چلائی اس پر فتوے صادر کرنا اس کی کردار کشی کرنا ان کا محبوب مشغلہ رہاہے۔ہمارا مشن بھی یہ ہونا چاہئے کہ اپنے مسلک سے وابستہ رہتے ہوئے امت کو اتحاد کا پیغام دیں اور ان چہروں کو بے نقاب کریں جو ہمارے درمیان نفرت کی بیج بوتے ہیں ۔ ٹھیک یہی طریقہ توقیر رضا نے بھی اپنایا ہے ۔انہوں نے ای ٹی وی اردو کو انٹر ویو دیتے یہ واضح کیا کہ ’’ہم مسلک کو نہیں چھوڑ سکتے لیکن قومی و ملی معاملات خاموش بھی نہیں رہ سکتے ‘‘۔ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمیں دوسرے فرقہ یا گروہ سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ان سے سلام و کلام کیا تو اسلام سے خارج ہو جاؤگے اور نکاح کرنا پڑے گا ۔لیکن یہی حضرات اپنے نجی مفاد کے لئے ان سے ملتے بھی ہیں اور سلام و کلام بھی ہوتا ہے ۔یعنی امت کو تو یہ باہم دست گریبان رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی آڑ میں اپنے مفاد کی تکمیل کرتے ہیں ۔امت میں انتشار کی قیمت پر یہ بڑی بڑی مراعات پاتے ہیں ۔خلاصہ یہ کہ اگر توقیر رضا کی طرح دو چار اور لوگ حوصلوں اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھیں تو اتحاد کے مخالفوں کا زور ٹوٹ جائے گا ۔ان کی قوت کمزور پڑجائے گی اور اتحاد کی قوت سے امت ہندوستان میں پھر اپنے شاندار ماضی کی جانب گامزن ہو سکتی ہے ۔آخر میں اتنا کہنا ہے کہ مخالفین کو تو توقیر رضا کی پیش قدمی سے خوش ہونا چاہئے تھا اور انہیں خوش ہو کر فخریہ انداز میں کہنا چاہئے تھا کہ دیکھو تم لوگ تو صرف اتحاد اتحاد کا نعرہ لگاتے ہو لیکن ہم نے تم سے زیادہ مخلص ہونے کا ثبوت پیش کردیا ہے کہ ہم نے اتحاد کے لئے عملی پیش قدمی کی ہے ۔لیکن بقول علامہ اقبال ؂ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
لیکن ہم مخالفت میں اس قدر اندھے ہوکر ان راہوں پر نکل آئے ہیں جہاں سے شاید چند نفوس کا لوٹ کر آنا نا ممکن نظر آتا ہے ۔شکر کی جا یہ ہے کہ اکثریت توقیر رضا کے ساتھ ہے اور جیسا کہ انہوں نے خود ہی کہا کہ بہت مختصر سی تعداد والا ایک گروہ مخالفت پر کمربستہ ہے کہ اس سے اس کے پیٹ کا دھندہ بند ہونے کا خطرہ ان کے سر پر منڈلا رہا ہے ۔اور روزی روٹی چھن جانے کا ملا ل تو ہر کسی کو ہوتا ہے ۔اب یہ الگ بات ہے کہ بعض افراد یا گروہ حصول رزق میں کسی قید کو کسی اصول کو نہیں مانتے انہیں بس رزق حاصل کرنا ہے خواہ کسی قیمت پر ہو ۔ایک بات اور جو ہم نے محسوس کی وہ یہ کہ توقیر رضا کی اس پیش قدمی کو جتنا مشتہر کیا جانا چاہئے وہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ابھی تک تو ملی تنظیموں کو کارنر میٹنگوں اور اجلاس کی ایک لمبی قطار کھڑی کردینی چاہئے تاکہ ان کا پیغام عام مسلمانوں تک پہنچے اور مسلمانوں نفرت کے تاجروں سے ہو شیار ہو جائیں ۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہماری ملی تنظیمیں اس جانب پیش قدمی کریں اور اتحاد کی ایسی مضبوط دیوار کھڑی کردیں جس کو ڈھانا ایک لمبے عرصہ تک ممکن نہ ہو ۔یہی توقیر رضا کی پیش قدمی کے لئے بہترین اعزاز ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *