تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

ہمارے آشیانے کی بربادی کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ ۱۸۵۷ اور ۱۹۴۷ ایک نئی شکل لے کر نمودار ہو چکا ہے۔ صرف کوئی اندھا، بہرا ہی ہوگا جو آنے والی آندھیوں کے جھونکوں کو محسوس نہیں کرسکتا ہے۔ کچھ اشارے یہ ہیں:
۱۔ مسلم پرسنل لاء پر پے در پے حملہ ہو رہا ہے اور اب حکومت اور پارلیمنٹ نے یہ طے کرنے کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے کہ مسلم عائلی قوانین کیا ہیں یا کیا ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں ملک کے اندر یا باہر کسی مسلم عالم یا تنظیم سے مشورہ کرنے کی زحمت نہیں کی گئی ہے۔ کیا بیس کروڑ مسلمانوں کی مجبوری اور لاچارگی کی اس سے بڑی مثال ہو سکتی ہے؟
۲۔ ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں اور کمزور طبقوں کے افراد کو جہاں چاہیں، جب چاہیں، بر سر اقتدار نظریے کے غنڈے مسلسل قتل کر رہے ہیں۔ سوائے مرہم پٹی کے، ملت کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ آج تک کوئی بڑا مظاہرہ تک نہیں ہوا ہے۔
۳۔ ہندوستانی قانون میں بنیادی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں جن سے کوئی گھر اور کوئی محلہ محفوظ نہیں رہے گا۔ باہمی رضامندی سے زنا(adultery)  اب عورت کا حق ہونے جا رہا ہے اور جلد ہی ہم جنسیت مخالف قانون کالعدم کیا جانے والا ہے۔ اب کوئی اپنی بیوی اور اولاد کو غلط راستہ اپنانے پر قانونا منع تک نہیں کرسکے گا اور اگر کرے گا تو جیل جائے گا۔ ملت کے رویے سے لگتا ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔
۴۔ ملک کی ایک ریاست کے۰ ۴ لاکھ شہریوں کو، جن میں تین چوتھائی مسلمان ہیں، بیک جنبش قلم شہریت سے محرم کر دیا گیا ہے اور دوسری ریاستوں میں اس عمل کو دہرانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اپنے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کو یکلخت شہریت سے محروم کرنے کی انسانی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہے۔ شہریت سے محروم یہ لوگ یا تو ملک میں غلاموں کی طرح تمام سہولتوں اور حقوق سے محروم ہوکر رہیں گے یا پڑوسی ملکوں میں بھاگ کرپناہ گزیں کیمپوں میں جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ بنگلادیش کی موجودہ حکومت بدلنے پر ان مظلوم بھارتی شہریوں کو وہاں دھکا دے کر بھیجنے کا عمل پورے تشدد کے ساتھ شروع ہوجائے گا۔ تشدد اور تمیز کا شکار ہونے پر پولیس اور عدالتوں میں دادرسی سے یہ لوگ قانونا محروم ہوجائیں گے۔
۵۔ تقریباً ایک چوتھائی ووٹروں کے ناموں کو ملک کے مختلف حصوں میں ووٹر لسٹوں سے کاٹ دیا گیا ہے (تفصیل دیکھیے : فرنٹ لائن، ۳۱ اگست ۲۰۱۸)۔ اطلاعات کے مطابق یہ لوگ مسلمان ہیں یا ایسے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک مخصوص پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں۔ پہلے ڈیلیمیٹیشن کمیشن کے ذریعے کافی مسلم اکثریتی علاقوں کو دوسروں کے لیے مخصوص کیا جاتا تھا، اب ووٹر لسٹ سے نام نکال کر ہماری سیاسی محرومی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ووٹ دینے کے حق سے محرومی کے بعد اب مصلحتاً بھی کوئی لیڈر ہماری بات نہیں سنے گا یا کرے گا۔ پولیس اور نوکر شاہ دھڑلے کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کریں گے۔
یہ سب ہو رہا ہے اور ہماری تنظیمیں اور ملی رہنما خاموش ہیں بلکہ ان میں سے بعض روزانہ یہ بیان تک دے رہے ہیں کہ آسام کے سلسلے میں سپریم کورٹ پر بھروسہ رکھیں! یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس نے مسئلے کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ دوسرے مسائل پر بھی ایسی خاموشی برتی جا رہی ہے جیسے کہ ان کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم کو روہنگیا بنانے کی تیاری تقریبا پوری ہوچکی ہے لیکن قوم کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ جنتر منتر تک بھی لوگوں نے جانے کی زحمت نہیں کی ہے۔ انصاف پسند ہندوؤں سے رابطے بڑھانے کی کوئی سعی نہیں ہو رہی ہے۔ میڈیا کے تئیں غفلت برقرار ہے۔ آج تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے مسلمان ’’اچھوت‘‘ بن چکے ہیں۔ کیا ایسے وقت میں بھی سر جوڑ کر بیٹھنے اور ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت نہیں ہے؟

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *