جامعہ رشیدیہ کے ناظم اعلی قمرالدین بمہوری اعظمی کا انتقال

جامعہ رشیدیہ بمہور

ممبئی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سابق صدر مرحوم حاجی شمس الدین اعظمی کے چھوٹے بھائی حاجی قمرالدین اعظمی کا مورخہ 10 اگست 2018 مطابق 27 ذی القعدہ 1439 ہجری بروز جمعہ دن میں قریب گیارہ بجے ان کے مکان میمنی بلڈنگ اپوزٹ داؤد نرسنگ ہوم ناگپاڑہ، ممبئی میں انتقال ہو گیا۔ مرحوم کی عمر تقریبا ۸۲؍ سال تھی۔ آپ ایک نیک، ملنسار، صوم و صلوۃ کے پابند، دعوت دین کی تحریک میں سرگرم شخص تھے۔ دینی تحریکات، مدارس اسلا میہ اور علماء کرام سے قلبی تعلق رکھنے والے حاجی قمرالدین اعظمی جامعہ رشیدیہ بمہور کے کم و بیش ۳۵؍ سا ل سے ناظم اعلی تھے۔

مرحوم جامعہ رشیدیہ کے باقاعدہ قیام 1986 سے انتقال تک اس کی پوری نگہبانی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ جامعہ کے قیام سے قبل یہ مدرسہ مکتب کی شکل میں تھا، اس کے بعد حفظ کلاس شروع ہوئی۔ اس وقت بھی حاجی قمرالدین ہی ناظم تھے۔ جامعہ رشیدیہ کے بانی آپ کے بڑے بھائی حاجی شمس الدین اعظمی اور حضرت مولانا محمد مسلم بمہوری رحمھم اللہ تھے، جبکہ اس کی بنیاد اس وقت کے اکابرین امت محد ث کبیر، امیر الہند، ابوالماثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی نوراللہ مرقدہ، جانشین شیخ الاسلام فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی رحمۃاللہ علیہ (صدر جمعیۃ علماء ہند) حضرت مولانا عبدالحلیم جونپوری رحمۃ اللہ علیہ، صاحبزادہ شیخ الحدیث حضرت مولانا پیر محمد طلحہ سہارنپوری دامت برکاتہم اور صاحبزادہ شیخ الا سلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم وغیرہ جیسے اساطین علم  و فضل نے رکھا تھا۔ آج اس مدرسے کا تعلیمی نظام مولانا محمد مسلم بمہوری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے ازہر ایشیاء دارالعلوم دیوبند کے استاذ تفسیر و فقہ حضرت مولانا مفتی محمد راشد بمہوری اعظمی مدظلہ العالی کی زیر نگرانی جاری ہے۔

حاجی قمرالدین کی نگرانی میں جامع مسجد بمہور کا تعمیری کام مکمل کرایا گیا۔ مرحوم انتہائی مخلص دیندار شخص تھے۔ مدرسہ کے تمام انتظامی امور پوری دل جمعی کے ساتھ انجام دیتے۔ آپ چوکی محلہ مسجد کے پاس سلامت بیکری کے مالک تھے اور متدین تاجر کی حیثیت سے اپنے کاروبار انجام دیتے رہے۔ مرحوم اور ان کے خاندان کا اکابرین دیوبند بطور خاص خانوادہ شیخ الاسلام رحمۃاللہ علیہ سے دیرینہ و قلبی لگاؤ ہے، آپ ملی پلیٹ فارم پر جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی اور صوبائی مجلس منتظمہ کے بھی برسوں رکن رہے۔

عید الفطر کے بعد آپ کو پھیپھڑوں میں انفیکشن کے سبب تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل داخل اسپتال کیا گیا۔ ممبئی اسماعیلیہ اسپتال میں آپ کا علاج ہوا۔ خاطر خواہ افاقہ نہ ہونے کے سبب 8 اگست، بدھ کو اسپتال سے وینٹیلیٹر کے ساتھ ہی انہیں ناگپاڑہ مکان پر لے آیا گیا جہاں جمعہ کو دن میں گیارہ بجے آپ  نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کے ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سیکڑوں سوگواران کی موجودگی میں بعد نماز عشاء متصلا ناریل باڑی قبرستان ممبئی میں نماز جنازہ ادا کی کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری جانشین فدائے ملت حضرت مولانا سید محمود مدنی نے مرحوم کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کیا ہے اور جماعتی احباب و ذمہ داران مدارس سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *