جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی کوشش

چودھری حارث الحق، سکریٹری، جامعہ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن
چودھری حارث الحق، سکریٹری، جامعہ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن

نئی دہلی، ۳۰ جنوری (نامہ نگار): اقلیتی کردار کے بعد اب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج کل ایک نیا موضوع زیر بحث ہے۔ یونیورسٹی کے اسٹاف ایسو سی ایشن نے حال ہی میں معزول کیے گئے جامعہ کے قانونی مشیر پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جامعہ اسکول ٹیچر ایسوسی ایشن کے سکریٹری چودھری حارث الحق نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے معزول قانونی مشیر پر جامعہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پریس ریلیز پر جامعہ کی تین تنظیموں کے عہدیداروں کے دستخط ہیں۔ پہلا نام تو خود جامعہ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سکریٹری چودھری حارث الحق کا ہے، جنھوں نے نیوز اِن خبر کے نامہ نگار کو بذریعہ فون پورے معاملے کی تفصیلی جانکاری دی۔ اس کے علاوہ اس پریس ریلیز پر جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر بادشاہ خان، جامعہ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر ایس مسرور علی، جامعہ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر عبدالواحد اور سکریٹری وہاب الدین، صدیق الرحمٰن قدوائی ایسوسی ایشن کے صدر ایم حفیظ خان اور سکریٹری روی کرن شرما کے دستخط موجود ہیں۔
English PR_Jamia_30 Jan 16
’’معزول قانونی مشیر کی گھناؤنی کوشش‘‘ کے عنوان سے جاری اس پریس ریلیز کا مکمل متن ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
’’اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک باوقار اور تاریخی تعلیمی ادارہ ہے، جو براہِ راست ملک کی جنگِ آزادی سے وابستہ رہا ہے۔ ادارہ ۱۹۲۰ میں قائم ہوا تھا اور بتدریج نئی نسل میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے فروغ میں نمایاں خدمات پیش کرتا رہا ہے۔
لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک معروف قانون داں، جو تقریباً بیس سال تک قانونی مشیر کی حیثیت سے جامعہ سے وابستہ رہے اور جامعہ کو اپنا ذریعۂ معاش بناتے رہے اور یونیورسٹی سے زبردست مالی مفادات حاصل کرتے رہے اور جو این سی آر کی ایک پاش کالونی میں ایک وسیع و عریض بنگلہ کے مالک ہیں، انھوں نے جامعہ کے خلاف میڈیا اور دوسرے حلقوں میں جامعہ کے خلاف ایک گھناؤنی مہم شروع کر رکھی ہے۔ حالانکہ مذکورہ بالا قانون داں کے یونیورسٹی کو غلط مشوروں کے ذریعہ خود یونیورسٹی ہی نہیں، بلکہ اس کے طلبہ اور عملہ کو شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔
مذکورہ قانون داں اب آر ٹی آئی کے ذریعہ مبہم معلومات حاصل کرکے میڈیا میں یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یونیورسٹی اُن کے بقول بے ضابطگیوں میں ملوث تھی، تو اس موقع پر وہ خود کہاں تھے۔ انھوں نے قانونی مشیر کی حیثیت سے اس موقع پر کیا کیا؟ کیا اسی طرح وہ خود اُن بدعنوانیوں کا ایک حصہ نہیں سمجھے جائیں گے۔ اگر جامعہ میں NACC ٹیم پر ۲۶ لاکھ روپے خرچ کیے گئے، تو انھوں نے ایڈوائزر کی حیثیت سے جامعہ انتظامیہ کو کیوں آگاہ نہیں کیا؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ خود بھی اس بدعنوانی کا ایک پرزہ ہیں؟ مذکورہ قانون داں اپنے سیاسی مفادات اور اپنے جیسے لوگوں میں اپنا مقام بنانے کے لیے اِس بات کا بھی خیال نہیں کر رہے ہیں کہ جو کیچڑ وہ یونیورسٹی پر اچھال رہے ہیں، وہ خود انھیں کو آلودہ کر رہی ہے۔ ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اخبارات یونیورسٹی سے صحیح صورتِ حال جانے بغیر ان سازشی خبروں کی اشاعت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
جامعہ کی چاروں ایسوسی ایشن اس گھناؤنی مہم کی پرزور مذمت کرتی ہیں اور اس کو ایک باوقار یونیورسٹی کی تابناک تاریخ کو آلودہ کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیتی ہیں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *