جامعہ میں پروفیسر خالدمحمود کی چالیس سالہ تدریسی خدمات کا اعتراف اور الوداعی جلسہ

(دائیں سے بائیں) ۔ پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر شفق سوپوری، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر خالد محمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر شہپر رسول اور پروفیسر احمد محفوظ
(دائیں سے بائیں) ۔ پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر شفق سوپوری، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر خالد محمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر شہپر رسول اور پروفیسر احمد محفوظ

نئی دہلی، ۳ فروری: پروفیسر خالد محمود ہماری تہذیبی و تعلیمی زندگی میں ایک قابل تقلید نمونہ ہیں۔ شعبۂ اردو میں بحیثیت استاذ انھوں نے جس طرح سے ایک معلم کی زندگی بسر کی اور بے حد لگن اور دل سوزی کے ساتھ جامعہ کی چالیس برس تک خدمت کی، وہ لائق ستائش ہے۔ شعبہ اردو میں خالد محمود کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی کمی شعبہ کو ہمیشہ محسوس ہوگی۔ مجھے ان کے بے شمار اشعار یاد ہیں۔
ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر وہاج الدین علوی نے پروفیسر خالد محمود کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی جلسے میں کیا۔ اس موقع پر پروفیسر شہپر رسول نے فرمایا کہ خالد محمود اردو کے سچے عاشق اور بے حد اچھے استاد ہیں۔ وہ ہمیشہ اردو زبان و ادب کی فلاح و بہود اور بقا کے لیے کام کرتے ہیں۔ شعبۂ اردو، مکتبہ جامعہ اور دہلی اردو اکیڈمی میں ان کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ پروفیسر غضنفر علی نے فرمایاکہ خالد محمود ایک بہترین انسان، بہترین دوست اور بڑے مہمان نواز ہیں۔ وہ وسیع القلب اور کشادہ ذہن ہیں۔ پروفیسر اقتدار محمد خاں نے فرمایا کہ جب میں اسکول میں تھا، اس وقت سے پروفیسر خالد محمود صاحب سے والہانہ رشتہ قائم ہے۔ ان کے یہاں بے شمار انسانی خوبیاں ہیں جو کسی ایک انسان میں مشکل سے ملیں گی۔ پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ خالد محمود صاحب نے اپنے صدارتی دو رمیں جتنے بڑے کارنامے انجام دیے اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ارمغان کی اشاعت، ٹیگور پروجیکٹ، ٹیگور سمینارز، اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب سمینار، غیر افسانوی نثر سمینارکے علاوہ متعدد یادگاری اور توسیعی خطبات اس دور کے یقیناً اہم کام ہیں۔ وہ ایک اچھے شاعر، انشائیہ نگار، نثر نگار اور بہترین انسان ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ میری سرپرستی کی۔
معروف شاعر شفق سوپوری (سرینگر) بحیثیت مہمان خصوصی اس میں شریک ہوئے اور انھوں نے فرمایا کہ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبا سے مل کر اور ان کی گفتگو سن کر ایک گہرا نقش قائم ہوا۔ اس موقع پر شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالرز ثاقب عمران، شاداب تبسم، نازیہ جفو، سلمان فیصل، شاہ نوازفیاض اور ایک طالب علم وسیم احمد نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا، جس میں ان لوگوں نے کہا کہ خالد محمود صاحب کی جو سب سے بڑی خوبی ہے وہ یہ کہ وہ کلاس پابندی سے لیتے رہے اور متن کو بے حد توجہ سے پڑھاتے رہے۔ اردو غزل کا پرچہ ہمیشہ انھوں نے پڑھایا اور شاعری کی جو کچھ بھی ہم میں سوجھ بوجھ ہے، وہ پروفیسر خالد محمود کی بدولت ہی آئی۔ وہ طلبا سے بے پناہ محبت کرنے والے استاذ رہے اور مختلف مواقع پر انعامات اور ضرورت پڑنے پر خاموشی سے امداد بھی کرتے۔ شعبہ اردو کے کارکن جے رام ستی نے بھی خالد محمود کی نیکیوں اور خوبیوں کا مفصل ذکر کیا۔ الوداعیہ جلسے کی نظامت اور اظہار تشکرکے فرائض پروفیسر شہزاد انجم نے ادا کیے۔ جلسے کا آغاز شعبے کے ریسرچ اسکالر خالد حسن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس الوداعی جلسے میں پروفیسر خالد محمود صاحب کو شعبۂ اردو کے اساتذہ کی جانب سے شال، گلدستہ اور یادگاری تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبا موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *