جب بات ہندو مسلمان نہیں انسان کی ہوگی

تب کانگریس۔ بی جے پی بھی نہیں ہوگی

پونیہ پرسون باجپئی
پونیہ پرسون باجپئی

نگاہوں میں سونیا گاندھی اور نشانے پر راہل گاندھی۔ وار بھی چو طرفہ۔ کہیں اڑنگا لگانے والوں کی ہار کا ذکر تو کہیں ’کانگریس مُکت بھارت‘ کا فلسفہ۔ کوئی اکھڑپن سے ناراض، تو کوئی بدلتے دور میں کانگریس کے نہ بدلنے سے ناراض۔ کسی کو لگتا ہے سرجری ہونی چاہیے، تو کوئی فیصلہ کے انتظار میں۔ لیکن، کیا اس سے کانگریس کے اچھے دن آ  جائیں گے۔ یقیناً یہ سوال ہر کانگریس کو پریشان کر رہا ہوگا کہ چوک ہو کہاں رہی ہے یا پھر کانگریس حاشیہ پر جا کیوں رہی ہے۔ تو سوال تین ہیں۔ پہلا، کیا بدلتے سماجی و اقتصادی حالات سے کانگریس کا کوئی رشتہ ہے؟ دوسرا، کیا سڑک پر سروکار کے ساتھ جدوجہد کے لیے قدآور لیڈر بچے ہیں؟ تیسرا، کیا ایک وقت کا سب سے اہم کارکن ’ووٹ کلکٹر‘ کو کوئی اہمیت دیتا ہے؟ یقیناً گاندھی خاندان کی سیاسی جدوجہد میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا، لیکن گاندھی خاندان یہ نہیں سمجھ پایا کہ سماج کے اندر کی جدوجہد اور تناؤ بدل چکا ہے۔ سیاست کو لے کر عوام کا لگاؤ اور سیاست کے ذریعہ اقتدار کی سمجھ بھی اقتصادی اصلاح کے بعد، یعنی ۱۹۹۱ کے بعد، یعنی گزشتہ ۲۵ برسوں میں خاصی تیزی سے بدلی ہے۔ اور اس دور میں کانگریس اتنی ہی بدلی ہے کہ بزرگوں کو عزت دینے اور نوجوانوں کے پسینے کو اہمیت دینے کی کانگریسی روایت ہی کانگریس سے ختم ہو چکی ہے۔

دہلی کے سیاسی گلیارے کے رسوخ دار کانگریس کے بڑے لیڈر مان لیے گئے اور ۱۰ جن پتھ کے اندر جھانک کر باہر نکلنے والا سب سے طاقتور کانگریسی مانا جانے لگا۔ تو کانگریس کا مطلب اگر گاندھی خاندان ہو گیا، تو سمجھنا یہ بھی ہوگا کہ کانگریس کی تنظیم، کانگریس کا کیڈر، کانگریس کی قیادت، چاہے پنچایت سطح پر ہو یا ضلعی سطح پر یا پھر صوبائی سطح پر۔ کمان کسی کے بھی ہاتھ میں ہو، کمان تھامنے والا اپنی جگہ راہل گاندھی یا سونیا گاندھی ہی ہے۔ یعنی کانگریس نہ تو گاندھی خاندان کے اورے سے باہر آ پائی ہے اور نہ ہی آزٓدی کی جدوجہد کے اس ناسٹیلزیا سے باہر نکل پائی، جہاں بات ہندو، مسلم، دلت، آدیواسی سے باہر نکل کر انسان کا سوال سب سے بڑا ہو جائے۔ اور، انسان کو یکساں مان کر سیاسی سوال ملک میں اٹھنے چاہئیں، اس سے بھی سیاسی پارٹیوں نے پرہیز کیا، تو وجہ قومی سیاست کا دہلی میں سمٹنا ہو گیا، کیوں کہ دہلی کا مرکزی اقتدار کام کیسے کرتا ہے اور اقتدار کے لیے کیسی سیاست ہوتی ہے، یہ اس سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ دہلی میں آسام کی جیت کو لے کر بی جے پی کے جشن کا آخری سچ یہ بھی ہے کہ اگر اے جے پی (آسام گن پریشد) اور بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ نہ ہوتا، تو وہاں بی جے پی سرکار بھی نہ ہوتی اور کانگریس اگر اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ اتحاد کر لیتی تو اتنی مایوس بھی نہ ہوتی۔

لیکن سوال آسام کی جیت ہار کا نہیں، بلکہ سوال بی جے پی اور کانگریس کو اب جیت کے لیے علاقائی ساتھیوں کی ضرورت لگاتار بڑھ رہی ہے۔ یہ موجودہ دور کا سچ ہے، کیوں کہ صحیح معنی میں بی جے پی نے اپنے بوتے ہریانہ، گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور گوا، یعنی چھ صوبوں میں حکومت بنائی ہے۔ تو کانگریس نے اپنے بوتے کرناٹک، ہماچل، منی پور، میگھالیہ، میزورم میں حکومت بنائی ہے۔ اور ملک کے باقی صوبوں میں علاقائی پارٹیوں کے تعاون کے ساتھ ہی کانگریس، بی جے پی یا پھر علاقائی پارٹیوں نے اپنے بوتے حکومت بنائی ہے۔ یعنی بی جے پی ہو یا کانگریس، سچ تو یہی ہے کہ دونوں ہی قومی پارٹیاں دھیرے دھیرے علاقائی پارٹیوں کے آسرے ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اور علاقائی پارٹیوں کی طاقت یہی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے ووٹروں کو دہلی سے ان کا حق دلانے سے لے کر خود اپنے سروکار بھی ووٹروں سے جوڑتی ہیں۔ یعنی، بی جے پی چاہے خود کو پین انڈیا پارٹی کے طور پر دیکھے یا کانگریس چاہے خود کو آزادی سے پہلے کی پارٹی مان کر خود ہی ہندوستان سے جوڑ لے، لیکن سچ یہی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں آپسی ٹکراؤ میں سمٹ رہی ہیں اور انتخابی جیت کے لیے علاقائی پارٹیوں کے کندھے پر سوار ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ شہہ ۔ مات کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ اور اس کھیل میں ووٹر کیسے ٹھگا جاتا ہے اور اقتدار کیسے تشکیل پاتی ہے یہ مسلم اکثریتی چار صوبوں سے سمجھا جا سکتا ہے، کیوں کہ جموں و کشمیر میں تقریباً ۶۸ فیصد مسلمان ہیں اور پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی حکومت چلا رہی ہے۔ آسام میں ۳۴ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں اور اے جے پی و بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے جا رہی ہے۔ پھر بنگال اور کیرل میں قریب ۲۷ فیصد مسلمان ہیں اور پہلی بار دونوں ہی صوبوں میں بی جے پی امیدواروں نے انتخابی جیت کی دستک دی ہے۔

تو سوال کئی ہیں۔ مثلاً، کیا بی جے پی کو مسلم مخالف بتانا بی جے پی کو ہی فائدہ پہنچانا ہے؟ کیا خود بی جے پی چاہتی ہے کہ وہ ہندوتوا کے رنگ میں دکھائی دے، جس سے مسلم مخالفت کی سوچ برقرار رہے؟ یا پھر ووٹر مذہب اور ذات میں بٹتا ہے، لیکن اقتدار کا کردار ہندو۔مسلم، دلت، آدیواسی نہیں دیکھتا۔ کیوں کہ سارا کھیل ووٹ بینک بناکر اقتدار تک پہنچنے کا ہے اور اقتدار کا اتحاد ووٹ بینک کی تھیوری کو خارج کر کم از کم متفقہ پروگرام پر چلنے لگتا ہے۔ تو، ہو سکتا ہے کہ واقعی آج تقریباً ۶۸ سال بعد کانگریس ملک میں اپنے سیاسی سفر کے آخری پڑاؤ پر ہو اور بی جے پی بلندی پر۔ لیکن، سوال یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی یہ بلندی کہیں اس کے بھی خاتمہ کی شروعات تو نہیں؟ کیوں کہ ۱۹۸۴ میں بی جے پی اگر لوک سبھا میں ۲ سیٹ پر سمٹ کے رہ گئی، تو کانگریس کے پاس ۴۰۳ سیٹیں تھیں۔ آج تصویر الٹ چکی ہے۔ لیکن جس طرح سے کانگریس کو عوام نے خارج کر دیا ہے، کیا کل کو انھیں حالات پر بی جے پی نہیں پہنچ سکتی ہے؟ اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کی سیاست کا تقریباً ایک سا ہونا، کیوں کہ دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے سیاسی سفر میں ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کو ہی اپنایا۔

۱۹۸۹ میں وشو ہندو پریشد کے رام جنم بھومی شلانیاس آندولن کے دوران بھاگل پور میں فساد ہوئے، تو بہار میں حکومت کانگریس کی تھی۔ ۱۹۹۲ میں بی جے پی کی قیادت میں بابری مسجد گرائی گئی تھی، تو مرکز میں کانگریس تھی۔ ۱۹۹۲ میں مہاراشٹر میں شو سینا کے بھڑکانے پر فساد ہوئے، تو مرکز اور مہاراشٹر میں حکومت کانگریس کی تھی۔ شری کرشنا رپورٹ نے بال ٹھاکرے اور شو سینا کو فسادات کے لیے قصوروار مانا، لیکن کانگریس حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایسی نہ جانے کتنی مثالیں ہیں، جن میں صاف ہے کہ فساد اگر بی جے پی یا اس کے حلیفوں کے بھڑکانے پر ہوئے، تو کانگریس نے سماج کو بانٹنے والے ان دردناک حادثوں پر روک لگانے کے لیے صحیح قدم نہیں اٹھائے۔ سماج بٹتا گیا اور کانگریسی حکومت چلتی رہی، جب تک چل سکی۔ آج بی جے پی بھی اسی راہ پر ہے۔ افواہوں کی بنیاد پر فرقہ وارانہ فسادات۔ بیف کے نام پر قتل۔ مرکزی حکومت کی خاموشی۔ نعروں کی کسوٹی پر غدارِ وطن اور محب وطن کا طے ہونا۔ تاریخ کو دوبارہ لکھے جانے کی کوشش۔ اور اس کے برعکس ہر سال ایک کروڑ دس لاکھ نوجوانوں کا روزگار کے بازار میں اترنا اور اس میں سے زیادہ تر کا بے روزگار رہ جانا۔ تعلیم کے میدان میں جی ڈی پی کے ۶ فیصد کی تقسیم کا مطالبہ، تو صحت کے شعبہ میں طے کیے گئے جی ڈی پی کے ایک اعشاریہ دو فیصد حصے کو تقریباً دوگنا کرنے کی درکار اور ملک کی بڑی آبادی پر قحط کا اثر۔ ظاہر ہے، ترقی کے قحط سے لے کر پانی کے قحط سے نبردآزما لوگوں کو نعرہ نہیں پانی چاہیے۔ کانگریس سماج کو تقسیم کرنے کا کام چھپ کر کرتی تھی، بی جے پی کی سیاست کھلی ہے، تو وہ کم و بیش کھل کر کر رہی ہے۔ اور آخری سوال بی جے پی کو لے کر اس لیے، کیوں کہ کشمیری پنڈتوں کے سوال وادی میں اب بھی میں ان سلجھے ہیں، جب کہ اقتدار میں پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی ہی ہے۔ تو بات کانگریس سے شروع ہوئی اور ختم بی جے پی پر ہوئی، تو سمجھنا ہوگا کہ آنے والے وقت میں کانگریس یا بی جے پی کی گونج سے زیادہ علاقائی پارٹیوں کا عروج اس لیے ہوگا، کیوں کہ دھیرے دھیرے بات ہندو۔ مسلمان کی نہیں، انسان کی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *