جماعت اسلامی ہند نے بجٹ ۲۰۱۶۔۱۷ کے لیے اپنی تجاویز وزیر خزانہ کو ارسال کیں

نئی دہلی، ۲۹ جنوری (پریس ریلیز): جماعت اسلامی ہند نے مالیاتی بجٹ ۲۰۱۶۔۱۷کے لیے اپنی چند تجاویز مرکزی وزارت خزانہ کو پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں سوشل سیکٹر، دیہی ترقی، ایکو یٹی کی بنیاد پرسرمایہ کاری اور کاشت کے لئے بلا سودی قرض سے متعلق سفارشات شامل ہیں۔ جماعت نے وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل سیکٹر کے لئے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لئے جی ڈی پی کا بالترتیب ۶ اور ۳ فیصد فنڈ مختص کیا جائے۔
جماعت اسلامی ہند نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ تعلیم اور صحت کے میدان میں نجی سیکٹر کی شمولیت سے ان کی خدمات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جہاں عام آدمی کی رسائی ناممکن ہے۔ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان خدمات کو پبلک ۔ پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل (پی پی پی ماڈل) سے آزاد کر کے ان کی ترقی میں حکومت کے رول کو بڑھایا جائے۔
۲۷ جنوری کو مرکز جماعت اسلامی ہند میں مرکزی ذمہ داروں اور ماہر معاشیات کی مٹنگ میں غور و خوض کے بعد ملک کی سماجی حالات کی اصلاح و ترقی کے پیش نظر ایک قرارداد پاس کی گئی، جس میں حکومت کے لیے تجاویزطے کرنے کے بعد اسے متعلقہ وزارت کو ارسال کیا گیا۔
تجاویز میں حکومت کے ذریعہ شہری ترقیات کے تئیں کئے گئے فیصلے کو خوش آئند بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ترقی سے دیہی ترقی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ دیہی علاقے سے میٹرو اور شہروں کی طرف منتقلی کو روکنے کے لئے تجاویزمیں کہا گیا کہ بجلی، حفظان صحت سے متعلق سہولتوں، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کو فراہم کرکے ممکنہ حد تک منتقلی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تجاویز میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ مرکزی حکومت اس معا ملے کو صرف ریاستی اور پنچایتی حکومت کی ذمہ داری قرار نہ دے، بلکہ خود بھی مثبت کردار ادا کرے۔ ایکویٹی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے سلسلے میں تجاویز میں سفارش کی گئی ہے کہ کم بچت والے اس سرمایہ کو قومی منصوبوں جیسے بنیادی ڈھانچوں کی ترقیات میں لگایا جا سکتا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد حاصل شدہ آمدنی کو ایکو یٹی ہو لڈروں کے درمیان شیئر کی تقسیم کر دی جا سکتی ہے۔ ان تجاویز کے پس منظر میں جماعت کابنیادی خیال یہ ہے کہ اس سے ملک میں ہی مطلوبہ فنڈ پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند نے اپنی تجاویز میں یہ سفارش بھی کی ہے کہ کسانوں کو بلاسودی قرض دیے جانے سے ملک میں روزانہ خود کشی کی بڑھتی تعداد کوروکا جا سکتا ہے۔ جماعت کےقائدین نے آئندہ بجٹ میں ان تجاویز کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *