جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف

محبوبہ مفتی ہوں گی ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ، گورنر سے آج کریں گی ملاقات

تصویر: بشکریہ گوگل
تصویر: بشکریہ گوگل

نئی دہلی، ۲۵ مارچ (نامہ نگار): جموں و کشمیر میں نئی حکومت بنانے کو لے کر پچھلے ڈھائی مہینوں سے جاری تعطل کل اُس وقت ختم ہو گیا، جب پی ڈی پی کے ممبرانِ اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے محبوبہ مفتی کو قانون ساز کونسل کا لیڈر منتخب کر لیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی آج ہی ریاست کے گورنر این این ووہرا سے ملاقات کریں گی اور ریاست میں بی جے پی کے اشتراک سے اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کریں گی۔ گورنر این این ووہرا نے پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی اور بی جے پی صدر امت شاہ کو ملاقات کے لیے الگ الگ وقت دیا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں پس و پیش سے کام لے رہی تھیں۔ لیکن گزشتہ منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ریاست میں حکومت سازی کا راستہ پوری طرح صاف ہو گیا۔ اس کے بعد پی ڈی پی کے اراکین اسمبلی نے کل ایک میٹنگ کے دوران محبوبہ مفتی کو لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا۔ اس طرح محبوبہ مفتی کو ریاست جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے کا امتیاز حاصل ہو جائے گا۔

جمعرات کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی لیڈر مظفر بیگ نے بتایا کہ محبوبہ مفتی کل، یعنی آج گورنر این این ووہرا سے ملاقات کرکے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کریں گی اور اسی کے بعد حلف برادری کی تاریخ طے کی جائے گی۔ بیگ نے کہا کہ ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سینئر لیڈروں نے محبوبہ مفتی کو لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ مفتی محمد سعید صاحب نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے سے پہلے وزیر اعظم کے ساتھ تفصیلی بات کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد محبوبہ جی کو یہ رشتہ بنانا تھا۔ حلف برادری کی تاریخ گورنر سے ملاقات کے بعد طے کی جائے گی۔ ہمارے اتحاد کا ایجنڈا مجموعی ہے اور اس میں کسی کمی، بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد گزشتہ ۸ جنوری کو ریاست جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ سال ۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات میں ۲۸ سیٹیں حاصل کرکے پی ڈی پی پہلے نمبر پر تھی، لیکن دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اسے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت کی تشکیل کرنی پڑی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *