جمہوریت کو بچانے کے لیے سماج کو بیدار ہوناپڑے گا

پٹنہ:
ہندوستان میں جمہوریت ہے ۔ جمہوریت میں عوام اقتدار کا سرچشمہ ہوتے ہیں ، لیکن جو موجودہ سیاسی تانا بانا ہے، اس میں عوام کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سب کچھ چندایک بڑے کارپوریٹ گھرانے کنٹرول کررہے ہیں۔ یہ باتیں اتوار کو یہاں گاندھی سنگرھالیہ کے کانفرنس ہال میں ایسوسی فار ڈیموکریٹک ریفارمس اور بہار الیکشن واچ کے زیر اہتمام منعقد ایک مذاکرہ میں شرکاء نے کہیں۔ اس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے
معروف ماہر اقتصادیات پروفیسر نول کشور چودھری نے کہا کہ سماج میں بدعنوانی گھر کر گئی ہے۔ خاص طور سے جو پڑھا لکھا طبقہ ہے، اس نے تو اور بھی زیادہ برا حال کررکھا ہے۔ وہ اقتدار کے لالچ میں غلط لوگوں کے غلط کاموں کو صحیح ٹھہرانے کے لیے اپنی عقل لگاتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد خاص طور سے کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ پرروک لگائی جانی چاہیے کہ وہ جب تک ملازمت میں رہیں سیاست میں حصہ نہیں لیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے اساتذہ پڑھانا چھوڑ کر سیاست میں چلے جاتے ہیں اور پھر واپس آکر خود کو پروفیسر کہلوانے لگتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ پنشن بھی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنے ایک ایک روپے کے چندے کا حساب دینا چاہیے لیکن جب تک ایسا قانون نہیں بنتا تب تک ہمیں دو ہزار روپے سے اوپر کے چندے کا حساب دینے کے لیے جو ضابطہ لایا جارہا ہے، اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ پروفیسر نول کشور چودھری نے کہا کہ سیاسی جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی جمہوریت کو قائم کرنا ضروری ہے۔ ملک میں چند لوگوں کے پاس دولت جمع
ہوگئی ہے اور وہی سیاسی پارٹیوں کو چلا رہے ہیں۔ اسی کی وجہ سے بہت سی خرابی آرہی ہے۔

خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نول کشور چودھری جبکہ اسٹیج پر اخلاق احمد، ویاس، منی کانت ٹھاکر ودیگر
خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نول کشور چودھری جبکہ اسٹیج پر اخلاق احمد، ویاس، منی کانت ٹھاکر ودیگر
مذاکرے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی منی کانت ٹھاکر نے کہا کہ اپنے یہاں سیاسی پارٹیوں میں نہ شفافیت ہے ، نہ جوابدہی اور نہ ہی جمہوریت ۔ اس سب کے باوجود ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صحافت میں بھی یہی اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے الیکشن ایک اتسو کی طرح ہوتا تھا۔ ہر طرف الیکشن کی باتیں ہوتی تھیں، بچوں کے لیے بھی یہ جشن کا ماحول ہوتا تھا ، لیکن اب الیکشن کے دنوں میں ماحول کشیدہ رہتا ہے۔ ہر طرف تناؤ رہتا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سیاست میں سبھی لوگ ایسے آگئے ہیں جن سے کوئی امید نہیں ہے۔ ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن سے امید کی جاسکتی ہے۔ نئی نسل کے افراد نئے خیالات کے ساتھ سیاست میں آرہے ہیں۔ مذاکرے میں جنتادل متحدہ کے لیڈر پروفیسر غلام غوث نے کہا کہ سیاستداں کہیں اوپر سے نہیں آتے ہیں وہ بھی سماج ہی کا حصہ ہوتے ہیں ۔ سماج کے ہر طبقے میں بدعنوانی ہے۔ سیاستداں کے بارے میں تو مشہور ہے ہی لیکن صحافت،وکالت، عدلیہ ، پولیس کوئی بھی اس بیماری سے نہیں چھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں کئی ججوں کو جانتا ہوں اور ان کے نام لے کر بتا سکتا ہوں کہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے صحافی ایسے ہیں جن کو دو دو سو روپے دے کر آپ جو چاہیں اخبار میں شائع کروالیں۔‘
اس مذاکرے کی نظامت کرہے بہار الیکشن واچ کے کنوینر راجیو کمار نے کہا کہ اے ڈی آر اور بہار الیکشن واچ عوام میں بیداری لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی پارٹیوں کے چندوں میں شفافیت لانے کے لییہماری مہم جاری ہے۔الیکشن کمیشن نے بھی ہماری باتوں کو سنا ہے اور سیاسی پارٹیوں کے چندوں میں شفافیت لانے کے لیے اپنے طور پر اقدامات کررہا ہے۔ انتخابی عمل کو صاف ستھرا بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *