جمہوریت کے دفاع میں ہزاروں افراد کا پیدل مارچ

People's March (2)
نئی دہلی، ۳۱ جنوری: بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ۶۸ویں یومِ شہادت پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے کل دہلی کے منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک پیدل مارچ نکالا۔ اس مارچ میں ۶۷ تنظیموں اور تحریکوں سے وابستہ نوجوانوں، دلتوں، آدیواسیوں، مذہبی و جنسی اقلیتوں، جسمانی طور سے معذور گروہوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
People's March (3)
ایسا پہلی بار ہے، جب ملک کی مختلف تنظیموں اور گروہوں نے کندھے سے کندھا ملا کر آئین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مارچ نکالا۔ ان تمام لوگوں نے ملک کے آئین، آزادی، انصاف، برابری اور ہم آہنگی پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
People's March (4)
’پیپلز مارچ‘ کی قیادت دلتوں نے کی، جب کہ میوات کے رمضان چودھری کی قیادت میں وہاں کے کسانوں نے اپنے ہاتھوں میں روہت ویمولا کا ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا۔ مارچ میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات کے نام ہیں: جسٹس راجندر سچر، پروشوتم اگروال، دلیپ سیمین، ہرش مندر، اپوروا آنند، اینی راجا، اچن ونائک، سیدہ سیدین حمید، سیما مصطفیٰ، شبھا مینن، گوہر رضا، نندنی راؤ، نوید حامد، نور ظہیر، اقبال احمد، فیروز خان غازی، امت سین گپتا، انل پنیکر اور شبنم ہاشمی وغیرہ۔
People's March (5)
مارچ کے اختتام پر ۴۰۰ اہم شخصیات کا دستخط کنندہ ایک بیان بھی جارا کیا گیا، جس میں جمہوریت پر بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ملک کے تکثیری مزاج کی تعریف کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *