جیلوں میں بڑھتی مسلمانوں کی آبادی، ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی
ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی

اسکولوں میں مسلمانوں کی تعداد کم، سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد کم، مسلم ڈاکٹروں اور انجینئروں کی تعداد کم، مسلم لیڈروں اور رہنماؤں کی تعداد کم، لیکن جیلوں میں مسلم قیدیوں کی تعداد ملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسلمان چوری، ڈکیتی، قتل اور عصمت دری میں ماہر ہوتے ہیں؟ کیا ملک میں ایسی کوئی جگہ یا ادارہ ہے جہاں پر انہیں جرائم کی ٹریننگ دی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ملک کی جیلوں میں جرائم کے ان معاملات میں مسلم قیدیوں کی ہی تعداد زیادہ کیوں ہے؟

آج سے ۶۷ سال قبل ہندوستان جب آزاد ہوا تھا تو سب نے یہی سوچا تھا کہ اب ہمارا ملک ترقی کرے گا۔ آزاد ملک میں تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی۔ ملک سے چھواچھوت اور ذات پات کی تقسیم ختم ہوگی۔ ہر مذہب و مسلک کے لوگ ایک ہندوستانی کے طور پر آپس میں بھائی چارگی کی زندگی گزاریں گے۔ مذہبی منافرت کو سیکولر ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ یہی خواب بابائے قوم مہاتما گاندھی نے دیکھا تھا اور اسی کی یقین دہانی ہمارے آئین سازوں نے دستورِ ہند میں کی تھی۔ لیکن آج ۶۷ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ذات پات کی سیاست آج ہمارے ملک کا مقدر بن چکی ہے، مذہب کے نام پر لڑائی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ آئین نے تمام شہریوں کو جو حقوق عطا کیے تھے، اس میں جانبداری سے کام لیا جا رہا ہے اور اس طرح آئین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی حالت دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ کتنی نا انصافی ہوئی ہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومتوں پر تھی، جنہیں عوام نے منتخب کرکے مرکز یا مختلف ریاستوں میں حکومت بنانے کا موقع عطا کیا تھا۔ لیکن ان حکومتوں نے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس کے لیے اگر ملک میں سب سے زیادہ ذمہ دار اگر کوئی پارٹی ہے تو وہ کانگریس پارٹی ہے، کیوں کہ آزادی کے بعد سے اب تک اس ملک میں حکومت کی باگ ڈور سب سے زیادہ کانگریس کے پاس ہی رہی ہے۔ کانگریس پر جب مسلمانوں کی اندیکھی کرنے کا الزام حد سے زیادہ بڑھنے لگا تو آج سے سات سال قبل مرکز میں زیر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے – ۱ حکومت نے سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے اس ملک کے مسلمانوں کی صحیح صورتِ حال جاننے کی کوشش کی، اور جب سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو ہندوستان کا ہر شہری یہ سن کر حیران تھا کہ آج ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے۔ اس رپورٹ نے بتایا کہ مسلمان تعلیمی، سماجی اور اقتصادی طور پربہت زیادہ پچھڑ چکے ہیں۔ سچر کمیٹی کی ہی رپورٹ نے پہلی بار اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ملک کی جیلوں میں مسلمانوں کی آبادی ملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہے۔ موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کل آبادی اس وقت پندرہ سے بیس فیصد کے درمیان ہے، لیکن جیلوں میں ان کی آبادی چالیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سال ۲۰۰۶ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ملک کی کسی ریاست میں اگر مسلم قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، تو وہ ریاست ہے مہاراشٹر۔ لیکن نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی دسمبر ۲۰۱۰ تک کی گنتی کے مطابق، آج مہاراشٹر اس معاملے میں پیچھے چھوٹ چکا ہے اور اس کی جگہ اتر پردیش نے لے لی ہے، جہاں پر مسلم قیدیوں کی تعداد اس وقت ۲۱ ہزار ۹۷ ہے۔دوسرے نمبر پر مغربی بنگال ہے، جہاں پر مسلم قیدیوں کی تعداد ۸۴۸۸ ہے۔ تیسرا نمبر ہے مہاراشٹر کا، جہاں پر مسلم قیدیوں کی تعداد ہے ۷۶۶۳ اور چوتھے نمبر پر ہے بہار، جہاں پر ۶۶۶۹ مسلم قیدی جیلوں میں بند ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ سے متاثر ہو کر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے پچھلے سال مہاراشٹر کی متعدد جیلوں کا سروے کیا تھا اور ان میں بند مسلم قیدیوں کی صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کی تھی۔ اس کی تحقیق کے دوران مسلم قیدیوں سے متعلق درج ذیل حقائق سامنے آئے:

–  ممبئی سنٹرل اور تھانے سنٹرل جیل میں مسلم قیدیوں کی کل تعداد ۵۲ فیصد ہے اور یہ تمام قیدی انڈر ٹرائل ہیں۔

– پورے مہاراشٹر میں ۱۸ سے ۳۰ سال کی عمر کے جتنے بھی قیدی ہیں، ان میں مسلم قیدیوں کا حصہ ۵۔۶۶ فیصد ہے۔

– یہ مسلم قیدی یا تو اَن پڑھ ہیں یا پھر انہوں نے صرف پرائمری اسکول تک تعلیم حاصل کی ہے۔

– گرفتاری کے وقت بہت کم مسلم ایسے تھے جو بے روزگار رہے ہوں، بلکہ زیادہ تر کچھ نہ کما ضرور رہے تھے اور ان کی ماہانہ آمدنی ۲۰۰۰ روپے سے لے کر ۵۰۰۰ روپے تک تھی۔

– تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ جو مسلم نوجوان گرفتار کیے گئے وہ اپنی فیملی میں کمانے والے واحد فرد تھے اور پوری فیملی کا پیٹ اُن کی کمائی سے ہی بھرتا تھا۔

– جن مسلم قیدیوں کا انٹرویو کیا گیا ان میں سے ۵۔۷۵ فیصد ایسے تھے، جنہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا، یعنی وہ کرمنل بیک گراؤنڈ کے نہیں تھے۔

– مسلم قیدیوں کے زیادہ تر معاملے انسانی جسم کو نقصان پہنچانے سے متعلق تھے۔ اس میں قتل، قتل کی کوشش، عصمت دری، اغوا یا کسی پر حملہ کرنا شامل ہے۔ ان میں بھی زیادہ تر معاملے خاندانی رشتے، پیسے یا پراپرٹی کے جھگڑے، عشق، بدلہ لینے کی سوچ وغیرہ سے متعلق ہیں، جن میں اکثریت ان معاملوں کی ہے جو شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے سے متعلق ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں قیدیوں نے اپنی گرفتاری کے لیے ناقص پولس سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرم کرنے سے باز آنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بار جرم کردینے اور گرفتار ہوجانے کے بعد ان کے علاقہ میں جب بھی کرائم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولس پہلے انہیں ہی گرفتار کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار جیل پہنچ جاتے ہیں اور جرائم کی دنیا سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ کچھ مسلم قیدیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پولس کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے مسلمانوں کو بار بار گرفتار کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی اس حالت کے لیے ان کی غریبی اور ناخواندگی تو ذمہ دار ہے ہی، ساتھ ہی ذمہ دار ہے ملک کا ناقص پولس سسٹم۔ ہندوستانی جیلوں پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین مسلمانوں کے تئیں متعصبانہ کرمنل جسٹس سسٹم کو بھی اس کی ایک بڑی وجہ مانتے ہیں۔ مسلم قیدیوں کی کیس اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ جیلوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جنہیں پراپرٹی سے متعلق جھگڑے، مارپیٹ، قتل یا قتل کرنے کی کوشش، عصمت دری اور چوری ڈکیتی جیسے معاملوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری طرف حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر مسلم قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ سات دن تک پولس کسٹڈی میں رکھنے کی اجازت دی گئی، کیوں کہ یا تو پولس نے اپنی جانچ سات دنوں میں مکمل کر لی اور کوئی بڑا جرم ثابت نہ کر پانے کی وجہ سے عدالت کی طرف سے ان ملزموں کو ضمانت مل گئی، یا پھر عدالت نے اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ ان مسلم قیدیوں کو زیادہ دنوں تک جیلوں میں بند رکھا جائے۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مسلم قیدیوں کی عمر ۱۸ سے ۳۰ سال کے درمیان ہے۔ اتنی کم عمر میں کسی بڑے جرم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی جیلوں میں جتنے مسلم قیدی اس وقت بند ہیں، ان میں سے بہت کم ایسے ہیں، جن کا جرم ثابت ہو چکا ہے اور اکثریت ایسے افراد کی ہے، جن کا معاملہ سالوں سے عدالت کے سامنے زیر غور ہے۔ بہت سے ایسے معاملات ہیں جن کا مشاہدہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ قیدی نے کوئی چوری نہیں کی تھی، لیکن اس پر زبردستی چوری کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں پہلی پیشی کے دوران چونکہ اس نے اپنا جرم قبول کرنے سے منع کردیا تھا، اس لیے عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا اور اس کے معاملہ کی مزید تفتیش کرنے کا حکم دیا اور اس طرح عدالت سے اس قیدی کو تاریخ پر تاریخ ملتی رہی۔ کچھ سال گزرنے کے بعد قیدی نے اپنا جرم قبول کرنا ہی مناسب سمجھا لیکن تب جاکر اسے معلوم ہوا کہ جس چوری کے جھوٹے الزام میں اسے گرفتار کیا گیا تھا اس کی سزا صرف چھ ماہ قید کی ہے، لیکن اب تک اس نے تین سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ حراست میں گزار دیا ہے۔

ہم اکثر ٹی وی چینلوں پر یا اخبار میں اس قسم کی خبریں دیکھتے یا پڑھتے ہیں کہ پولس نے فلاں شخص کو فلاں جرم میں گرفتار کر لیا، لیکن اس گرفتاری کے پیچھے حقیقی اسباب کیا تھے، ان کے بارے میںنہ تو کہیں کسی ٹی وی چینل پر دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی اخباروں میں پڑھنے کو ملتا ہے، البتہ چند رضاکار تنظیموں کی طرف سے قیدیوں کی زندگی پر کی گئی ریسرچ سے بعض دفعہ کچھ حقائق دیکھنے اور سننے کو مل جاتے ہیں۔ جیلوں سے متعلق کی گئی ریسرچ اور رپورٹوں کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی جیلوں میں اب بھی ہزاروں ایسے افراد بند ہیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں بغیر کوئی گناہ کیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔ ان میں سے چند واقعات تو کافی حیران کر دینے والے ہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی کی ایک جیل میں بند منیر نام کے ایک نوجوان مسلم لڑکے کی کہانی یہ ہے کہ ایک دن جب اسے اپنے والد کے کافی بیمار پڑنے کی خبر ملی تو ٹرین پکڑ کر اپنے گھر کے لیے روانہ ہوگیا، لیکن راستے میں اچانک اس کے پیٹ میں کافی درد ہونے لگا، جس کی وجہ سے وہ بیچ راستے میں ہی کسی پلیٹ فارم پر اتر گیا اور سوچنے لگا کہ کیسے ڈاکٹر تک پہنچے، تبھی دو پولس والے اس کے پاس آئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ اسے کہاں جانا ہے اور وہ کہاں سے آ رہا ہے۔ ان پولس والوں نے اس کے بیگ کو جب کھول کر دیکھا تو اس میں بارہ ہزار روپے پڑے ہوئے تھے۔ اس پیسے کو دیکھ کر پولس والوں کی نیت خراب ہوگئی۔ وہ منیر کو لے کر پولس اسٹیشن گئے، وہاں اسے چائے پلائی اور پیٹ درد کے لیے دوا بھی دی۔ کچھ دیر بعد وہ اسے ایک سینئر پولس والے کے سامنے لے گئے اور وہاں پر اس کے بیگ کو دوبارہ کھولا۔ بیگ میں سے ایک ’پیکٹ‘ ملا، جس کے بارے میں پولس نے منیر سے پوچھ گچھ کی اور اسے مارا پیٹا کہ یہ اس کے بیگ میں کیسے پہنچا۔ جب منیر نے مار کھانے کے بعد بھی لاعلمی کا اظہار کیا تو پولس والوں نے کہا کہ اس ’پیکٹ‘ میں غیر قانونی ’ڈرگ‘ ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر انہوں نے منیر کو گرفتار کر لیا۔ منیر کا یہ ماننا ہے کہ پولس والوں نے اسے ۱۲ ہزار روپے کی وجہ سے گرفتار کیا اور اس کے خلاف ’ڈرگ‘ اسمگلنگ کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ منیر کی جیل میں خبر خیریت لینے والا کوئی نہیں ہے، وہ نہ تو اپنے والد کو اس کی اطلاع دے سکتا ہے کیوں کہ وہ پہلے سے ہی بیمار ہیں اور نہ ہی اس کی ماں اس سے ملنے اتنی دور ممبئی آسکتی ہیں۔ وہ اپنی گرفتاری کی خبر اپنے گاؤں تک نہیں پہنچنے دینا چاہتا، کیوں کہ اسے ڈر ہے کہ اس کی ایک غیر شادی شدہ بہن کی شادی میں بعد میں چل کر دقت آسکتی ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ وہ کوئی وکیل کر سکے اور عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکے ۔ اس طرح وہ ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہا ہے۔

ان حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس کا علاج کیسے کیا جائے۔ ملک کے پولس نظام کو تو درست کرنے کی ضرورت ہے ہی، کیوں کہ موجودہ پولس سسٹم انگریزوں کے دور کا ہے اور انگریزوں نے پولس سسٹم ہندوستانیوں کو غلام بنانے اور ان پر حکمرانی کرنے کے لیے تیار کیا تھا، آزاد ہندوستان میں اس کے کام کاج کے طریقے اور نظریے میں تبدیلی آنی چاہیے تھی، لیکن بڑے ایسا نہیں ہوا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے دیگر باشندے بھی پولس سسٹم سے پریشان ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف پولس کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے ہی جیلوں میں مسلم قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، بلکہ اس کے لیے خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں۔ وہ اس لیے ذمہ دار ہیں، کیو ںکہ ان کے اندر تعلیم نہیں ہے، ان کے والدین بچپن سے ہی انہیں کسی کام میں لگا دیتے ہیں تاکہ ان کا بچہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکے، لیکن یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں بہکنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بچے چوری، نشہ خوری اور اس جیسی دوسری بری عادتوں میں پھنس جاتے ہیں اور بڑے ہوکر اپنی انہی بری عادتوں اور خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے بڑے جرائم کو انجام دینے لگتے ہیں۔ لہٰذا، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ لیکن بعض دفعہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود مسلمانوں کو نوکری نہیں ملتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اپنی تعلیم کے لیے صرف مدرسوں کا رخ کرتی ہے، جہاں پر جدید تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے، اس لیے انہیں کوئی اچھی نوکری نہیں مل پاتی اور اس طرح پڑھ لکھ کر بھی وہ غریبی کے اندھیرے سے باہر نہیں نکل پاتے، اور ہم سب جانتے ہیں کہ سماج میں زیادہ تر برائیوں کی جڑ غریبی ہی ہے، اور مسلمان بھی اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک کی میڈیا نے مسلمانوں کی شبیہ کو سب سے زیادہ بگاڑا ہے۔ میڈیا کا یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مسائل سے متعلق خبریں اور رپورٹیں تو کم دیکھنے یا پڑھنے کو ملتی ہیں، لیکن اگر کسی مسلمان نے دہشت گردی کا کوئی واقعہ انجام دے دیا توکئی کئی دنوں تک ٹی وی پر اس کے بارے میں رپورٹیں پیش کی جاتی ہیں، اخباروں کے پہلے صفحہ پر اس خبر کو شائع کیا جاتا ہے۔ میڈیا کے اس رویہ میں تبدیلی آنی چاہیے اور اسے مسلمانوں کے ان ایشوز پر بھی فوکس کرنا چاہیے، جن سے انہیں تعلیمی، معاشی اور سماجی پس ماندگی سے باہر نکالا جاسکے۔ حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن نیت صاف اس لیے نہیں ہے، کیوں کہ کسی بھی پارٹی کی حکومت اگر مسلمانوں کی فلاح و ترقی سے متعلق کوئی کام کرتی ہے تو اس کا پہلا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگلے انتخاب میں مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ دیں۔ اس لیے یہاں بھی خلوص کا فقدان ہے، اسی لیے حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ اور اخیر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایسا رہنما نہیں ہے، جو انہیں صحیح راستہ دکھا سکے اور ایک اچھا شہری بننے کی طرف ان کی رہنمائی کر سکے اور انہیں متحد رکھ سکے۔ ان تمام خامیوں کو دور کرکے ہی مسلمانوں کو بہتر زندگی جینے کا موقع فراہم کرایا جاسکتا ہے، ورنہ مسلمانوں کی اندیکھی کرکے ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کا اپنا خواب کبھی پورا نہیں کرسکتا۔

qamartabrez@gmail.com, 09891686976

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *