جیل بھرو تحریک کو لے کر گجرات میں پٹیلوں کا ہنگامہ

Patidar's 'Jail Bharo Andolan'
تصویر: بشکریہ انڈین ایکسپریس

احمد آباد، ۱۷ اپریل (ایجنسیاں): ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی گجرات کی پٹیل برادری کی آج جیل بھرو تحریک نے اس وقت تشدد کا روپ اختیار کر لیا، جب پولس کے ساتھ ان کی جھڑپ ہو گئی۔ پورے گجرات سے تشدد کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ پاٹی دار انامت تحریک چلانے والوں نے کل، یعنی پیر کو پورے گجرات میں بند کا اعلان کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، گجرات کے کئی حصوں میں سرکاری بس سروِس بند کر دی گئی ہے اور مہسانہ میں کئی رپورٹروں اور میڈیا کے دفتروں پر حملے کی خبریں آ رہی ہیں۔ پٹیل برادری کے لوگوں نے آج اپنے لیڈر ہاردِک پٹیل کی گرفتاری کے خلاف پوری ریاست میں جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا تھا۔ اسی کے تحت انھوں نے مہسانہ، سورت، بھاؤ نگر اور دوسرے شہروں میں بڑی تعداد میں جمع ہو کر جیل کی جانب کوچ کیا، لیکن تبھی پولس بیچ میں آگئی اور اس نے انھیں روکنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑا۔

Gujarat violence

مہسانہ کے کلکٹر لوچن سہرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’جب پولس نے پاٹی دار برادری کے لوگوں کو جیل کیمپس میں داخل ہونے سے روکا، تو بھیڑ نے پولس والوں پر پتھر پھینکنے شروع کر دیے۔ اس کے بعد پولس کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ ہم نے دفعہ ۱۴۴ لگا دی ہے اور ساتھ ہی پورے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔‘‘

پولس نے بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے احمد آباد۔دہلی قومی شاہراہ پر آنسو گیس کے گولے اور پانی کی بوچھاروں کا بھی استعمال کیا، جس سے یہ لوگ اور بھی مشتعل ہو گئے۔ پاٹی دار لیڈر ہرس کیش نے بتایا کہ ’’پرامن احتجاج پر پولس نے لاٹھی چارج کیا، جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارے لیڈر لال جی پٹیل بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شمالی گجرات میں حالات ایک بار پھر سے قابو سے باہر ہو گئے ہیں۔‘‘

Gujarat violence01

دریں اثنا، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گجرات کی وزیر اعلیٰ آنندی بین سے بات کرکے مرکز کی طرف سے انھیں پوری مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بھی ٹویٹ کرکے لوگوں سے امن بحال رکھنے کی اپیل کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں پاٹی دار انامت تحریک کے روحِ رواں ہاردِک پٹیل کو گرفتار کرکے سورت کے لاجپور جیل میں بند کر دیا گیا تھا، جہاں سے ابھی تک ان کی رہائی نہیں ہو پائی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *