جے این یوکے گمشدہ طالب علم نجیب کے حق میں ریلی

محمد امین نواز

بیدر:
ایس آئی او بیدر یونٹ نے جواہرالعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو، نئی دہلی ) کے گمشدہ طالب علم نجیب کی بازیابی کے حق میں جمعرات کو یہاں ایک ریلی کا انعقاد کیا۔ یہ ریلی چوبارہ سے شروع ہوئی اور گاوان چوک، مین روڈ، اندرون شاہ گنج، بیرون شاہ گنج، امبیڈکر سرکل سے ہوتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دفتر پہنچی۔ ریلی کے منتظمین نے ڈپٹی کمشنر کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے نام ایک میمورنڈم دیتے ہوئے جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب احمد کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

میمورنڈم میں نجیب احمد کی فوری بازیابی کے لیے مؤثر اقدام کرنے کے ساتھ ہی اس کی گمشدگی کے لیے ذمہ دار افراد کو قرارواقعی سزادلانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی جانب سے نجیب کے خاندان پرمظالم کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یادداشت کی تفصیل میں تحریر ہے کہ نجیب احمد کی گمشدگی کے۱۰۰؍ سے زائد دن گذر گئے، طلبہ اور شہر یوں کا سوال ہے کہ حکومت، پولیس اور جواہر لعل نہرویونیورسٹی کے ارباب مجاز اس واقعہ پر خاموش کیوں ہیں؟ دہلی پولیس کی ایک ٹیم نے یوپی میں نجیب احمد کی ننھیال بھی پہنچ کرتفتیش کی تھی۔ ۲۳؍ جنوری کو اپنی آخری پیشی میں دہلی پولیس نے عدالت میں بتایا کہ گمشدہ نجیب احمد کوجاننے والے ۹؍ طالب علم پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ ہم ایس آ ئی او کے اراکین، جمہوری ملک کے سربراہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ محکمۂ پولیس کو حکم دیتے ہوئے نجیب کی گمشدگی کے واقعہ کے حالات کو بہتربنانے کی تاکید کریں۔ نجیب احمد کو جلد ازجلد واپس لایا جائے۔
ریلی کے دوران طلبہ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر اردو، انگریزی اور کنڑا میں نعرے درج تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نعرے ریلی میں لگائے گئے ان میں’’نجیب کو واپس لاؤ، ہمار ابھائی واپس لاؤ،امی تم سنگھرش کروہم تمہارے ساتھ ہیں، نجیب کو واپس لانا ہوگا ورنہ تم کو جانا ہوگا، ہمیں نجیب چاہیے، نجیب نجیب نجیب‘‘شامل تھے۔

Rally by SIOایس آئی او بیدر یونٹ کے صدرعاصم نعمان کی قیادت میں یہ ریلی نکالی گئی۔ نجیب الدین بگدل سابق ضلع صدر ایس آئی او کے علاوہ پروگرام آرگنائزر آصف احمد، پی آرسکریٹری فرحان، محمد جنید الدین  ، سید ابوالبیان، سید خضر، سید انوارالحق، سعید عامر، محمدامان الدین، سابق ایس آئی او ذمہ داران میں محمد آصف الدین، مبشر سندھے اور محمد عرفان احمد نے بھی ریلی میں جگہ جگہ تقرریں کیں اور لوگوں کو نجیب کے واقعہ سے واقف کرایا۔ دیگر تنظیموں کے نوجوانوں میں محمد خضر خان، اظہار سوداگر، محمد رشید، سمیر خان اسلم، محمد نعیم، محمدعارف خان، سندیپ دکشت اور یوتھ کانگریس کے نوید نے ریلی میں شریک ہوکر تعاون کیا۔ اس ریلی میں محمد ظفراللہ خان، محمد مجتبیٰ خان اور ایس آئی او بیدر کے علاوہ ایس آئی او بسوا کلیان، بگدل، اوراد (بی)، اوراد سن پور اور ہمنا آباد کے ممبران بھی شریک رہے۔ شہر کے مختلف کالجوں کے سیکڑوں طلبہ نے بھی اس ریلی میں شرکت کی۔ ریلی کے ساتھ چلتے ہوئے عام افراد سے اس ظلم کے خلاف دستخط بھی لیے گئے۔ سیکڑوں افراد نے دستخط کرتے ہوئے ریلی کی حمایت کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ ایس آئی او نے بیدر ضلع سے ۸۰؍ ہزار دستخط کا نشانہ مقرر کیا ہے اور قومی سطح پر۲۵؍ لاکھ دستخط مطلوب ہیں جو اقلیتی کمیشن کو دیا جائے گا تاکہ مظلومین کوانصاف مل سکے۔ ریلی کو اردو صحافت کا بڑا تعاون رہا۔ کنڑا صحافیوں کی نہ کے برابر تعداد ریلی کو کور کررہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *