جے این یو اور شاہین باغ کے باہر سرکاری اور عوامی سڑک جام: اسکولی بچے پریشان

ڈاکٹر قمر تبریز

نئی دہلی، ۱۴ جنوری

شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے لوگوں، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، کے ذریعے کالندی کُنج سے ہوکر نوئیڈا کی طرف جانے والی سڑک کو گزشتہ کئی ہفتوں سے جام کیے جانے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل (مفادِ عامہ کی عرضی) ڈالی گئی تھی، جس پر آج سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پولس سے کہا ہے کہ وہ عوامی مفادات اور قانون اور نظم و نسق کا خیال رکھتے ہوئے مناسب کارروائی کرے۔ لیکن، دوسری طرف مرکزی حکومت کے حکم سے دہلی پولس کے ذریعے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے داخلی دروازہ کے باہر سے گزرنے والے بابا گنگ ناتھ مارگ کو اکثر و بیشتر بند کر دینے سے مقامی باشندوں سمیت اسکولی بچوں کو آنے جانے میں جو دقتیں پیش آ رہی ہیں، اس کو لے کر کہیں کوئی چرچہ نہیں ہے۔ یہاں پولس کی موجودگی سے لوگ اس قدر خائف ہیں کہ کوئی بھی سامنے آکر کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی مقامی باشندوں اور اسکولی بس اور پرائیویٹ گاڑیوں کو چلانے والے ڈرائیوروں سے بات کی، تو سب نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنی پریشانیاں ہمیں بتائیں۔

بابا گنگ ناتھ مارگ کے بیچوں بیچ جے این یو گیٹ ہے، جہاں پر یونیورسٹی میں چل رہے موجودہ تنازع کی وجہ سے چوبیسوں گھنٹے سیکورٹی اہلکاروں کا پہرہ ہوتا ہے۔ دہلی پولس اور پیرا ملٹری فورس کے جوان عام طور سے اس سڑک کے تقریباً ۳۰۰ میٹر حصے کو بیریکیڈنگ لگاکر صبح ۹ بجے سے دیر شام تک کے لیے بند کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بابا گنگ ناتھ مارگ پر گاڑیوں کی آمد و رفت رک جاتی ہے۔ گیٹ کے باکل سامنے منیرکا گاؤں ہے، اور مشرق و مغرب دونوں جانب ڈی ڈی اے فلیٹس ہیں۔ جے این یو کے ساتھ ساتھ منیرکا اور ڈی ڈی اے فلیٹس میں رہنے والے بچے اسکول آنے جانے کے لیے اسی سڑک کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دہلی پبلک اسکول (ڈی پی ایس)، وسنت ویلی اسکول، ہولی چائلڈ آگزیلیم، ماؤنٹ کارمل، مدرس انٹرنیشنل، سینٹ اینتھونی، ٹیگور انٹرنیشنل، ماڈرن اسکول، چِن میّا جیسے نامی گرامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں کی بسیں بچوں کو اسکول لے جانے اور وہاں سے انہیں واپس گھر چھوڑنے کے لیے اسی سڑک کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن، سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے اسے بند کر دینے سے انہیں گزشتہ کئی مہینے سے دقتیں آ رہی ہیں۔ اسکولی بس اور پرائیویٹ گاڑیوں والے ان بچوں کو ان کے گھر سے ایک کلومیٹر دور ہی اُتار دیتے ہیں، جہاں سے انہیں اپنے کندھوں پر بھاری بیگ لاد کر گھر آنا پڑتا ہے۔ لیکن، اس کے خلاف آج تک کوئی نہ تو کسی عدالت میں پی آئی ایل لے کر پہنچا ہے اور نہ ہی کسی عوامی لیڈر نے بچوں کے اس مسئلہ کو دور کرنے کی کوئی کوشش کی ہے، جب کہ کچھ ہی دنوں بعد دہلی میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ جے این یو گیٹ کے باہر سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی سے صرف اسکولی بچوں کو ہی پریشانی ہو رہی ہو، بلکہ خود سیکورٹی اہلکار بھی بنیادی سہولیات کی کمی سے کافی پریشان ہیں۔ گیٹ کے ٹھیک باہر ایک بس اسٹینڈ ہے، جو آج کل پیشاب خانہ بن چکا ہے، جہاں کی بدبو وزیر اعظم نریندر مودی کے سوچھتا مشن کا مذاق اڑا رہی ہے۔ پولس اور پیرا ملٹری کے اکثر جوان گیٹ کے باہر کھلے میں یونہی کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے ہوتے ہیں۔ رات میں ٹھنڈ سے بچنے کے لیے وہ لکڑیاں جلا کر آگ تاپ رہے ہوتے ہیں۔ گندگی کے ڈھیر میں ہی کہیں کھڑے ہو کر اپنا ٹفن کھا رہے ہوتے ہیں۔ مرد سیکورٹی اہلکار حوائج ضروریہ کے لیے بھلے ہی کھلی جگہوں کا استعمال کر رہے ہوں، لیکن خواتین سیکورٹی اہلکاروں کو جو دقتیں پیش آ رہی ہوں گی اس کا ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ گیٹ سے تھوڑی ہی دوری پر منیرکا گاؤں میں سروودے ودیالیہ نام سے ایک سرکاری اسکول ہے۔ یہ اسکول صبح ۸ بجے سے دوپہر دو بجے تک چلتا ہے، لیکن اسکول کے اوقات میں یہ خواتین اہلکار اسکول کے ٹوائلیٹ کا استعمال کر لیتی ہیں، لیکن باقی اوقات میں انہیں دقتیں پیش آتی ہیں۔

اور تو اور، اگر جے این یو کے اندر کسی کی موت ہو جائے، تو باہر سے کوئی تعزیت کرنے کے لیے اس کے گھر بھی نہیں جا سکتا۔ جسمانی طور سے معذوروں کے لیے کام کرنے کے لیے ملک و بیرون ملک میں مشہور جے این یو کے ایک دانشور، ڈاکٹر جی این کرن کی دو دن پہلے موت ہو گئی۔ ان کی رہائش مین گیٹ سے بس دو قدم کی دوری پر، گنگا ہاسٹل کے پیچھے ہے۔ ان کی بیوی سندھیا کماری کی ایک سہیلی کو (جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتیں) جب موت کی خبر معلوم ہوئی، تو وہ اظہارِ تعزیت اور غم کی اس گھڑی میں ڈھارس بندھانے فوراً جے این یو پہنچیں۔ لیکن گیٹ پر تعینات یونیورسٹی کی پرائیویٹ سیکورٹی اور باہر کھڑے دہلی پولس و پیرا ملٹری کے جوانوں نے ان سے کہا کہ پہلے وہ اپنی اُس سہیلی سے فون پر بات کروائیں، تب اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ انہوں نے سوچا کہ شوہر کی موت سے وہ بیچاری پہلے سے ہی پریشان ہے، اسے سیکورٹی اہلکاروں سے فون پر بات کراکر مزید پریشان کرنا ٹھیک نہیں ہے، اس لیے وہ واپس لوٹ گئیں۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply