جے این یو طلبہ نے وی سی کو دی کھانے کی تھالی

IMG_20160510_141027

ہائی لیول انکواری کمیٹی کی رپورٹ پر ہائی کورٹ کا اسٹے، طلبہ میں خوشی کی لہر

نئی دہلی، ۱۱ مئی (محمد اقرار): جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی سالانہ اکیڈمک کونسل میٹنگ کے دوران طلبہ نے وائس چانسلر کو گھیر لیا اور ان کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ گزشتہ ۱۴ روز سے بھوک ھڑتال پر بیٹھے طلبہ نے وی سی کو کھانے سے بھری تھالیاں پیش کر کے بھی اپپنے غصے کا اظہار کیا۔

۱۰ مئی بروز منگل دو بجے سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی سالانہ اکیڈمک کونسل میٹنگ کا انعقاد اسکول آف سوشل سائنس میں ہونا تھا، جس کی خبر طلبہ کو پہلے سے ہی تھی۔ لہٰذا دوپہر ۱۲ بجے سے ہی طلبہ وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تقریباً ڈھائی بجے جیسے ہی وائس چانسلرمیٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے آئے، طلبہ نے وائس چانسلر مرداباد، بھوک ھڑتال زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اس کے بعد بھوک ھڑتال کر رہے طلبہ احتجاج کے طور پر وائس چانسلر کو کھانے سے بھری تھالیاں پیش کرنے کے لیے آگے بڑھے تو سکیورٹی گارڈوں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا، جس کے بعد انھوں نے اسکول آف سوشل سائنس کے گیٹ پر تھالیاں رکھ کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔

IMG_20160510_144738

ان سب کے بیچ ایک نیا موڑ تب آیا، جب میٹنگ شروع ہونے کے تقریباً گھنٹہ بھر بعد وائس چانسلر اپنے سکیورٹی گارڈس کے ساتھ تیزی سے باہر آئے اور ایڈمنسٹریٹو بلاک کی طرف چلے گئے، جس سے طلبہ کو ان کے میٹنگ چھوڑ کر چلے جانے کا اندیشہ ہوا، جو بعد میں صحیح ثابت ہوا۔ وائس چانسلر کو جب طلبہ اور اساتذہ نے مختلف مدعوں پر گھیرنے کی کوشش کی، تو وہ فوراً اپنی سیٹ سے اٹھے اور میٹنگ کو ملتوی کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

اسی دوران حال ہی میں ڈاکٹروں کی سخت تاکید کے بعد اپنی غیر میعادی بھوک ہڑتال ختم کرنے والے اور جرمانہ کیے گئے طلبہ میں سے ایک، عمر خالد نے” نیوزاِن خبر“ کو بتایا کہ انہوں نے اور انربان بھٹاّ چاریہ نے ہائی لیول انکواری کمیٹی کی رپورٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی، جس کی سماعت کرتے ہوئے عزت مآب ھائی کورٹ نے اس پراسٹے دے دیا ھے، ساتھ ہی کہا کہ ھمیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔

گزشتہ ۱۴ دنوں سے بھوک ھڑتال پر بیٹھے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹودنٹ یونین کے سکریٹری راما ناگا نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مانگوں پر اکیڈمک کونسل میٹنگ میں غور نہیں کیا گیا، جو نہایت ہی شرم کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ کے مسائل پر غور نہیں کیا جاتا، تو یہ میٹنگ کس کے لیے منعقد کی گئی۔ ساتھ ہی اعلان کیا کہ جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں کی جاتیں، تب تک وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

IMG_20160510_144744

معلوم ہو کہ ۹ فروری متنازع معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے تقریباً ڈیڑھ درجن طلبہ کو بھاری بھرکم جرمانے کے ساتھ کیمپس میں آمد و رفت پر پابندی اور ہاسٹل کی سہولیات سے محرومی جیسی سزائیں سنائی ہیں، جن کو واپس لینے کی مانگ کو لے کر تقریباً دو درجن سے زیادہ طلبہ پچھلے ۱۴ دنوں سے غیر میعادی بھوک ھڑتال پر ہیں اور سینکڑوں اساتذہ و دیگر طلبہ روزانہ ایک روزہ بھوک ہڑتال میں شرکت کر رہے ہیں۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے اشارے پر ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور طلبہ کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے، کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں نے مودی سرکار کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے اجاگر کیا ہے، ساتھ ہی الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملک کے تعلیمی نطام کو بڑے بڑے سرمایہ کاروں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے، جو ہم ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *