جے این یو کی حمایت میں ہزاروں افراد کا پیدل مارچ

Protest_JNU

نئی دہلی، ۱۸ فروری: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار کی حمایت میں آج جے این یو اور دیگر یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور متعدد دیگر سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے نئی دہلی کے منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک ہزاروں کی تعداد میں پیدل مارچ نکالا۔ وہیں دوسری طرف کیمپس کے اندر بھی طلبہ نے اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے مختلف قسم کے پروگرام کیے، جن میں سی پی ایم لیڈر برندا کرات نے بھی شرکت کی۔

قابل ذکر ہے کہ کل یہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں کنھیا کمار کی پیشی سے قبل وکیلوں نے ایک گروپ نے کنھیا حامی دیگر وکیلوں اور وہاں موجود چند صحافیوں و اساتذہ کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ اس کے بعد جب کنھیا کمار کو پولس عدالت میں لے کر پہنچی، تو انھیں وکیلوں نے کنھیا کو بھی پیٹنے کی کوشش کی۔

Protest_JNU (2)

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک کنھیا کی حمایت میں مارچ نکالا، جس میں دہلی و ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے جڑے افراد نے بھی جے این یو اور کنھیا کمار کی حمایت میں اس مارچ میں شرکت کی۔ یہ لوگ آزادیٔ رائے کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے اور حب الوطنی کو غلط طریقے سے پیش کرنے اور جے این یو جیسے معروف ادارے کو بدنام کرنے کے خلاف بھی اپنی ناراضگی جتا رہے تھے۔

مارچ میں شرکت کرنے والے افراد، جن کا تعلق مختلف سیاسی مکتبۂ فکر سے تھا، وہ میڈیا اور خاص کر ان ٹی وی چینلوں کے خلاف بھی اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے، جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور وہاں کے طلبہ و اساتذہ کو ’’ملک کا غدار‘‘ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند کا کہنا تھا کہ یہ نہایت ہی افسوسناک ہے کہ بعض انتہا پسند گوشوں کی طرف سے جے این یو جیسے تعلیمی ادارہ کو بند کرنے کی بات کہی جا رہی ہے، جہاں کے طلبہ و طالبات ذہنی بیداری کے سبب ملک و بیرونِ ملک میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔

دریں اثنا، کنھیا کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اس کے اوپر جان لیوا حملہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی کنھیا نے اپنی ضمانت کی عرضی بھی عدالت میں داخل کی، جس پر کل، یعنی جمعہ کو صبح ساڑھے ۱۰ بجے سنوائی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *