حریت لیڈروں کو پاکستانی سفارت خانہ کی دعوت نئی بات نہیں: نیشنل کانفرنس

Mustafa Kamal-NC

جموں، ۱۵ مارچ: نیشنل کانفرنس کے لیڈر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ کے ذریعہ ’یومِ پاکستان‘ کے موقع پر حریت لیڈروں کو مدعو کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا، جب تک حریت کانفرنس کا وجود باقی ہے، کیوں کہ اسلام آباد انھیں ریاست جموں و کشمیر کا نمائندہ تصور کرتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن آئندہ ۲۳ مارچ کو ’یومِ پاکستان‘ منانے جا رہا ہے، جس کے لیے اس نے حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق کو اپنے یہاں مدعو کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’’یومِ پاکستان کے لیے پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعہ علاحدگی پسندوں کو کشمیر سے دہلی ہر سال بلایا جاتا ہے، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایک سال پہلے دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں کی بات چیت اس لیے ملتوی کردی گئی تھی، کیوں کہ اس سے ٹھیک ایک دن پہلے پاکستان ہائی کمیشن نے علاحدگی پسندوں کو اپنے یہاں بلایا تھا، جس سے ایسا لگا تھا کہ بات چیت سے پہلے پاکستان ان علاحدگی پسندوں سے صلاح و مشورہ کرنے جا رہا ہے۔ نئی دہلی نے اس پر اعتراض جتا کر صحیح کیا تھا کیوں کہ اس سے بہت ہی خراب پیغام گیا تھا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ’’ لیکن، یہ ایک عام بات ہے اور یہ سلسلہ تب تک چلتا رہے گا، جب تک حریت کا وجود ہے۔ پاکستان پہلے بھی یہ بات صاف کر چکا ہے کہ وہ عمر فاروق والی حریت کو جموں و کشمیر کا نمائندہ تصور کرتا ہے۔‘‘

دعوت کے متعلق حریت کانفرنس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یومِ پاکستان کے تعلق سے ملنے والی دعوت کے بعد عمر فاروق درجنوں لیڈروں کا ایک وفد لے کر پاکستان ہائی کمیشن جائیں گے۔‘‘

یہ دعوت نامہ ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے، جب آئندہ ۱۷ مارچ کو نیپال میں وزیر خارجہ سشما سوراج کی ملاقات پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے امورِ خارجہ کے صلاح کار سرتاج عزیز سے ملاقات ہونے والی ہے۔ اس سے قبل سرتاج عزیز نے اپنے ہندوستانی دورہ کو اس وقت ردّ کر دیا تھا، جب نئی دہلی نے حریت لیڈروں کے ساتھ ان کی ملاقات پر اعتراض جتایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *