حضور تاج الشریعہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا ایک عظیم خسارہ: ادارۂ شرعیہ

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں محفل ایصال ثواب کا قیام 
پٹنہ(نامہ نگار): جانشین حضو ر مفتی اعظم ہند وارث علوم اعلی حضرت حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا ازہری میاں علیہ الرحمۃ والرضوا ن کے انتقال پرُ ملال پرپوری دنیا ئے سنیت رنج والم میں ڈوبی ہوئی ہے اور دنیا بھر سے درودوسلام اور نذرونیا ز کے تحفے حضرت کی بارگاہ میں پیش کیے جارہے ہیں۔ ایصال ثواب کی محفلیں منعقد ہورہی ہیں اور دیوان گان تاج الشریعہ اپنے اپنے خیالات کا اظہا ر کررہے ہیں ۔ بہار کے مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں بھی بعد نما زفجر قرآن خوانی اور محفل میلاد النبی ﷺکا انعقاد ہوا جس میں ادارہ کے مہتمم علامہ مولانا سید احمد نے اپنا کلید ی خطبہ دیتے ہوئے کہا:یقیناًحضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا وصال عالم اسلام کا وہ عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ،بزم علم وعرفان میں آپ کی ذات ایک ایسی روشن شمع کی مانند تھی جس سے ایک عالم مستفید ہوتا رہا اور اپنا قبلہ وکعبہ درست کرتا رہا ۔انہوں نے مزید کہا:حضور تاج الشریعہ کی موت ایک عالم کی موت ہے ۔آ پ ایک زندہ ولی تھے، آپ سے بے شمار کر امتوں کا ظہور ہوا۔ خدا نے آپ کو علم کی ایسی دولت عطا فرمائی تھی کہ آپ کی علمی صلاحیت کی بنیاد پر آپ کو مصر میں ’’فخرازہر ‘‘کا عظیم ایوراڈ دیاگیا تھا۔محفل میں شریک مفتی محمد اظہر حسین شارق مصباحی نے کہا:بلاشبہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے سانحہ ارتحال سے آج ہر آنکھ نم ہردل مضطرب اور ہر روح بے چین نظر آرہی ہے ۔آج دنیائے سنیت اپنے اس عظیم محسن سے محروم ہوگئی جو تقوی میں اگر مفتی اعظم ہند کا پرتو تھا تو علم وعرفان میں اپنے دادا حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا عکس ۔مفتی شارق مصباحی نے کہا:
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
بعد ازاں حضرت مفتی داؤد مصباحی نے حضور تاج الشریعہ کی لکھی ہوئی نعت کا تحفہ پیش کیا اور طلبہ ادارۂ شرعیہ نے بھی حضور تاج الشریعہ کی بارگاہ میں عقیدت ومحبت کے پھول نچھاو ر کیے۔ محفل میں ادارہ کے اسٹاف محمد مسعود عالم اشرفی ، حافظ محمد منہاج احمد اشرفی اور دیگر حاضرین بھی موجودتھے ۔آخر میں صلوٰ ۃ والسلام وفاتحہ کے بعد مہتمم ادارہ شرعیہ علامہ مولانا سید احمدرضا کی دعا پر محفل اختتا م پذیر ہوئی ۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *