حکایاتِ غم کا شاعر: کلیم عاجز

دبستانِ عظیم آباد کے گوہرِ آبدارکے یومِ وفات پرخصوصی تحریر

اشرف استھانوی

ثانیٔ میر، روشن ضمیر، انسانیت ،شرافت اور وضعداری کی منھ بولتی تصویر ، ملت کے غم خوار، دبستان عظیم آباد کے گوہرِ آبدار اور اقلیمِ سخن کے تاجدار پدم شری ڈاکٹر کلیم احمد عاجز۔ غمِ جاناں اور غمِ دوراں دونوں سے آزادی پاکر اور دنیائے آب وگِل کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرکے ۱۵ فروری ۲۰۱۵ کو صبح ۷ بجے اپنے لاکھوں پرستاروں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے۔

موت سے کس کو رُستگاری ہے                     آج اُن کی تو کل ہماری باری ہے

کلیم عاجز کی پیدائش بہار کے نالندہ ضلع میں ۱۹۲۰ میں ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے انہوں نے ۹۵ سال کی عمر پائی او رچھ دہائیوں سے زائد عرصہ تک شعر و ادب کے زلفِ برہم کو سنوارتے اور حکایاتِ غم سناتے رہے

کلیجہ تھام کر سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں

مِرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے

کلیم احمد عاجز انتہائی وضعدار اور تہہ دار شخصیت کے مالک تھے۔ نئے لب و لہجہ کے بلند پایہ شاعر ، بہترین نثر نگار، کامیاب مدرس کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کا دینی ، دعوتی اور تبلیغی پہلو بھی نہایت ہی روشن اورتابناک ہے۔ تبلیغی جماعت حلقہ بہار کے امیر کی حیثیت سے آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ آپ کا دل نورِ ایمانی اور جوشِ ایمانی کی حرارت سے منور تھا۔ آپ کی سحر خیزی اور نالۂ نیم شبی کا کرشمہ تھا کہ غموں کے اتھاہ سمندر میں بھی آپ کے چہرے پر کبھی شکن تک نہیں آئی۔ پژمردگی نہیں آئی، ہمیشہ ہشاش بشاش اور مسکراتے رہے۔ دل ہے لہو لہان مگر جبیں پر شکن نہیں۔ چہرے کی رونق، خوبصورتی اور جاہ و جلال دیکھ کر بلا شبہ کسی بزرگ، ولی او رصوفی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ انہوں نے تبلیغی جماعت کے امیر کی حیثیت سے اہم کارنامے انجام دیے۔ دعوت تبلیغ کے لئے دور دراز گاﺅں اور علاقوں کادورہ کیا۔ دھوپ، گرمی، جاڑا، برسات، راہ کی دشواریوں اور کٹھن مرحلوں کو جھیلتے، برداشت کرتے ہوئے دعوتی مشن کو آگے بڑھایا۔ پوری دل جمعی اور دل سوزی کے ساتھ آخری دم تک اس فریضہ کو بطریقہ احسن انجام دیا۔ ہمیشہ اختلافی مسائل سے گریز کرتے رہے۔ امت مسلمہ کو کلمۂ وحدت کی بنیاد پر ایک لڑی میں پرو کر زندگی گذارنے کا پیغام دیتے رہے۔ ان کی زندگی اس کی مکمل آئینہ دار تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ہر مسلک اور مشرب کے لوگ ان کا یکساں طور پر احترام کرتے تھے۔

ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی ایک خاص شناخت قدیم تہذیب و ثقافت کی پاسداری، پرانی وضع داری اور رکھ رکھاﺅ تھی۔ وہ پرانی قدروں اور روایتوں کے امین و پاسدار تھے۔ اپنی تہذیب ، سرزمین اور اپنی مٹی سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور آخری سانس تک ا س سے چمٹے رہے۔ پرانے زمانے کے شرفاء کا لباس، پاجامہ، کرتا، شیروانی اور ٹوپی آپ کی شناخت اور پہچان تھی۔ یہ لباس آپ کا وجہِ افتخار تھا۔ اسے کبھی بھی احساسِ کمتری کا سبب نہیں بنایا۔ اسی لباس و پوشاک و رنگ و انداز میں آپ سات سمندر پار امریکہ اور کناڈا جیسے ممالک میں بھی ممتاز رہے۔ کلیم احمد عاجز ایک عالمگیر شہرت یافتہ شاعر تھے۔ چھ دہائیوں تک اردو شعر و ادب کی بے لوث خدمت کی۔ اس دوران ایک درجن سے زائد کتابیں نثر و نظم میں شائع ہو کر مقبول عام ہوئیں۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نئے رنگ و آہنگ اور سوز و ساز سے روشناس کرایا۔ یہی آپ کا طرۂ امتیاز بن گیا۔ بھیڑ میں بھی آپ کی غزل دور سے ہی پہچانی جانے لگی۔ آپ کے اس رنگ و انداز پر لوگ جھومتے، سر دھنتے، کبھی آہ تو کبھی واہ کرتے۔ کبھی آہیں اور سسکیاں بھرتے تو کبھی آبدیدہ ہوتے۔ کلیم عاجز کو شاعری کا ذوق فطری تھا۔ بچپن سے ہی علمی و ادبی ماحول میسر ہوا جہاں علم و ادب اور شعر و سخن کی محفلیں جمتیں۔ پٹنہ کے انجمن رفیق الشعراء کے طرحی مشاعرں سے شاعری کی ابتداءکی۔ ۱۹۵۰۔۵۱ سے باضابطہ شاعری شروع کی اور بتدریج ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کی شاعری دکھے دلوں کی صدا اور شکستہ دلوں کی آواز ہے۔ دکھ بھروں کی حکایتیں ہیں اور دل جلوں کی کہانیاں ہیں۔ آہ و نالہ درد ہیں اور سوزِ دل کی حرارتیں ہیں۔ لیکن ان کے یہاں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کا سنگم ہے۔ غمِ ذات کو غمِ دوراں بنا دینے کی فنکارانہ مہارت و صلاحیت نے ذاتی غم کو بھی آفاقیت اور عمومیت عطا کی ہے۔ درد و غم، عشق و محبت، خلوص و وفا اور شرافت و انسانیت آپ کی غزلوں کا عنوان بن گیا

وہ پوچھے ہیں جب خیریت سے ہو عاجز                         جگر تھام کر مسکرانا پڑے ہے

یہ عنوان کیوں اور کیسے بنا اس کی داستانِ دلخراش بھی او ردلدوز بھی ہے۔ ان کی شاعری کو ان کی زندگی سے الگ کرکے دیکھنا ناانصافی ہوگی۔ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی زندگی درد و کرب اور مصائب و آلام سے لبریز رہی ہے۔ ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ کچھ دنوں بعد بھائی بھی دنیا سے چل بسے۔ والد اور بھائی کے غم ابھی تازہ ہی تھے کہ ۱۹۴۶ میں بہار کے چھپرہ ضلع میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کی آگ ان کے آبائی وطن تیلہاڑہ پہنچی جس میں ان کی والدہ، بہن اور دوسرے بہت سے قریب ترین اعزہ و اقرباء اور رشتہ دار شہید ہو گئے۔ اس پورے سانحہ کا نقشہ ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کے طویل مقدمہ میں کلیم عاجز نے کھینچا ہے۔ اس میں ایسی تاثیر اور سحر بیانی ہے کہ پڑھنے والا آہیں بھرنے لگتا ہے۔ دل زخمی ہو جاتا ہے۔ آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ کمزور دل کا قاری جذبات سے بے قابو ہو جاتا ہے۔ اس حادثہ نے کلیم احمد عاجز کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ زندگی ان کے لئے تاریک ہو گئی، دنیا ویران ہو گئی اور خوشیاں نا پید ہو گئیں۔

مری شاعری میں نہ رقص و جام نہ مئے کی رنگ فشانیاں

وہی دکھ بھروں کی حکایتیں، وہی دل جلوں کی کہانیاں

یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بے وفا کی نشانیاں

یہی میرے دن کے رفیق ہیں، یہی میری رات کی روانیاں

یہ مری زباں یہ غزل نہیں، میں سنا رہا ہوں کہانیاں

کہ کسی کے عہدِ شباب پر مٹی کیسی کیسی جوانیاں

کلیم احمد عاجز اپنے گذرنے والے سانحات و واقعات کو ذہن و دل میں یاد اور تازہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے جو طرز اسلوب اختیار کیا وہ بہت سحر انگیز اور اثر انگیز ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ کلیم عاجز اپنی زبان میں اس کی دل کی بات کہہ رہے ہیں۔

جہاں غم ملا اٹھایا ،پھر اسے غزل میں ڈھالا

یہی دردِ سر خریدا، یہی روگ ہم نے پالا

کلیم عاجز غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی ترجمانی بڑی فنی مہارت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس طور پر کہ نہ غزل کی نازک خیالی متاثر ہوتی اور نہ ہی مضمون کی معنی آفرینی۔ ان کی المیہ شاعری کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی غم گینی، المناکی اور کربناکی میں مریضانہ پن اور یاسیت نہیں ہے، بلکہ اس میں جینے اور جلانے کا حوصلہ ہے۔ دنیا سے آنکھیں چار کرنے کی صلاحیت ہے۔ مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے کلیم عاجز خود رقم طراز ہیں:

” میری شاعری کی غمگینی، الم آفرینی، اس میں لہجہ کا جو دھیما پن ہے، اس میں جو نازک نازک سے آبگینے کے پگھلنے کی کیفیت ہے اس میں جو نرم نرم پھپھولوں کے پھوٹنے کا آہنگ ہے، اس میں جو زخموں کے رسنے کی سرسراہٹ ہے، یہ مریضانہ پن نہیں ہے۔ ان میں صحت مندی ہے۔ ان میں جینے اور جلانے کا وہ حوصلہ ہے جو بڑی بڑی للکار والی شاعری میں بھی نظر نہیں آتی “ (وہ جو شاعری کا سبب ہوا۔ ص ۳۶۱)

کلیم احمد عاجز ایک حساس، نازک مزاج او رزندہ دل شاعر تھے۔ ان کا ملی اور سیاسی شعور بھی بہت ہی پختہ اور بالیدہ تھا۔ انہوں نے اپنی غزلوں کے پس پردہ ملی و سیاسی مسائل اور حالات حاضرہ پر زبردست تبصرہ اور چوٹ کیا ہے۔ ۱۹۷۲ میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت ان کا یہ شعر کافی مشہور ہواتھا۔

اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھو

لگے ہے آگ اک گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہے

اسی طرح جب ملک میں ایمر جنسی نافذ تھی، زبانوں پر تالے لگے ہوئے تھے، قلم کی روشنائی خشک ہو چکی تھی، آنجہانی اندرا گاندھی کے رعب و دبدبہ کے سامنے بڑے بڑے لیڈران بھیگی بلی بنے ہوئے تھے اس وقت بھی کلیم احمد عاجز نے لال قلعہ کی فصیل سے محترمہ اندرا گاندھی کو للکارتے ہوئے کہا تھا:

یہ شہسوار وقت ہیں اتنا نشے میں چور                        گر جائیں گے اگر یہ اتارے نہ جائیں گے

جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ کلیم عاجز کی شاعری، شاعری نہیں ساحری ہے جو سر چڑھ کر بولتی ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے ادیبوں، شاعروں اور نقادوں سے اپنی صلاحیت و قابلیت کا لوہا تسلیم کروایا۔ رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری جیسے انانیت پسند شاعر بھی آپ کی شاعری کی ساحری سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے ان الفاظ میں آپ کی شاعری کو سراہا ہے۔

” میں اپنی زندگی کی اہم خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے جناب کلیم عاجز صاحب کا کلام خود ان کے منھ سے سننے کے موقعے ملے۔ اب تک لوگوں کی شاعری پڑھ کر یا سن کر پسندیدگی اور کبھی کبھی قدر شناسی کے جذبات میرے اندر پیدا ہوتے رہے۔ لیکن جب میں نے کلیم عاجز صاحب کا کلام سنا تو شاعر اور اس کے کلام پر مجھے ٹوٹ کر پیار آیا۔ ہم آہنگی، محبت اور نا قابل برداشت خوشی کے جذبات میرے اندر پیدا ہو گئے۔ ان کا کلام مجھے اتنا پسند آیا کہ مجھے تکلیف سی ہونے لگی اور کلیم عاجز صاحب پر غصہ آنے لگا کہ یہ کیوں اتنا اچھا کہتے ہیں۔ ان کے اس جرم اور قصور کے لئے میں انہیں کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ اتنی دھلی زبان، یہ گھلاوٹ، لب و لہجہ کا یہ جادو جو صرف انتہائی خلوص سے پیدا ہو سکتا ہے اس سے پہلے مجھے کبھی اس موجودہ صدی میں دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا تھا۔ میں ان کا کلام سن کر خود اپنا کلام بھول گیا“۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی زبان میں سادگی ہے، سلاست ہے، پیچیدگی اور ژولیدگی نہیں ہے۔ روز مرہ استعمال ہونے والے عام فہم الفاظ کے استعمال نے ان کی شاعری کو سہل ممتنع بنا دیا ہے۔ کلیم احمد عاجز وارداتِ قلب اور سچے جذبات کے اظہار کے لئے دقت پسندی اور تخیل پسندی سے کام نہیں لیتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ میر کے بعد پہلے شاعر ہیں جنہوں نے عام بول چال کی زبان کو شاعری کا خوبصورت جامہ پہنایا ہے۔ عام ناقدین شعر و ادب کا خیال ہے کہ کلیم احمد عاجز میر کے پیروکار ہیں اور ان کا اسلوب میر کے اسلوب سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے خود بھی اس کا دعویٰ کیا ہے

اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے          کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

اس بات میں ایک حد تک تو صداقت ہو سکتی ہے کہ میر کی طرح کلیم عاجز بھی ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہوئے۔ دونوں کی زندگی میں دکھ، درد اور مصیبتیں ہمیشہ لگی رہی ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے کے اثرات کو قبول کرنا بالکل فطری بات ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کلیم احمد عاجز نے اپنی الگ انفرادیت قائم کی ہے۔ میر کے اسلوب کی پیروی کے باوجود بھی ان کی شاعری میر سے الگ اور بھر پور ندرت و جدت لئے ہوئی ہے۔ اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کلیم عاجز، میر کے کبھی مقلد نہیں رہے۔ جیسا کہ انہوں نے ’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘ کے مقدمہ میں تحریر کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی دونوں کے اسلوب و طرز میں جو ہم آہنگی او رمماثلت پائی جاتی ہے وہ فن سے نہیں بلکہ زندگی سے حاصل ہوئی ہے۔ علامہ جمیل مظہری کلیم احمد عاجز کے اسلوب پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کلیم احمد عاجز اپنی کیفیات تغزل میں میر کے فرمانبردار پیروکار تو ہیں، لیکن یہ نہ سمجھئے کہ ان کے دائرہ فکر و فن میں میر کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزل جدید کا پرتو بھی ملتا ہے، ان کے اندازِ بیان میں نہ صحیح ، ان کے اندازِ فکر میں بھر پور ندرت اور جدت ہے۔ اندازِ فکر میں جدت اور اندازِ بیان میں قدامت کلیم عاجز کے تغزل کا مخصوص آرٹ ہے جو سینکڑوں شعراء کے ہزاروں اشعار کے ہجوم میں جانا اور پہچانا جا سکتا ہے۔ “

کلیم احمد عاجز کی غزلوں کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کو نئے امکانات سے روشناس کرایا، نیا لب و لہجہ عطا کیا، نیا رنگ و آہنگ بخشا، منفرد طرز و ادا سے ہمکنار کرایا۔ میر کے اسلوب کی تجدید کی۔ اسے نئی زندگی بخشی۔ میر کا سادہ مگر پر تاثیر لہجہ جو ماضی کی تاریکیوں میں گم ہو چکا تھا اس میں نئی روح پھونکی۔ انہوں نے پرانی زبان، کلاسیکی الفاظ کو نیا پیرہن عطا کیا۔ اردو غزل کو عشق و عاشقی، لب و رخسار، زلف و کمر کی تنگ دامنی سے نکال کر بڑے بڑے مسائل کو بھلا کر اور میٹھا رس دے کر غزل کے سانچے میں ڈھال دیا اور پہلی مرتبہ انہوں نے بہار کے مگدھ علاقے کی زبان مگہی آﺅ ہو، جاﺅ ہو، کہو ہو، کرو ہو، سنو ہو، وغیرہ کا استعمال اس فنی چابکدستی سے کیا کہ اسے عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی۔ یہ میر کی زبان نہیں ہے۔ جیسا کہ عام طور پر ناقدین ادب کا خیال ہے۔ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز نے خود اس بات کی تردید کی ہے۔ یہ بہار کی وہ بولی ہے جو مگدھ ، نالندہ، گیا، جہان آباد، اورنگ آباد، پٹنہ اور اس کے اطراف میں بولی جاتی ہے۔ یہ ان کا اعزاز ہے کہ انہوں نے مقامی بولی کو ادبی مقام عطا کیا اور اسے شہرت دوام بخشا

میرے ہی لہو پر گذر اوقات کرو ہو                             مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کروہو

دامن پہ کوئی چھےنٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ                 تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

 

ڈاکٹر کلیم احمد عاجز نہ صرف یہ کہ ایک مخصوص لب و لہجہ کے بڑے شاعر تھے بلکہ یہ شاعر جتنے بڑے تھے اس سے بھی بڑے یا کم ازکم اسی رتبے کے نثر نگار بھی تھے۔ شاعری کی طرح ان کی نثر میں بھی بلا کا جادو اور سحر بیانی پائی جاتی ہے۔ نثر میں انہوں نے اپنی کئی یاد گار کتابیں چھوڑی ہیں۔ جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ، ایک دیس ایک بدیسی، سفر نامہ امریکہ، ابھی سن لو مجھ سے، بہار میں اردو شاعری کا ارتقا، پہلو نہ دکھے گا، دفتر گم گشتہ، مجلس ادب ( خطوط کا مجموعہ) میری زبان، میرا قلم( دو جلدیں) ان کتابوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلیم احمد عاجز ایک بہترین نثر نگار اور ایک واضح نقطہ نظر رکھنے والے مبصر اور تنقید نگار تھے۔ ان کی ہر تحریر سوزِ دروں میں ڈوبی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کلیم عاجز تنقید یا خاکہ نگاری کی سمت توجہ دیتے تو وہ بہترین ناقد اور کامیاب خاکہ نگار بن سکتے تھے۔ ”جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی“ میں جگہ جگہ خاکہ نگاری کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ سراپا کھینچنے میں ایسا ملکہ حاصل ہے کہ ہو بہو ان کی تصویریں متحرک ہو کر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ امید ہے کہ ناقدین فن و ادب اس جانب بھی توجہ دیں گے اور کلیم عاجز کی نثری خدمات پر کام کریں گے۔ اسی طرح کلیم احمد عاجز کو سفر نامہ لکھنے میں بھی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے دو سفر نامے لکھے، جس کے پڑھنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے اندر اچھے سفر نامے لکھنے کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ ان کے سفر نامے کی ایک خوبی یہ ہے کہ پڑھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی سفر کر رہا ہے۔ یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ۔ اس سفر نامہ حج میں انہوں نے جو منظر نگاری کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر لفظ عشق و محبت او رسوز دروں میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔ تاریخی واقعات اور اہم معلومات کو حسب ضرورت انہوں نے اس انداز سے کھپایا ہے کہ سفر نامہ کی مقصدیت بھی متاثر نہیں ہوتی ہے اور قارئین کو معلومات کا خزانہ بھی ہاتھ لگ جاتا ہے۔ مذکورہ بالا کتابیں شائقین ادب کے لئے آنکھوں کے سرمہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اتنے بڑے شاعر اور نثر نگار کا اس دارِ فانی سے کوچ کر جانا یقیناً اردو ادب کا بڑا نقصان ہے۔ کلیم عاجز آج اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی یادیں ہیں، ان کی باتیں ہیں، ان کی خدمات ہیں، ان کی تخلیقات ہیں۔ اپنی علمی، ادبی او ر دعوتی خدمات کے سبب وہ ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔

جسم تو جسم ہے اک دن خاک میں مل جائے گا               تم بہر حال کتابوں میں پڑھو گے مجھ کو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *