حکومت چیف جسٹس کی اپیل پر مثبت قدم اٹھائے گی: بی جے پی

Chief Justice with PM

نئی دہلی، ۲۴ اپریل (نامہ نگار): بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کی درد مندانہ اپیل کا نوٹس لیا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم اٹھائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جسٹس ٹھاکر نے ایک پروگرام کے دوران جذباتی ہوتے ہوئے عدالتوں میں مقدموں کی بھرمار اور ججوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

بی جے پی کے ترجمان نلن کوہلی نے کہا کہ ’’جب وہ (چیف جسٹس) بولتے ہیں اور ایسے مدعے اٹھاتے ہیں، جو صحیح طریقے سے انصاف پہنچانے کے لیے ضروری ہیں، تو ان کا نوٹس لیا جانا واجب ہے، کیوں کہ وہ اس مدعے کو اٹھا رہے ہیں کہ زیر التوا مقدموں کو کیسے نمٹایا جائے، ججوں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے اور سب سے اہم یہ کہ، لوگوں کو انصاف مؤثر ڈھنگ سے کیسے ملے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، جو کہ اس وقت حکومت کے سربراہ ہیں، نے اس کا فوری طور پر جواب دیا اور مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کے بڑے مفاد میں اس سے کچھ نہ کچھ مثبت نتیجہ نکلے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ آج دن میں وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹسوں کی سالانہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس کئی بار رو پڑے اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری میں مرکزی حکومت کے رول پر نشانہ لگایا کہ وہ اس میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

جسٹس ٹھاکر جس وقت اپنی تقریر کر رہے تھے، اس وقت اتفاق سے وزیر اعظم بھی ڈائس پر موجود تھے۔ جسٹس ٹھاکر نے وزیر اعظم سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ملک بھر میں عدالتوں اور ججوں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے غریبوں اور جیلوں میں بند قیدیوں کو انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *