حیراں ہوں، دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو میں!

(مسلم معاشرے کی بدلتی تصویر دیکھ کر)

ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ
ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل، مارواڑی کالج، دربھنگہ

حال ہی میں دربھنگہ شہر کے چند اہل فکر و نظر حضرات کی مجلس میں اس بات پر فکر مندی ظاہر کی گئی کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر شہر میں کسی ایک اسکول کو معیاری تعلیم کا مرکز بنایا جائے، تاکہ ہماری نئی نسل جدید تکنیکی اور پیشہ ورانہ کورسوں کے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرسکے۔ متفقہ طور پر مقامی ڈان باسکو اسکول دربھنگہ کے ڈائرکٹر ایس ایچ عابدی سے رجوع کیا گیا اور ان سے یہ گذارش کی گئی کہ آپ کا اسکول تین دہائیوں کا سفر طے کر چکا ہے اور الحمد اللہ نجی تعلیمی اداروں میں اپنی شناخت مستحکم کر چکا ہے۔ اس لئے ڈان باسکو اسکول اس ذمہ داری کو قبول کرے کہ اسکول میں نصابی تعلیم کے علاوہ مقابلہ جاتی امتحانات کی بھی تیاری کرائی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشی طور پر پسماندہ طبقے کو مفت تعلیم کے مواقع فراہم کرائے جائیں۔ جناب عابدی نے شرکائے مجلس کو یقین دلایا کہ وہ ان خطوط پر کام کریں گے۔ مجلس کی برخاستگی سے قبل فضیلت کالونی مسجد کے امام مولانا احمد حسین صاحب نے دعا فرمائی اور پھر اس کے بعد دیگر موضوع پر گفتگو شروع ہوئی۔ بیشتر محلوں کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے محلے کی نئی نسل بے راہ روی کی شکار ہوتی جارہی ہے۔ بالخصوص وہ اخلاقی تقاضوں کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں۔ چوک چوراہوں پر شام ہوتے ہی مجمع لگ جاتا ہے اور محلے کی پردہ نشیں عورتوں کو نکلنے میں بھی دشواریاں پیش آتی ہیں اور مسلم محلوں میں شور و غل کا یہ عالم ہوتا ہے کہ آپ اپنے گھروں میں بھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔ مولانا احمد حسین صاحب ہماری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ کبھی مسلم معاشرے پر بھی لکھئے۔ واقعی ہمارے معاشرے کی تصویر بدل رہی ہے۔ میں بالکل خاموش تھا کیونکہ مجھے تو آئے دن اپنی نئی نسل سے واسطہ رہتا ہے۔ حالیہ دہائی میں ہمارے معاشرے کی تصویر جس تیز رفتاری سے بدلی ہے اس کا احساس ہر خاص و عام کو ہونے لگا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالیہ دہائی میں مسلم معاشرے میں تعلیم کے تئیں رجحان بڑھا ہے، لیکن یہ سچائی بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ تعلیم کے بڑھتے رجحان کے ساتھ تربیت کے فقدان کا گراف بھی بلند ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال یہاں دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سے آپ قارئین بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کس سمت گامزن ہے۔

گذشتہ ۲۴ فروری سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان شروع ہوا۔ اس سال حکومت اور ضلع انتظامیہ نے امتحان کو صاف و شفاف ماحول میں لینے کا تہیہ کیا تھا اور اس کے لئے ہر ایک امتحان مرکز پر تین تین سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے۔ ہر ایک مرکز کے ذمہ دار کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ امتحان دہندہ اپنے ساتھ داخلہ کارڈ اور قلم کے علاوہ کچھ نہیں لے جاسکتے اور ہر ایک امید وار کو سی سی ٹی وی کیمرے سے ہوکر گذرنا ہوگا۔ اس کے لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ہی کیمرے لگائے گئے تھے۔ ساتھ ہی ہر ایک مرکز پر ایک عورت اور ایک مرد مجسٹریٹ کے علاوہ ایک درجن پولس تعینات کی گئی تھی۔ امتحان کے دوسرے دن وہ دونوں مجسٹریٹ اور پولس انچارج میرے چیمبر میں آئے اور بتایا کہ ایک مسلم لڑکی دو دنوں سے ہم لوگوں کو بہت پریشان کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ روز ایک بیگ اور اس میں دو موبائل لے کر آتی ہے اور اسے ساتھ لےکر جانا چاہتی ہے۔ جس کی وجہ سے مین گیٹ پر روز ہنگامہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس لڑکی کو امتحان سے رسٹی کیٹ کیا جائے۔ میں نے ان آفیسروں کو یہ کہتے ہوئے روانہ کیا کہ آئندہ دن میں خود مین گیٹ پر رہوں گا اور اس لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ حسب عادت وہ دوسرے دن بھی اسی طرح بیگ اور موبائل لے کر امتحان ہال میں جانے کی ضد کرنے لگی۔ پہلے دونوں مجسٹریٹ اور پھر کالج کے ایک سینئر پروفیسر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی بھی صورت میں بیگ اور موبائل اندر نہیں لے جایا جاسکتا اور نہ ہم لو گ اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔اس لئے پہلے بیگ اور موبائل کو باہر رکھ کر آﺅ پھر امتحان ہال میں جانے دیا جائے گا۔ لیکن اس دن بھی وہ گذشتہ دنوں کی طرح ہنگامہ آرائی کرنے لگی۔ پھر میں نے خود اسے ڈانٹ کر باہر کیا اور وہ بیگ رکھ کر داخل ہوئی ۔ لیکن آتے ہی اس نے جو تیور دکھایا وہ میری ۲۵ سالہ تدریسی زندگی کے لئے ایک نیا مشاہدہ تھا۔ وہ آتے ہی ان دونوں مجسٹریٹ ، پھر اس سینئر پروفیسر اور آخر میں مجھ سے کہا کہ آپ لوگ اپنا نام بتائیے پھر میں دکھادوں گی۔ حسن اتفاق کہ میرے مرکز پر جو پولس آفیسر انچارج تھے وہ بھی مسلم تھے ۔اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ سراس لڑکی کو کسی قیمت پر امتحان دینے نہیں دیا جائے۔ میں نے آہستہ سے کہا کہ آج اس کا آخری امتحان ہے۔ اس کی ناسمجھی سے اس کا یہ سال ہی برباد ہو جائے گا۔ میرے بغل میں وہ سینئر پروفیسر بیٹھے تھے وہ بھی میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کہ سر میری ۳۵ سالہ تدریسی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی لڑکی کو اس طرح کرتے دیکھا ہے اور مسلم لڑکی کے بارے میں تو میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں میں دم تھا اور میرے لئے تو ایک تیر ندامت! بہرکیف، میں پھر اپنے چیمبر میں آگیا اور ایک بجے امتحان ختم ہو گیا۔ تقریباً تین بجے میرے موبائل نمبر پر ایک کال آئی اور جب میں کال لی تو سوال تھا کہ آ پ نے اپنا واٹس ایپ دیکھا؟ میں نے کہا کہ واٹس ایپ والا سیٹ میرے اسٹاف کے پاس ہے، کیا بات ہے؟ پھر اس کا جواب تھا مجھے پہچان لیجئے۔ میں وہی ہوں جسے آج موبائل اور بیگ اندر نہیں لے جانے دیا گیا۔ میں دیکھ لوں گی۔۔۔۔۔اور پھر اس نے فون کاٹ دیا۔ ظاہر ہے کہ جس نمبر سے اس نے فون کیا ہے اس کے ذریعہ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کون ہے؟ یا پھر اس نے جس رول نمبر سے امتحان دیا ہے اس سے بھی یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کون ہے؟ لیکن مجھے یہ سب جاننے کی قطعی ضرورت نہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں اس طرح کے بچوں اور بچیوں کی کمی نہیں ہے۔ ورنہ آج ملک میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت کا ماحول بنا ہے وہ شاید نہیں بنا ہوتا۔ کیونکہ یہ حقیقت مسلم ہے کہ کچھ تو ہمارے دشمنان کی سازش ہے اور کچھ اپنے کرتوتوں کا پھل، ورنہ جس مجلس کا ذکر شروع میں آیا ہے اور اس کے شرکاء نے اپنے معاشرے کی جو تصویر دکھائی تھی وہ نہیں ہوتی۔

تصویر کا ایک رخ وہ مسلم لڑکی ہے اور تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ ایک دن ایک بزرگ گارجین ایک لڑکے کو لےکر میرے چیمبر میں داخل ہوئے۔ اس لڑکے نے پاﺅں چھو کر ’پرنام ‘ کیا اور وہ بزرگ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے کہ سر اس نے جو غلطی کی ہے اس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ بزرگ کس غلطی کی معافی چاہتے ہیں؟ میں نے انہیں کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ وہ بزرگ بولے کہ یہ لڑکا میرا پوتا ہے ۔ کل اس نے کالج میں ایک پیون کے ساتھ بد تمیزی کی ہے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو اس کی شکایت نہیں آئی ہے۔ وہ بزرگ بولے جی ہاں، آپ کے پاس شکایت نہیں آئی ہے لیکن میرے پڑوس کے ایک دوسرے لڑکے نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ اس لئے میں اسے لے کر یہاں آیا ہوں۔ میں نے اس پیون کو بلایا اور معاملہ دریافت کیا۔ پیون نے بتایا کہ وہ کل دو تین لڑکوں کے ساتھ کینٹین کے پاس ہنگامہ کر رہا تھا اس لئے میں نے اسے ڈانٹا تھا تو یہ مجھ پر ہی غصہ ہو گیا تھا۔ وہ بزرگ اپنی کرسی سے اٹھے اور فوراً اس پیون سے بولے : ”اسے معاف کر دیجئے۔ اگر اس کا ’سنسکار‘ ایسا رہے گا تو یہ جیون میں کیسے ’سپھل‘ ہو سکتا ہے؟ “۔ وہ لڑکا فوراً اس پیون کے پاﺅں چھو کر معافی مانگنے لگا۔ میرے لئے یہ منظر نہ صرف سبق آموز تھا بلکہ میں تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا تھا اور میری نگاہوں میں اسپین کی تاریخ کا وہ باب تھا کہ جس میں ایک کیفی ٹیریا کے ویٹر نے ایک پادری سے کہا تھا کہ اب اسپین سے مسلمانوں کی حکومت ختم ہونے والی ہے۔ پادری نے حیرت زدہ ہوکر کہا، کیسے؟ ویٹر نے جواب دیا کہ اب کیفی ٹیریا میں مسلم لڑکیا ں آنے لگی ہیں اور وہ جس بد تمیزی سے پیش آتی ہیں اس سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اسپین سے اسلا م ختم ہونے والا ہے۔ میری نگاہوں میں پھر اس لڑکی کا چہرہ تھا جس نے یہ جانتے ہوئے کہ امتحان میں موبائل فون یا بیگ نہیں لے جایا سکتا، لیکن وہ نہ صرف اسے لے جانے کو بضد تھی بلکہ اس نے جو شیوہ اختیار کیا وہ کبھی مسلم معاشرے کی تصویر نہیں ہو سکتا اور پھر اس بزرگ برہمن اور بچے کی بھی تصویر تھی جو اپنی معمولی غلطی پر نہ صرف نادم تھا بلکہ اس کے گارجین کو بھی اس کی غلطی کا احساس تھا۔ میرے ذہن میں اب بھی اس بزرگ برہمن اور لڑکے کی تصویر گھوم رہی ہے اور میں اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ اس کا ’سنسکار‘ ہی تو ہے کہ وہ اس ملک میں تین فیصد رہتے ہوئے بھی زندگی کے تمام شعبے میں اپنے وجود کا احساس کرا رہا ہے اور ہم اس ملک میں ۲۰ فیصد ہیں پھر بھی ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ شاید غالب نے اسی طرح کے حادثوں کے بعد کہا تھا

حیراں ہوں ، دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہوتو ساتھ رکھوں ،نو حہ گر کو میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *