خسرہ اور روبیلا مہم کا پہلا مرحلہ کرناٹک سے شروع ہوگا

محمد امین نواز
بیدر:
ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس بیدر نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے بتایا ہے کہ حکومت ہند نے خسرہ اور روبیلا مہم کے تحت پہلے مرحلے میں کرناٹک کا انتخاب کیا ہے۔ ملک کو 2020 تک ان وبائی امراض سے نجات دلانے کے مقصد سے مرکزی حکومت کے ذریعہ 7؍ تا 28؍ فروری خسرہ اور روبیلا ٹیکہ اندوزی مہم چلانے کا فیصلہ لیا گیاہے۔ اس مہم کے دوران 9؍ ماہ سے 15؍ برس کی عمر کے تمام بچوں کو خسرے اور روبیلا کی ٹیکہ کاری کی جائے گی۔ ریاست میں ایک کروڑ 65؍ لاکھ بچوں کی ٹیکہ کاری کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ روبیلا ٹیکہ ہمارے بچوں کو کئی خطرناک بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔ اس انجکشن کا استعمال پچھلے کئی سال سے کیا جارہا ہے۔ بھارت میں خسرہ کی وجہ سے ہر سال تقریبا 50 ہزار بچے موت کا شکار ہوئے ہیں۔روبیلا کی وجہ سے اسقاط حمل اور دوسرے جسمانی نقصانات ہوتے ہیں۔ پولیو اور چیچک کی طرح ہم ان دو امراض کو مٹاسکتے ہیں۔ یہ انجکشن پوری دنیا اور بھارت کے تمام بچوں کو دیا جارہا ہے۔ عام ٹیکوں کی طرح اس انجکشن کے لینے پر کچھ بچوں کو کچھ حد تک بخار یا درد ہوسکتا ہے۔

ایسوسی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس بیدرنے تمام مسلمانان سے گذارش ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور اپنے بچوں کو29 فروری تک ایم آر ویکسن دلوائیں تاکہ ان کی موذی امراض سے حفاظت ہوسکے۔ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ28 فروری تک تمام بچوں کی ٹیکہ اندوزی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور 95 فیصد نشانہ پار کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران ریاست کے تمام طبی مراکز، اسکول، آنگن باڑی مراکز، دیہات اور شہروں کے علاوہ تمام محلہ جات میں ٹیکہ اندوزی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

مہم کے دوران جھونپڑ پٹیوں میں مقیم اور نقل مکانی کرنے والوں کے علاوہ تمام مزدوروں کے بچوں کی ٹیکہ اندوزی کے لیے منصوبہ مرتب کیا گیا ہے۔اس خصوص میں محکمۂ تعلیمات، محکمۂ بہبودئ خواتین واطفال، محکمۂ شہری ترقیات، محکمۂ مزدور، محکمۂ اطلاعات و رابطۂ عامہ، محکمۂ دیہی ترقیات وپنچایت راج، وزارت دفاع، محکمۂ اقلیتی بہبود و پسماندہ طبقات، محکمۂ ٹرانسپورٹ اور محکمۂ سماجی بہبود سمیت دیگر محکموں سے تعاون دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے لیے عالمی تنظیم صحت، یونیسیف، ریڈ کراس، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن، روٹری اور لائنس کلب کے علاوہ دیگرغیرسرکاری تنظیموں اور اداروں کا بھی تعاون حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *