خواتین قانون سازوں کی قومی کانفرنس سے وزیر اعظم کا خطاب

PM Addressing Women Legislators

نئی دہلی،۶ مارچ (تقریر کا مکمل متن): میں سمترا جی کو دل سے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام کی منصوبہ بندی کی، تصور کیا لیکن اس سے زیادہ بھی مبارکباد میں آپ سب کو دیتا ہوں کیونکہ میں نے جانکاری پائی کہ کس طرح سے اجلاس ہوئے، موضوع ہوئے، آپ سب کی شراکت رہی ، فعال شرکت رہی اور زیادہ تر لوگ موجود رہے۔ ورنہ دہلی آئے تو اور بھی کچھ کام ہوتے ہیں تو ایسا شاید کم ہوا تو یہ اپنے آپ میں، آپ کے لئے یہ تقریب تجسس سے بھرا ہوا تھا۔ جہاں آپ کام کرتے کرتے جو مشکلات بھگت رہے ہیں، اس کا حل چاہتے ہیں۔

جن خوابوں کو لے کر آپ عوامی زندگی میں آئے۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے آپ کو قابل کیسے بنایا جائے، اس کے لئے کہیں سے کوئی رہنمائی ملے، جانکاری ملے، راستہ تلاش کرنے کی کوشش ملے۔ ان ساری باتوں کا نتیجہ ہے کہ آپ نے اس ڈیڑھ دن میں متعدد موضوعات پر سرگرمی سے حصہ لیا لیکن میں نے ایک تیسرے موضوع کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ کبھی کبھی اس قسم کی تقریب منظم انداز میں جو چیزیں ملتی ہیں، اس سے زیادہ میل جول کے وقت، چائے کے وقت، کھانے کے وقت یا آتے جاتے، جاننے والوں سے، غیر شناساؤں سے جو باتیں ہوتی ہیں، ان سے جو تجربہ شیئر کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ منظم پروگرام سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور وہ آپ لوگوں نے پایا ہے اور اس معنی میں ملک بھر کی خواتین عوامی نمائندوں کا یہ تقریب آنے والے دنوں میں، آپ اپنے اپنے علاقوں میں جہاں جائیں گے، وہاں کوئی نہ کوئی مثبت کردار ادا کرے گا اور آپ کو ضرور کامیابی ملے گی۔

یہاں پر سشما جی کے ایک اقتباس کا ذکر ہوا لیکن میں اسے عورت اور مرد کے تناظر میں نہیں کہنا چاہتا لیکن ایک بات کہ یہ جو خواتین کو بااختیار بنانے، یہ نفسیاتی حالت کو تبدیل کرنے کی ضرورت مجھے لگتی ہے۔ با اختیار انہیں بنایا جاتا ہے، جوبا اختیار نہیں ہے لیکن جو بااختیار ہیں، ان کو با اختیار بنانے کا کام کون کرے گا اور یہ بات میرے گلے نہیں اترتی کہ مرد ہوتے کون ہیں جو انہیں مضبوط کریں گے لیکن ضروری یہ ہے کہ ہم خود کو پہچانیں۔

ہم اپنی طاقتوں کو تب تک نہیں پہچانتے ہیں، جب تک ہمیں چیلنجوں کا سامنا کرنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ جتنے بھی قسم کے معاشرے، زندگی کے سروے ہوتے ہیں اس میں ایک بات آتی ہے۔ اگر بیوی مرگئی، مرد اکیلا خاندان کی کفالت کرتا ہے تو نہ طویل عرصے تک وقت خاندان چلا سکتا ہے اور نہ طویل عرصے تک وہ زندہ رہ سکتا ہے اور اگر مرد نہیں رہا ہو، عورت پر خاندان کی کفالت کی ذمہ داری آگئی تو سارے سروے کہتے ہیں کہ وہ طویل عرصے تک زندہ بھی رہتی ہے اور خاندان کی پرورش و پرداخت بہترین طریقے سے کرکے دکھاتی ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وراثت کی خداداد قدرت اور طاقت آپ لوگوں کو ہے، خواتین کو ہے۔ جس کو پہچاننا بذات خود بہت ضروری ہے۔ آج کل مینجمنٹ کی دنیا میں ایک لفظ بڑا مقبول ہے ملٹی اسٹار اکٹیویٹی یہ ہمہ جہت سرگرمی دنیا کے کئی ممالک میں جو شخصیت کی ترقی ہوئی ہے ہے وہ ایک جہتی سرگرمی کی ہوتی ہے۔ اگر اس میں وہ چلتا رہا تو آگے بڑھتا جاتا ہے، بہت کچھ کی شراکت ہوتی ہے لیکن اس میں کہیں رکاوٹ آ گئی، کہیں اور راستے پر جانے کی نوبت آئی تو نہیں کر پاتا ہے۔ اگر روزانہ اس کو لفٹ سے جانے کی عادت ہے، 10 ویں منزل پر بیٹھا ہے اور اچانک بجلی چلی جائے تو سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہیں، اسے گھنٹہ لگ جاتا ہے کیا کروں، ایسے لوگ ہوتے ہیں۔

ہمہ جہت سرگرمی آج مینجمنٹ کی دنیا میں ایک مخصوص طاقت کے طور پر سمجھی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں خواتین کی طرف دیکھیں۔ شاید ہمہ جہت ترقی میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ ایف ایم پر گانے بھی سنتی ہوں گی، موبائل پر بات بھی کرتی ہوں گی اور پکاتی بھی ہوںگی، بچے کو بھی جانکاری دیتی ہوں گی، یعنی کبھی ہم تھوڑا سا صرف نظر کر کے اس چیز کو دیکھیں تو انداز آتا ہے کیا صلاحیت دی ہے، کیا طاقت دی ہے ۔ کیا ہم اس طاقت پر فخر کرنا جانتے ہیں، اس قوت کو پہچانتے ہیں۔

یہ بھی دیکھئے جہاں جہاں خواتین کو موقع ملا ہے، اس کی کامیابی کی سطح بہت بلند ہے۔ آپ نے گزشتہ سالوں سے یاد کیجئے کون وزیر خارجہ تھے ملک کا نام ہی یاد نہیں آئے گا لیکن آج سشما جی فوری طور پر یاد آتی ہیں آپ کو۔ صلاحیت کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

ہمارے پارلیمنٹ میں بہت سے اسپیکر آئے لیکن جتنی خواتین اسپیکر آئیں ہر ایک کو دھیان رہا ہو گا کہ میرا کمار تھیں، سمترا جی ہیں۔ آج کل ریاستوں میں بھی بہت بڑی تعداد میں خواتین اسپیکر اپنا رول ادا کر رہی ہیں جہاں جہاں ان کو موقع ملا۔ اگر میں نہیں جانتا ہوں کہ کسی نے سروے کیا ہے کہ نہیں کیا ہے لیکن اگر سروے کریں تو شاید مردوں کو ملا ہوا موقع ، ان کی کامیابی کا تناسب عورت کو ملا موقع، ان کی کامیابی کا تناسب، میں یقین سے کہتا ہوں خواتین کا تناسب اوپر گیا ہوگا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیت ہے۔ ہمارے ملک میں یہ پہلی حکومت ایسی ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین وزراء کی نمائندگی ہے کیونکہ میرا اعتقاد ہے کہ ان کو اگر موقع ملے تو وہ بہت بہترین نتائج دے سکتی ہیں اور آج ہم تجربہ بھی کر رہے ہیں کہ وہ نتائج دیتی ہیں۔

آپ لوگوں نے شاید پچھلی صدی کے آخری حصہ میں افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک روانڈا، اس کا واقعہ شاید اگر آپ کے کان میں آئی ہو۔ وہاں ایک بہت بڑا قتل عام ہوا، لاکھوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے اور زیادہ تر مرد مارے گئے۔ بعد میں خواتین نے ملک کی کمان سنبھالی اور ہمت کے ساتھ وہ میدان میں آئیں۔ آج ان کے ایوان زیریں میں تقریبا 65 فیصد خواتین نمائندہ ہیں اور اتنی شدید مصیبت سے نکلے ہوئے ملک کو خواتین نے قیادت دی اور خواتین نے ملک کو اس سے باہر نکالا۔ آج روانڈا اپنے پاؤں کی طاقت پر کھڑا ہو گیا۔ یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی مثال ہے کہ مشکلات سے گزرنے کے بعد بھی جن کو موقع ملا، انہوں نے کتنی بڑی تبدیلی کی، کتنے بڑے نتائج سامنے لائے ہیں اور اس وجہ سے لیکن ایک عوامی نمائندے کے ناطے، ہم مضبوط ہوں کہ ہم قوم کو بااختیار بنانے میں کوئی اضافی کردار ادا کر سکتے ہیں کیا، قوم کو بااختیار بنانے میں بجٹ کام نہیں آتا ہے۔ قوم کو بااختیار بنانے میں روڈ، راستے، بندر گاہ، ہوائی اڈے، بلڈنگ ، بھون عمارتیں یہ کام نہیں آتی ہیں۔

قوم کو مضبوط بناتا ہے، ملک کی عوام قوم کو مضبوط بناتی ہے۔ قوم کو مضبوط بناتا ہے قوم کا شہری اور کوئی شہری کو کوئی مضبوط بناتا ہے، اس کو اگر باصلاحیت بناتا ہے، اس کو اگر باکردار بناتا ہے تو ماں بناتی ہے، اس سے بڑی ملک کی تعمیر کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ اس سے بڑی ملک کی تعمیر، مضبوط کوئی نہیں بنا سکتا، جو صدیوں سے مائیں-بہنیں کرتی آئی ہیں۔ نسلوں تک بہترین جواہرات کو دے کر معاشرے، زندگی کو مضبوط بنانے کا سب سے بنیادی کام آپ ہی کے ذریعہ تو ہوا ہے لیکن جو ہوا ہے اس کا اگر فخر نہیں کریں گے۔ ہم ہی احساس کمتری میں رہیں گے، ہم ہی سوچیں گے کہ نہیں ان لوگوں کا زیادہ اچھا ہے تب تو میں نہیں مانتا ہوں کہ یہ آگے بڑھنے کا جو آپ کا ارادہ ہے، اس کو پار کرنے میں کوئی مددگار هوگا ہم خود ہی اتنے باصلاحیت ہیں، اس کا احساس کریں گے اور یہ میرے کہنے کی وجہ سے ہے نہیں، آپ ہیں۔

کبھی کبھار، عورت کے دو روپ گھر میں اگر وہ چولہے پر کھانا پکا رہی ہے، چپاتی بنا رہی ہے اور چپاتی بنا تے بناتے اس میں سے تھوڑی بھاپ نکل گئی، اسٹیم نکل آئی اور اس کی انگلی جل گئی تو پھونک مارتی ہے لیکن اس کا دھیان پھر کھانے میں نہیں رہتا ہے، پکانے میں نہیں رہتا ہے۔ وہ اپنے شوہر کے آنے کا انتظار کرتی ہے۔ تین بار کھڑکی پر جاکر کے دیکھے گی کہیں آئے تو نہیں ہیں اور اس کی کوشش رہتی ہے کہ وہ آتے ہی سامنے یہ جلتی ہوئی انگلی کی تصویر دکھائے ۔ اس کو لگتا ہے کہ آج میرے شوہر دیکھیں کہ آج چپاتی بناتےبناتے میری انگلی جل گئی ہے۔ پھونک لگائے گی، پانی مانگےگی، ارے دیتی ہوں پانی، جلی ہے دو گھنٹے پہلے اور شوہر آئیں گے، اس کو کہیں گے کچھ لگا دیجیے۔ وہی عورت چپاتی سے بھاپ نکلتی ہے، انگلی اگر تھوڑی سی بھی جل گئی، شوہر کا انتظار کرتی ہے کہ شوہر دیکھے لیکن محلہ میں آگ لگ گئی، ماں گئی ہے مارکیٹ میں سبزی خریدنے کے لئے، اچھی سی رعایت والی سیل چل رہی ہے۔ 10 فیصد، 20 فیصد، ساڑیاں آئی ہیں بہت اچھے اور عورت گئی ہے وہاں خریداری کے لئے، ساڑیاں دیکھ رہی ہے اور پتہ چلے کہ اس محلے میں آگ لگی ہے، وہ ان ساری ساڑیوں کو لات مار کر کے دوڑتی ہے جاکر کے۔

اڑوس پڑوس کے لوگ اس گھر کی آگ بجھانے کے لئے کوئی مٹی ڈال رہا ہے، کوئی پانی ڈال رہا ہے، وہ آکر چیختی ہے کہ میرا بیٹا اندر ہے۔ اڑوس پڑوس کے کتنے ہی مرد، مونچھوں والے کھڑے ہوں گے، کوئی جانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ وہ ماں زندگی اور موت کا کھیل کھیلتے ہوئے آگ میں الجھ جائے گی اور بچے کو لے کر باہر آ جائے گی۔ چپاتی میں سے نکلی بھاپ کی وجہ سے جس کی ا نگلی جلتی ہے تو وہ اس کی ایک شکل ہوتی ہے لیکن بحرانوں کے سامنے جب اس کا محبت ابھر کر آتا ہے، وہ دوسری طاقت ہوتی ہے۔ یہ طاقت کے امیر آپ لوگ ہیں اور وہی طاقت ہے جو قوم کو طاقتور بناتی ہے، قوم کو باصلاحیت بناتی ہے اور اس وجہ سے عوامی نمائندے کے ناطے، فرض کریں میرا کتنی کتنی طرح کا رول ہوگا۔ ہمارا کام ہے مقننہ میں قانون بنانا، کیا میں نے اس قانون کو بناتے وقت اس کا جو مسودہ آیا ہے، اس کو قریب سے دیکھا ہے کہ میرا جو با اختیار بنانے کا ایجنڈا ہے، اس میں یہ فٹ بیٹھتا ہے کہ نہیں بیٹھتا ہے۔ کوئی لفظ کی کمی ہے کہ نہیں ہے۔ اگر ہے تو میں بیدار نمائندے کے طور پر اس بات کو منوانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ نہیں کر رہی ہوں۔ آپ دیکھئے یہ آپ کی بہت بڑی حصہ داری ہوگی۔

آپ کی مدت میں ایک آدھ ایسا قانون بنتا ہے۔ جس قانون کے اندر آپ نے ایک ایسے لفظ کو لاکر رکھ دیا جو لفظ آنے والی نسلوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کتنی بڑی حصہ داری ہے لیکن کیا میری اس طرح سے کوشش ہو رہی ہے۔ عوامی نمائندے کے ناطے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ جو آئینی کام ہے، اس میں بنیادی طور پر میرا کام ہے اور اتنا ہی نہیں کوئی بھی خاندان میں جب مکان بنتا ہے نہ جانے کتنے ہی آرکٹکچر کیوں نہ ہو، کتنے ہی ڈیزائن بنا کر کے آئیں لیکن آخر میں ٹھپہ ماں لگاتی ہے، نہیں نہیں باورچی خانہ ایسے چاہیے ، بیت الخلائ یہاں چاہئے۔ مندر یہاں چاہئے، جوتے یہاں لگانے ہوں گے تب جاکر کے گھر ٹھیک چلے گا۔ اس کو وہ انجنیئر ہے کہ نہیں ہے، وہ آرکٹکچر ہے کہ نہیں ہے لیکن اس کو سمجھ آتی ہے تجربات سے۔ اسی طرح سے جب ایوان کے اندر قانون بنتا ہے۔ اسی موڈ سے ہم دیکھتے ہیں کیا کمیاں ہیں، کیا اچھائیاں ہیں۔ آنے والی نسلوں تک کیا اثر پیدا کرے گا۔ میں چاہوں گا تھوڑی سی آپ کوشش کیجئے، آپ کی بہت بڑی حصہ داری ہوسکتی ہے کیونکہ آپ کے اندر دیکھنے کی، سننے کی اور طاقت دی ہے۔ جو آپ چیزوں کو وقت سے پہلے بھانپ سکتے ہیں، شاید مرد نہیں بھانپ سکتے ہیں۔

اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ شاید آپ کو جلدی آتا ہے، مرد کو شاید نہیں آتا ہے۔ یہ خدا داد صلاحیت آپ کے پاس ہے۔ کیا اس کا استعمال مقننہ میں ہو سکتا ہے کیا، ہم جہاں بیٹھے ہیں وہاں ہو سکتا ہے، ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم کریں گے۔ عوامی نمائندے کے ناطے ہماری اپنی کوئی تصویر بنی ہے کیا۔ میں مانتا ہوں کہ، آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ بڑے دھیان سے کوشش کریں کہ آپ کے علاقے میں آپ کی ایک شبیہ ہو، آپ کی شناخت وہ بنے اور یہ ایک سادھنا ہے، ایک تسلسل ہے تب جاکر کے بنتی ہے۔ جیسا مان لیں کوئی عوامی نمائندہ ہوتا ہے کہ بھئی منگل اور بدھ کو صبح 8 بجے میرا اس جگہ پر ملنا طے، مطلب ہے۔ بارش ہو، دھوپ ہو، کچھ بھی آپ کی شناخت بن جائے گی۔ ارے واہ منگل یا بدھ یعنی ہمارے عوامی نمائندے یہاں ہوں گے ہی ہوں گے، ضرور ملیں گے۔ ہم کہیں گے بھئی یہ ٹیلی فون نمبر ہے ، اس پر پیغام دے دو، میں رہوں یا نہ رہوں وہ ٹیلی فون نمبر آپ کے جیسا ہی طاقتور بن جائے۔ ایسا ایک عوامی نمائندے کے ناطے۔

ہم اپنے انتخابی علاقے میں اپنی ایک شناخت درج کرا سکتے ہیں کیا اور آپ دیکھئے ایک بار عام انسانوں میں آپ کے طریقہ کار کی، آپ کے لہجہ، خیال، رویے کی اگر ایک خاص تصویر بنی، وہ طویل عرصے تک آپ کو کام آئے گی، طویل عرصے تک کام آئے گی اور یہ کوشش کرنی چاہئے۔ عوامی نمائندے کے ناطے کبھی کبھار، سیاست ایک مقابلہ جاتی کھیل ہوتا ہے، مقابلے ہر پل ہوتے ہیں لیکن جب مقابلے میں حسد کا اظہار غالب ہو جاتا ہے تو مان کر چلئے کہ ہم آگے جانے کے مستحق نہیں رہتے ہیں اور اس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اگر ہمارے کام کی جگہ میں دو چار اور خواتین شاندار نظر آئیں، غالب نظر آئیں تو ہمارا حوصلہ پست ہو جاتا ہے، ہمیں ڈر لگتا ہے۔ کہیں یار اگلی بار ٹکٹ اسکو تو نہیں مل جائے گا، میرا کیا ہوگا۔ ہمیں اپنے آپ کو مسلسل اہل بناتے ہوئے آگے جانا چاہیے اور اگر ہم کوشش کریں گے کہ میں ہوں جو ہوں لیکن میں کسی کو آنے نہیں دوں گا تو مان کر چلئے کہ آنے والے بہاؤ کی طاقت اتنی ہوگی کہ وہ آپ کو نیچے گرا کر کے اوپر چلی جائیں گی اور تب آپ اتنے نیچے چلے جائیں گی کہ کبھی اوپر نہیں ہوں گی۔ لیکن اگر آپ اوروں کو آنے دیتی ہیں، آنے دیتی ہیں۔ آپ اوپر چلی جائیں گی، نیچے آپ کی بنیاد بنتی چلی جائے گی ، اہرام کی طرح آپ کی طاقت بڑھتی جائے گی۔

یہ عوامی زندگی میں عوامی نمائندگی کے ناطے میری اپنی طاقت اور شخصیت، اس کے لئے مجھے کوشش کرنی چاہئے۔ ہم یہ فیصلہ کریں، ہمارے ہر ایک کے کام کی جگہ میں، ایک تہائی خواتین قیادت کر رہی ہیں۔ کوئی گاؤں کی قیادت کر رہی ہیں، کوئی نگر کی قیادت کر رہی ہیں، کوئی شہر کر رہی ہیں، کوئی بڑے شہر، ایک تہائی کیونکہ ایک تہائی چیئرمین شپ کسی نہ کسی خاتون کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ایک تہائی نمائندے، باقی چھوڑیئے، یہ ایک تہائی نمائندے وہ آپ کی سوچ، آپ کے خیال کو جو آپ کے نیچے کام کرتے ہیں، آپ کے کام کی جگہ میں ہیں۔ اگر آپ رکن اسمبلی ہیں اور 100 گاؤں ہیں، اگر اس 100 گاؤں کے اندر سے 30-35 خواتین ہیں، وزیر خواتین ہیں کیا آپ نے ان کو بااختیار بنایا ہے، کیا آپ نے ان کو با اختیار بنایا ہے، کیا آپ نے کبھی ایک دن ان کے ساتھ گزارا ہے۔

میں آپ سے گزارش کروں گا کہ جو سمترا جی نے ہم سب کے لئے یہاں پر کیا، کیا آپ جا کر کے اپنے لوک سبھا حلقے میں یا اپنے اسمبلی حلقہ میں، وہاں جو منتخب خواتین ہیں کیا ان کا ایک دن کا پروگرام آپ کر سکتے ہیں کیا، اس بات کو آپ لے جا سکتے ہیں کیا، آپ دیکھئے یہ چیز نیچے تک چلی جائے تب تو یہ با اختیار بنانے کی سمت میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا ماحول بنے گا اور کسی بھی پارٹی کی کیوں نہ ہو اس میں دل بازی نہیں ہونی چاہئے۔ آپ نے دیکھا یہاں تمام دل کے لوگ ہیں اور میں تو سمترا جی کو مبارکباد دیتا ہوں انہوں نے اس پروگرام کو بنانے کے لئے جو کمیٹی بنائی تھی وہ تمام گروہ کے لوگ تھے اور قریب قریب تمام جونیئر ایم پی تھے لیکن انہوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اسے پلان کیا۔ کہنے کا مطلب ہے کہ ہم، ہماری اس یونٹ کو بااختیار کس طرح بنائیں، طاقتور کس طرح بنائیں، ان کے اندر صلاحیت کس طرح پیدا کریں۔ یہ صلاحیت لانے کے طریقوں میں ہم خود قیادت کر سکتے ہیں کیا، اگر ہم قیادت کریں گے تو ہم بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

ایک اور موضوع ہے جس پر میں آپ سے گزارش کروں گا وہ ہے ٹیکنالوجی ، ہم یہ مان کر چلیں ٹیکنالوجی کا ایک بہت بڑا کردار شخص کی زندگی میں، معاشرے کی زندگی میں یقینی ہو چکا ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو اس کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ مردوں میں ٹیکنالوجی کو اپنانے کی جتنی طاقت ہے، اس سے زیادہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی طاقت خواتین میں ہے۔ آپ دیکھئے کسی بھی رسوئی میں جائیے آپ،سب سے زیادہ جدید ٹیکنالجی اور گیزٹ کے لئے جو رسوئی میں استعمال آتا ہے وہ خواتین آرام سے استعمال کرتی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں ان کے گھر میں رسوئی میں مدد کرنے والی کوئی ان پڑھ بھی خاتون ہوگی لیکن اس کو وہ تمام چیزیں چلانی آتی ہوگی کس طرح چلانا ہے، کیا کیسے چلانا ہے، سب کچھ اس آتا ہوگا۔ مطلب ٹیکنالوجی اپنانے کی خواتین کی ایک خاص طاقت ہوتی ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا صارفین مصنوعات جو کرتے ہیں ان کا بھی ٹارگیٹ کیا رہتا ہے کہ خواین کی بنیاد پر مصنوعات کہ اس کو معلوم ہے کہ بازار فوری طور پر ملے گا کیونکہ وہ فوری طور پر قبول کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی خواتین کے لئے کوئی نئی نہیں ہوتی ہے، وہ قبول کرتی ہے لیکن نمائندوں کے ناطے جو بدلا ہوا دور ہے، اس میں ہم ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمارےرابطے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے کام کی جگہ میں، لوگوں سے رابطہ کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کریں، ہم عوام کا عام باتوں کو جاننے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کس طرح کریں، ہماری اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کریں، اس کا بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ آج آپ کا کوئی ووٹر ایسا نہیں ہوگا کہ جو موبائل فون سے منسلک نہ ہو،دو فیصد بھی نہیں ہوں گے لیکن آپ ان سے کنیکٹ ہیں، مطلب کچھ مسنگ ہے اگر آج یہاں کے دو دن کے تجربے کو اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کریں تو ملک اور دنیا کو پتہ چلے گا کہ ہاں یہ کچھ ہو رہا ہے اور معلومات حاصل کرنے کا بہترین سے بہترین ذریعہ ہے۔

میرا تو تجربہ ہے۔ میں نریندر مودی ایپ پر دیكھتا ہوں اتنے لوگ مجھ سے جڑے ہوئے ہیں، مجھے اتنی معلومات دیتے ہیں۔ ہر چیز کا فوراً پتہ چلتا ہے۔ کچھ ہوا تو فوراً پتہ چلتا ہے۔ اتنیاچھی طرح باخبر رہ سکتا ہوں کام کے اندر۔mygov.inایک پلیٹ فارم چلاتا ہوں پی ایم او سے، اس کی طرف سے بھی میں عام انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہوں۔ آپ بھی اپنے طریقے سے ایسی بندوبست کر سکتے ہیں اور میں تو لوک سبھا کو، راجیہ سبھا کو ایک ندرخواست کروں گا کہ آپ خواتین نمائندے کا ایک ای پلیٹ فارم تیار کر سکتے ہیں کیا اور ان کی جو باتیں ہیں وہ سرکاری طور پر لوک سبھا، راجیہ سبھا ویب سائٹ کو چلائیں۔ پورے ملک کے خواتین نمائندوں کے لئے ایک موقع دیا جائے۔ دیکھئے ٹیکنالوجی کی اپنی ایک طاقت ہے اور میرا ایک تجربہ ہے۔ میں جب گجرات میں وزیر اعلی تھا، كپراڈا ایک تحصیل ہے۔ بہت ہی انٹریئر بہت قبائلی بیلٹ ہے۔ عام طور پر کسی وزیر اعلی کا وہاں جانا ہوتا ہی نہیں لیکن میرا اپنے کام کی جگہ میں کام کا زور رہتا تھا سبھی خطے میں مقامات پر جاؤں، خود جانے کی میری کوشش رہتی تھی۔ لیکن میرا وہاں جانا بن ہی نہیں رہا تھا۔ دو تین سال چلے گئے اس علاقے میں جانا ہوا ہی نہیں۔ میں نے کہا بھئی میں جاؤں گا، کچھ نہیں تو ایک درخت لگا کر واپس آؤں گا، لیکن جاؤں گا۔

خیر پھر ہمارے افسروں کو بھی لگا کہ یہ تو اب جانا ہی ہے ان کو تو، آخرکار انہوں نے ایک پروگرام ڈھونڈھا، ایک چیلنگ مرکز کا افتتاح کرنا تھا۔ چیلنگ مرکز کیا ہوتا ہے، دودھ آتا ہے، دودھ کو ایک مختصر وقت تک رکھنے کے لئے کام ہوتا ہے اور 50-60 لاکھ کا ہوتا ہے۔ اب وہ ہچکچا رہے تھے کہ وزیر اعلی 50 لاکھ روپے کے پروجیکٹ کے لئے جائیں گے۔ میں نے کہا بھی میں جاؤں گا، مجھے جانا ہے، اس علاقے میں میں گیا نہیں، مجھے جانا ہے۔ میں گیا تو وہ توجنگل تھا پورا تو جلسۂ عام کے لئے جگہ بھی نہیں تھی لیکن اس سے تین کلومیٹر دور ایک اسکول کے میدان میں انہوں نے پبلک میٹنگ رکھی تھی لیکن یہاں جہاں چیلنگ مرکز پر میں گیا، وہاں دودھ بھرنے والی قبائلی 30-35 بہنیں انہوں نے بلا کے رکھی تھیں، چیلنگ سینٹر کا افتتاح کرنا تھا۔ میں حیران تھا جب میں وہاں پروگرام کے لئے گئے تو یہ ساری قبائلی بہنیں وہ جوتحفظات کے لیے باڑیں لگائی گئی تھی وہاں پر کھڑی تھیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون تھا اور فوٹو نکالتی تھیں۔

میں اس علاقے کی بات کرتا ہوں جہاں وزیراعلیٰ جاتے نہیں ہیں جنگل ہے، بالکل قبائلی لوگ ہیں۔ اس وقت کی بات کرتا ہوں، 10 سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ تمام فوٹو نکال رہی تھیں تو مجھے حیرت ہوئی، میں ان کے پاس گیا، میں نے کہا یہ فوٹو نکال کر کیا کرو گے آپ لوگ اور انہوں نے جو جواب دیا وہ میں آج بھی بھول نہیں سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا اس کو جاکر کے ڈاؤن لوڈ کرا دیں گے۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن ڈاؤن لوڈ لفظ ان کو معلوم تھا۔ موبائل فون سے کسی دکان میں جا کر کے ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کہاں کہاں پہنچی ہے۔ کیا ہم نے اپنے آپ کو اس کے ساتھ کنیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کی اپنی قوت کو بڑھانے کی سمت میں آپ کو کوشش کرنی چاہئے۔

ایک اور موضوع ہےرابطہ ، مواصلات، میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ آپ کو کوئی بہت بڑی خطیب بننا چاہئے، ضروری نہیں ہے، بن سکتے ہیں، اچھی بات ہے لیکن یہ پستی کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کوشش کریں تو آپ کے اندر اپنی باتوں کو ڈھنگ سے بتانے کی قوت آ سکتی ہے۔

آپ عوامی نمائندے ہیں، ایک کام کر سکیں اگر آپ کنوسیوی ہیں تو اپنے موبائل پر استعمال کریں یا تو ایک چھوٹا سا آئی پیڈ رکھ سکتے ہیں یا نہیں تو ڈائری میں لکھ سکتے ہیں۔ کیا آپ مسلسل ایک ڈائری مینٹین کرتے چلیں۔ اخبار میں کوئی چیز پڑھی ہے لکھ کر کے اور اس میں شعبہ بنا دیجئے تعلیم کا، آبپاشی کا،شہری ترقیات کا،دیہی تعرقی کا اور اس میں لکھتے چلے جائیے واقعات، شامل کرتے چلے جائیے۔ سال بھر کے بعد دیکھیں گے آپ، آپ کا اپنا علم کا ذخیرہ اتنا بڑا ہوگا کہ کہیں پر بھی کسی موضوع کو لے کر کے روبرو ہو رہا ہوگا تو دو منٹ لے گا آپ کی ڈائری کو نظر کر لیا، آپ ایک بڑے اعتماد کے ساتھ، اعداد و شمار کے ساتھ چیزیں پیش کر سکتے ہیں۔

میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ کو اپنے آپ کو مؤثر بھی بنانا پڑے گا اور اگر آپ اپنے آپ کو مؤثر رہنے کے لئے جو کوشش کرنی چاہئے اگر اس کو آپ نہیں کریں گے تو صرف انتظامات تبدیل کرنے سے نتائج نہیں آتا ہے۔ اسٹرکچر میں ادھر ادھر تبدیلی ہوتی رہے گی، وقت وقت پر ہوتا بھی رہتا ہے۔ ضرورت ہے اس میں پرانوان کیسے بنائیں ہم اپنی طاقت کو کس طرح شامل کریں۔

ہم کوشش کریں کم سے کم وقت میں ہم اپنی بات کو کس طرح رکھیں، درست طریقے سے کیسے رکھیں اور اگر اس بات میں آپ کی طاقت آئی تو آپ دیکھئے لوگ آپ کے بات سے اتفاق کرتے جائیں گے، جڑتے چلے جائیں گے۔ آپ قیادت کا قیام کرنے کے لئے آپ کے پاس عمدہ شخصیت کی ضرورت نہیں ہے، آپ کے پاس موضوعات کی معلومات ہونا ضروری ہے۔ آپ ایوان میں بولتے ہیں۔ سب لوگوں کو سب موضوعات کا علم ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ کیا کوئی وزیر اعظم بن گیا تو تمام موضوعات کا اس کو علم ہوتا ہے، کوئی ضروری نہیں ہے لیکن جس میں آپ دلچسپی لیتے ہیں، اس طرح ایک یا دو موضوعات پر آپ کی ماسٹری ہونی چاہئے۔ ہر بات اس سے متعلق جو چیز یہاں ملے، اس کو جمع کرتے جانا چاہئے۔ آپ کو لگتا ہے کہ پانی پر میری ماسٹری، میرے علاقے میں پانی کی دقت ہے تو میں پانی پر ماسٹری کروں۔ آپ کو لگتا ہے کہ نہیں نہیں میں ٹیکنالوجی پر ماسٹری کروں، ٹیکنالوجی پر کروں۔ آپ کو لگتا ہے نہیں نہیں میں تعلیم کے موضوع پر۔

ایک موضوع پكڑیئے، جس موضوع پر آپ سب سے زیادہ گرفت لے سکتے ہیں، آسانی سے لے سکتے ہیں، معلومات شامل کر سکتے ہیں۔ آپ دیکھئے ایوان میں روٹین میں شاید آپ کو آپ کی پارٹی کے لوگ بولنے کا موقع نہ دیتے ہوں لیکن ایک آدھ موضوع پر آپ کی ماسٹری ہوگی تو وہ تلاش کرتے ہوئے آئیں گے، نہیں نہیں بھئی منگل کو پارلیمنٹ -اسمبلی میں ضرور آئیے یہ موضوع ہے، آپ کو تو بولنا ہی پڑے گا، آپ بولیں گے تو دم آئے گا کیونکہ آپ کے پاس ذخائر بھرا پڑا ہے۔ آپ کو کسی درخواست کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اس طرح ہم خود اپنے آپ میں کس طرح ڈھالیں اپنے آپ کو، اس کے لئے کوشش کریں اور اگر یہ کریں تو ہمیں بہترین نتائج بھی ملتا ہے۔ وقت کافی میں نے لیا ہے، آپ لوگوں کو کھانہ بھی کھانا ہے اور آپ لوگ فوٹو کے لئے بھی تیار ہو کر کے آئے ہیں تو میں پھر ایک بار سمترا جی کا بہت بہت شکر ادا کرتا ہوں اور آپ سب کو بھی، ایک اور بات میرے ذہن میں آتی ہے یہ جو پارلیمنٹ کی کمیٹیاں جاتی ہیں،اسمبلی کی کمیٹیاں جاتی ہیں، ریاستوں میں جاتی ہیں۔ آپ بھی جاتے ہیں اس میں کیا آپ کوشش کر سکتے ہیں کیا، آپ کو مکمل پروگرام جو بنے گا، بنے گا لیکن آپ جہاں جائیں گے وہاں، وہاں کی خواتین عوامی نمائندوں کے ساتھ نصف گھنٹے، ایک گھنٹہ ضرور تعارف کے بارے میں کریں گے، ملاقات کریں گے، یہ کر سکتے ہیں کیا، آپ دیکھئے آپ کو اتنی معلومات ملیں گی۔

دوسرا میں نے خاص طور کے ایم پیزسے درخواست کرتا ہوں۔ یہاں کئی ریاستوں کے ایم ایل ایز کے ساتھ آپ کا تعارف ہوا ہے۔ ایوان کے اندر ملک کے کسی بھی کونے کی بحث آ پڑتی ہے۔ کیا آپ نے ٹیلیفون پر آپ نے جہاں تعارف ہوا ہے اس ریاست کی کسی ایم ایل اے سے اس کو فون کرکے پوچھ سکتے ہیں کہ بھئی ایوان میں یہ موضوع اٹھنے کا امکان ہے، تمہارے ریاست کا ہوا ہے، بتاؤ نہ کیا ہے، وہ کہے گی نہیں میں ایک گھنٹے میں ڈھونڈھكر کے بتاتا ہوں۔ دیکھئے دونوں طرف فائدہ ہو جائے گا۔ وہ بھی اس واقعہ پر ارتکاز کرے گی، وہ بھی مطالعہ کرے گی، آپ کو گھنٹے بھر میں رپورٹ کرے گی اور آپ کو بھی اخبارات کی طرف سے نہیں فرسٹ ہینڈ انفارمیشن ملے گی کہ بھئی کیرالہ میں، ترواننت پورم میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور وہاں کی ایم ایل اے نے مجھے یہ کہہ رہی ہیں تو میں ہاؤس کے اندر میں اس بات کے اندر میں یہ صحیح بات بتاؤں گی۔

آپ دیکھئے معلومات کا ذریعہ یہ بہت ضروری ہیں۔ اس میں سے اور کچھ ہم ساتھ لے جائیں یا نہ لے جا پائیں لیکن یہ جو دائرے سے آپ کا تعارف ہوا ہے، ٹیم کوئی بھی ہوگا، آپ بنائیے ، آپ معلومات کے ذریعہ آپ بڑھتے جائیں گے تو ہم کہیں جائیں دورے پر، کمیٹیاں میں زور رکھیں کہ ہم وہاں کے عوامی نمائندوں سے اجتماعی طور پر نصف گھنٹہ، ایک گھنٹہ ضرور ملیں۔ حکومت پروگرام بنائیں یا نہ بنائیں، ہم یہ کوشش کریں۔ آہستہ آہستہ یہ اپنے آپ میں ایک طاقت سمپھٹ بن جائے گا۔ جو طاقت سمپھٹ قوم کو با اختیار بنانے کے عمل میں ایک بہت بڑی اہم کردار ادا کرے گا اور وہ دن دور نہیں ہو گا کہ جب خواتین بااختیار ہوتا ہی ہوتا چلا جائے گا لیکن ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے سے آگے بڑھ کر کےترقی نسواں کی قیادت کی سمت میں آگے بڑھے گا ۔ اسی ایک مکمل احترام کے ساتھ بہت بہت مبارک، بہت بہت شکریہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *