خواتین مسافروں کا بھی خیال ضروری

خواتین مسافروں کا بھی خیال ضروری
انسانی وقار کے ساتھ زندگی کا حق چاہئے

محمد انیس الرحمٰن خان anis8june@gmail.com
محمد انیس الرحمٰن خان
anis8june@gmail.com

“سرحدی شہر پونچھ سے موسم سرما کی دارالسلطنت جموں شہر تک کی مسافت تقریباً 250کلومیٹر ہے ،اتنے طویل پہاڑی راستے والے سفر کو چھوٹی گاڑی جیسے ٹاٹا سمو،ٹویرا وغیرہ سے طے کرنے میں کم از کم چھ سے سات گھنٹے لگ جاتے ہیں ،اور اگر یہی سفر کچھ کرایہ کی رقم بچانے کے لئے بس سے کیا جائے تو نو سے دس گھنٹے میں پورا ہوتا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جموں سے پونچھ کے درمیان ایک بھی سرکاری بیت الخلاء نہیں ہے، جہاں خواتین پردے میں رہتے ہوئے رفع حاجت کو جاسکیں، مرد حضرات تو کسی طرح درخت یا بڑے پتھروں کی آڑ لے کر قضائے حاجت کرلیتے ہیں ،لیکن ہم خواتین اور خصوصاً دوشیزہ لڑکیوں کے لئے یہ بڑی پریشانی کا سبب بنتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہماری وزیر اعلیٰ ایک خاتون کا درد بہتر سمجھ سکتی ہیں”۔
درج بالا جملہ پونچھ شہر میں رہنے والی 18سالہ شہناز بخاری کا ہے جو ایک طالبہ ہونے کے ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں۔وہ اتنہائی افسردگی اور بچارگی کے عالم میں مزید کہتی ہیں کہ “آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے ضلع کی بیشتر آبادی پہاڑی گاؤں میں بستی ہیں جہاں سے آنے کے لئے کسی علاقے میں روڈ ہے تو گاڑی نہیں اور گاڑی ہے تو کرایہ اداکرنے کا پیسہ نہیں ۔ کئی کئی کلومیٹر دور سے پردہ نشین خواتین پونچھ شہر آتی ہیں مگر یہاں کے بس اسٹینڈ میں بھی ان کی رفع حاجت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔اگر بات مریضوں کی ،کی جائے تو یہاں کا بڑا برا حال ہے ،سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر جسمانی اعضاء سے ہاتھ دھونے والے مریضوں کی تعدادہے اور ان کے لئے ایک بھی ہسپتال پونچھ میں نہیں ہے ،نہ کوئی ایسا ہاسٹل ہے جہاں ان کی دیکھ ریکھ کی جاسکے ، آپ تصور کیجئے ایسے مریضوں میں خواتین بھی ہوتی ہیں اور ان کو جب جموں لے جایا جاتا ہے تو ان کے لئے رفع حاجت کا کوئی بھی انتظام راستے میں نہیں ہوتا،کیا یہ ایک قومی مسئلہ نہیں ہے ؟،جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے؟”۔
جموں یونیورسٹی میں ایم ۔اے سماجیات کے طالب علم اور دیہی قلم کار سید انیس الحق بخاری اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ”تعلیم کے سلسلہ میں میری جموں سے پونچھ آمد ورفت ہوتی ہی رہتی ہے اس طویل پہاڑی سفر میں بہت سی پریشانیوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے جس میں عوامی بیت الخلا کی عدم موجودگی بڑی مصیبت ہے ،ڈرائیور حضرات کہیں بھی کھلے میں سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی کردیتے ہیں ،جہاں مرد تو کھلے آسمانوں تلے کسی درخت یا بڑے پتھر کا پردہ لے کر کبھی بغیر کسی پردے کے ہی کھلے میں ہی رفع حاجت کرتے ہیں،حالانکہ مرکزی حکومت سمیت ریاستی حکومت بھی کھلے میں رفع حاجت کے سخت خلاف ہے، لیکن مسافروں کے لئے کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے ؟۔دوسری جانب یہ پریشانی تب زیادہ بڑھ جاتی ہے جب مسافر کوئی خاتون ہو، یا آپ کسی خاتون کے ساتھ سفر کررہے ہوں، کیوں کہ خواتین مردوں کی طرح درخت یا پتھر کی آڑ میں رفع حاجت کو جاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں “۔پونچھ ضلع ہیڈ کواٹر سے محض دس کلو میٹر کی دوری پر واقع کھنیتر گاؤں کے باشندہ محمد عزیز چوہان کے مطابق”اس طویل سفر میں کم از کم تین چار جگہوں پر عوامی بیت الخلا کا ہونا از حد ضروری ہے تاکہ ڈرائیور بھی انہیں جگہوں پر اپنی گاڑیاں کھڑی کریں جہاں آسانی سے لوگ رفع حاجت کو جاسکیں، خصوصی طور پر خواتین پردے میں رہتے ہوئے رفع حاجت حاصل کرسکیں۔حکومت کو اس کی طرف فوری توجہ

جموں پونچھ شاہراہ کا ایک منظر
جموں پونچھ شاہراہ کا ایک منظر

دینے کی ضرورت ہے”۔
جموں یونیورسٹی میں پونچھ کے باشند ہ ہریش کمار پوسٹ گریجویشن کررہے،وہ اپنی بات رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ “جموں سے پونچھ کے راستے میں دو چار جگہوں پر عوامی بیت الخلاہونا ہی چاہئے کیونکہ اس روڈ پر چلنے والی گاڑیوں میں مردو خواتین ہوتی ہیں اس کے علاوہ ہر طرح کے مسافر ہوتے ہیں،ڈرائیور اپنے سہولت کے حساب سے ایسی جگہ گاڑی کھڑی کرتے ہیں جہاں پردے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا ، لوگ پریشان ہوتے رہتے ہیں، سفر کا معاملہ ہے ،اس لئے اس طرح کی سہولت ضرور ملنی چاہئے،ہم حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس لئے حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہمیں بہتر سہولت نہ سہی کم از کم ضروری اور بنیادی سہولیات تو مہیا کرائے” ۔22سالہ شاہنواز اپنے جوشیلے انداز میں کہتے ہیں کہ”خواتین کاپردہ نہایت ہی ضروری ہے ،یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے،جموں پونچھ شاہراہ پر ایک بھی سرکاری بیت الخلا نہیں ہے ،ہر دس کلومیٹر پر ایک سرکاری بیت الخلا ہونا ضروری ہے ۔اور اس میں بھی خواتین کے لئے علاحدہ بیت الخلا نہایت بہت ضروری ہے،صرف بیت الخلا تعمیر کردینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی صاف صفائی کی بھی ذمہ داری حکومت کو اپنے سر لینی چاہئے”۔
ضلع پونچھ کے تحت آنے والے سرنکوٹ کے ایم ایل اے جناب چودھری محمد اکرم صاحب سے جب اس تعلق سے بذریعہ فون بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے میں پوری طرح سے آپ کی بات سے متفق ہوں دراصل مرکزی حکومت سوچھ بھارت ابھیان تو ضرور چلارہی ہے لیکن اس سنگین مسئلہ پر اس کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شاہراہ حکومت ہند کے تحت ہی آتی ہے اور اس مسئلے کا حل بھی اسی کو کرنا ہے ۔ میں آپ سے مزید گفتگو کرنا چاہتا ہوں لیکن ابھی میں کسی تعزیت کے لئے آیا ہوا ہوں تومناسب نہیں ہے”۔
حویلی کے ایم ایل اے جناب شاہ محمد تانترے کہتے ہیں کہ “آپ قابل صد مبارک باد ہیں کہ اس مسئلے کو اُجاگر کرر ہے ہیں ، اس میں کوئی شک کی گنجائش ہے ہی نہیں کہ سات آٹھ گھنٹے کے اس سفر میں بیت الخلا ہونا چاہئے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہر 45منٹ کی مسافت پر ایک بیت الخلا ہونا ہی چاہئے ،ابھی 8مارچ کوعالمی یوم خواتین منایا گیا ہے لیکن اس شاہراہ پر خواتین کے لئے ایک بھی بیت الخلا کا نہ ہونا قابل افسوس ہے۔ میں ایک بار پھر سے آپ کو مبارک باد دیتے ہوئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس سنگین مسئلے کی طرف عوام وخواص کے ذہن کو متوجہ کیا ہے”۔
مینڈھر کے ایم ایل اے جنا ب جاوید رانا ؔ صاحب سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ “میں ابھی ایک میٹنگ میں مصروف ہوں آپ آدھے گھنٹے بعد فون کریں”۔ جب بعد میں فون کیا گیا تو انہوں نے کال اپنے معاون محمد شبیر کو فاروڈ کردی ،محمد شبیر صاحب نے کہا کہ وہ ابھی سکریٹریٹ کی میٹنگ میں مصروف ہیں ، مختصر یہ کہ ان سے بات نہیں ہوسکی اس لئے ان کا نظریہ سامنے نہ آسکا۔ مگر مینڈھر کے ایک نوجوان سید حامدہاشمی جو اس وقت جموں یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ دو کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “مینکا گاندھی بنام یونین انڈیا کے ایک فیصلہ میں عدالت عظمیٰ نے دفعہ 21(جو ہمیں زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے )کا ایک نیا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ زندگی گزارنے کا حق صرف جسمانی طور پر ہی نہیں ہے بلکہ اس دائرہ میں انسانی وقار کے ساتھ زندگی گزارنا شامل ہے ۔ اسی طرح کا نظریہ عدالت نے ایک دوسرے کیس فرانسس کوریل بنام یونین ٹریٹری دہلی کا فیصلہ دیتے وقت دفعہ 21 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ “زندگی گزارنے کا حق اورانسانی وقار”کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دونوں پہاڑی اضلاع راجوری اور پونچھ کے لاکھوں عوام کے انسانی وقار کی پامالی ہورہی ہے ۔”وہ مزید کہتے ہیں کہ “یہ عوام کا حق اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی وقار کو بہال رکھے اور ان کی بہت ہی جائز مانگ یعنی پونچھ جموں شاہراہ کے کئی مقامات پر بیت الخلا کی تعمیر کرائی جائے”۔
نوجوان سماجی کارکُن وسیم بخاری کے مطابق”آپ نے ہماری دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہے، پونچھ جموں شاہراہ پر بیت الخلا نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو بڑی پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے،یہ شاہراہ 227کلومیٹر طویل ہے،پہاڑی راستہ ہونے کی وجہ سے زمین کا کھسکانہ عام بات ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ اس لئے حکومت کو اس طرف فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے”۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف عوام کھلے میں رفع حاجت کرنے کو معیوب سمجھتے ہوئے بھی مجبور ہیں اور دوسری طرف حکومت بڑے پیمانے پر کھلے میں رفع حاجت کو روکنے کی کوشش میں کروڑوں روپئے اشتہارات پر خرچ کررہی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ ،مذکورہ شاہراہ پر بیت الخلا تعمیر نہیں ہوپارہا ہے؟ ۔سرحدی اضلاع کے عوام ایک دوسرے سے سوال کررہے ہیں کہ اب تو ایک ہی پارٹی کی حکومت مرکز وریاست دونوں جگہوں پر ہے پھر پریشانی کہاں ہے؟(چرخہ فیچرس)

نوٹ:۔ درج بالا مضمون این ایف آئی کے تحت دی گئی فلوشپ کے تحت تحریر کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *