خواتین پر مظالم روکنے کے لیے سخت قوانین بنے: ویمن انڈیا

بنگلور( پریس ریلیز):
ویمن انڈیا موومنٹ (ڈبلیوآئی ایم)کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس بنگلور میں ۵؍فروری۲۰۱۷ء کو منعقد کیا گیا جس کی صدارت تنظیم کی قومی صدر محترمہ یاسمین فاروقی نے کی۔ اجلاس میں تنظیمی سر گرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد ملک کے موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔ ۱۔نوٹ منسوخی تباہ کن ہے : ویمن انڈیا موومنٹ نے اپنی پہلی قرار داد میں نوٹ منسوخی کے اقدام کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزکی بی جے پی حکومت نے بغیر کسی تیاری اور صلاح و مشورے کے ملک کے تمام شہریوں کو شدید تکلیف اور مشقت میں ڈال دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بیرون ملک سے کالا دھن لانے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی بجائے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نوٹ منسوخی کاکارڈ کھیلا ہے۔اگر بی جے پی حکومت واقعی میں کالا دھن کے معاملے میں فکر مند ہے تو حکومت سب سے پہلے ملک اور بیرون ملک میں کالا دھن رکھنے والے سیاستدان، فلمی اداکار، امیر طبقہ،کان کنی اور شراب مافیاء وغیرہ کے خلاف اقدامات کرتی ۔ کالا دھن رکھنے والوں نے بینک افسران کے ذریعے اپنے کالے دھن کوتبدیل کرلیا ہے جس سے بدعنوانیوں کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بینکوں اور اے ٹی ایم کے قطاروں میں دن بھر کھڑے رہنے کی وجہ سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک میں نقدی کی قلت سے عوام سمیت تاجروں، ٹھیکیداروں ،کسانوں، مزدوروں، صنعت کار، پیشہ وروغیرہ کے روز مرہ کے کاروبار اور لین دین پر سنگین اثر پڑاجس سے ان کو نا قابل بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ملک کاجی ڈی پی اور معیشت زوال پذیر ہوا۔ نریندر مودی کا نوٹ منسوخی کاآمرانہ فیصلہ عوام کے بنیادی حقوق پر ایک مہلک دھچکا ہے جس سے ملک گہری مصیبت میں گھرا ہوا ہے۔ ۲۔نئی تعلیمی پالیسی : ویمن انڈیا موومنٹ نے نئی تعلیمی پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزکی بی جے پی حکومت نئی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ان حقائق سے سبھی اچھی طرح واقف ہیں کہ بی جے پی حکومت ملک کے تعلیمی نظام میں بھگوا رنگ بھرنا چاہتی ہے اور ملک کے تعلیمی نظام میں ویدک اور گروکل نظریات لاگو کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے تکثیری ملک کے تعلیمی نظام میں حکومت کی طرف سے ذاتی اور متعصب تصورات تھوپنے کی کوشش کی گئی تو اس سے یقیناًہمارے ملک کے فطری قومی ساخت کو نقصان پہنچے گا اور سماجی تانا بانا بگڑے ہوگا۔ ویمن انڈیا موومنٹ نے مرکزی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ مرکزی حکومت تعلیم کو بھگوا رنگ دینے کی اپنی کوشش کو ترک کرے اور تکثریت اور بقائے باہمی کے ساتھ تعلیمی نظام کو مضبوط کرے۔ ۳۔ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم پر تشویش: ویمن انڈیا موومنٹ نے ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف منظور قرار دادمیں کہا ہے کہ آج ملک میں خواتین پرہونے والے مظالم بڑھتے ہی جارہے ہیں، عصمت دری، قتل، حملے، ایذارسانی، گھریلو تشدد، وغیرہ عام ہوگئے ہیں۔اگرچہ اس رجحان کے تعلق سے ملک میں کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے لیکن اس لعنت کو ختم کرنے میں حکومتیں اور اس کی ایجنسیاں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ ویمن انڈیا موومنٹ نے حکومت سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں خواتین کو مکمل تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین تشکیل دی جائیں۔ قبل ازیں اجلاس سکریٹری ایڈووکیٹ شاہرہ بانو نے تمام اراکین کا استقبال کیااور سکریٹر ی ستارہ بیگم نے شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ شاہرہ بانو ( تمل ناڈو) ، محترمہ ستارہ بیگم( جے پور)، محترمہ شاہین کوثر ( نئی دہلی) ،ایڈووکیٹ زمرد سلطانہ ( کرنول) ، محترمہ مہرالنساء خان اور محترمہ فریدہ سید ( راجستھان)،محترمہ نجمہ، محترمہ فرزانہ ( تمل ناڈو)، محترمہ فصیحہ خان ( کرناٹک) محترمہ کے اے عائشہ، محترمہ صوفیہ پروین، محترمہ عالیہ پروین اور عالیہ پروین ( مغربی بنگال) سے شریک رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *