خون ناحق رائیگاں نہ جائے

فیصل فاروق
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ایک خوفناک خودکش حملہ میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ۴۴؍جوان شہید اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے۔ حملہ آور نے کئی کلو بارود اور دیگر دھماکہ خیز اشیاء سے لدی کار سی آر پی ایف کے قافلے میں شامل اس گاڑی سے ٹکرا دی جس میں تقریباً ۴۵؍جوان سوار تھے۔ یہ خبر جس نے بھی پڑھی افسوس اور غصہ سے بھر گیا۔ پورا ملک شہید ہونے والے بہادر جوانوں کے غم میں ڈوبا ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔

واضح رہے کہ ۱۴؍ فروری کو سی آر پی ایف کے قافلہ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ قافلہ میں ۷۸؍گاڑیاں اور۵۰۰ ۲؍سے زیادہ جوان شامل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر چھٹیاں گزارنے کے بعد اپنے کام پر واپس لوٹ رہے تھے۔ یہ حملہ سری نگر سے تقریباً ۳۰؍کلومیٹر دور ایک شاہراہ پر پلوامہ ضلع کے اونتی پورہ علاقہ میں قافلہ پر گھات لگاکر کیا گیا۔ اس خودکش حملہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس سانحہ سے پورا ملک صدمہ سے دوچار ہے۔ اس طرح انسانیت کا قتل کرنے والوں کے لیے دنیا کے کسی گوشہ میں گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حملے کا سرغنہ وہی مسعود اظہر ہے جسے ۱۹۹۹ء میں ایک ہندوستانی طیارے کو اغوا کرکے مسافروں کی رہائی کے بدلے میں واجپئی حکومت نے مجبوراً رہا کیا تھا۔ مسعود اظہر کی تنظیم دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے معاملے میں ہندوستان کو مطلوب ہے۔ اس پر نہ صرف ممبئی میں۱۱ ؍۲۶ کے حملے کا الزام ہے بلکہ اس کے ساتھ پٹھان کوٹ حملہ، اڑی حملہ اور ان تمام سے پہلے پارلیمنٹ پر کے لیے بھی اسی تنظیم کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں جنت ارضی کشمیر میں صورتحال مسلسل خراب سے خراب تر ہوئی ہے۔ رواں سال اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور تمام لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے جو گذشتہ سات دہائیوں سے اس تنازعہ کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے علاقہ کے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پرامن ماحول قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بی جے پی حکومت کو انتخابی سیاست چھوڑ کر ملک کے مفاد میں فعال ہونا چاہیے۔ ہمارے جوانوں کے خلاف اس طرح کا تشدد آمیز حملہ ناقابل برداشت ہے۔ حکمراں جماعت، اپوزیشن اور اِس عظیم ملک کے عوام غمزدہ ہیں، برہم ہیں۔ اس معاملہ کی بنیادی طور پر جانچ پڑتال کی جائے اور ایسی ظالمانہ حرکت کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ پاکستان کو دیا گیا ’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘ (سب سے زیادہ ترجیح دیا جانے والا ملک) کا درجہ واپس لیا گیا ہے۔ کیا صرف اتنا کرنا کافی ہے؟

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انٹیلی جنس ایجنسی نے ۸؍فروری کو ایک آئی ای ڈی حملہ کا الرٹ جاری کیا تھا کہ کسی بھی جگہ پر تعیناتی سے پہلے پورے علاقے کو اچھی طرح محفوظ کر لیا جائے کیونکہ یہ اطلاع ملی ہے کہ آئی ای ڈی کا استعمال حملہ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے بعد بھی لاپروائی برتی گئی؟ موجودہ حکومت بلند بانگ دعوے کرنے کے بجائے خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور سیکورٹی سسٹم میں سدھار کرے۔
(فیصل فاروق ممبئی میں رہائش پذیر کالم نِگار اور صحافی ہیں)

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply