دستک ادبی فورم کے زیراہتمام طلبہ سمینار کا انعقاد

طلبہ ہماری پونجی ہی نہیں ہمارا آئینہ ہیں، ان کی کامیابی اور ترقی میں ہم اپنی کامیابی اور ترقی دیکھتے ہیں :پروفیسر آفتاب احمد آفاقی
استاد کے لیے طلبہ ہی ان کا سرمایہ اور پونجی ہوتے ہیں، ان کی کامیابی اور ترقی میں وہ اپنی کامیابی اور ناکامی کو دیکھتے ہیں۔ یہ احتساب جب تک ہمارے اندر پیدا نہیں ہوگا ہم بہتر استاد نہیں بن سکتے اور طالب علم جب تک اپنے اندر بے چینی اور علم کی پیاس محسوس نہ کرے وہ اچھا طالب علم نہیں ہوسکتا۔ ان خیالات کا اظہارپروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی نے شعبۂ اردو کی ادبی تنظیم ’دستک ادبی فورم ‘ کے زیراہتمام طلبہ و ریسرچ اسکالر سمینار میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔
دستک ادبی فورم شعبۂ اردو بنارس ہندویونیورسٹی کی ادبی تنظیم ہے جس کے تحت طلبہ اور ریسرچ اسکالروں کی مختلف ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد طلبہ میں لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا کرنا اور ادب کی افہام و تفہیم کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت شعبۂ اردو کے سمینار ہال میں طلبہ اور ریسرچ اسکالر کا سمینار پروفیسرآفتاب احمدآفاقی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس میں ایم اے سال آخر کے پانچ اور بی اے سال آخر کے ایک طالب علم نے مقالہ پیش کیا۔ دستک ادبی فورم کے نگراں ڈاکٹر مشرف علی نے بتایا کہ طلبہ کو دو افسانے(پرندہ پکڑنے والی گاڑی از غیاث احمدگدی اورگنبد کے کبوتراز شوکت حیات) اور دو نظمیں (البیلی صبح از جوش ملیح آبادی اور چاندتاروں کا بن از مخدوم محی الدین) تجزیہ اور تنقید کے لیے پہلے دے دی گئی تھیں، ان پر بچوں نے لکھ کر اساتذہ سے رابطہ کیا اور ان کی اصلاح کے بعد یہاں سمینار میں بچوں نے اپنے مقالے پیش کیے۔ظاہر ہے اس سے طلبہ میں ادب کی تفہیم، تجزیہ اور مقالہ پیش کرنے کی تربیت ہوتی ہے۔ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسراشفاق احمدصدرشعبۂ عربی اور ڈاکٹر محمدعقیل صدر شعبۂ فارسی نے شرکت کی اور مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ 
اس سمینار میں جن طلبہ نے مقالے پیش کے ان کے نام عبیدالرحمن(پرندہ پکڑنے والی گاڑی کا تجزیاتی مطالعہ)، محی الدین (گنبد کے کبوتر کا تنقیدی جائزہ)،نسرین جہاں،شبنم انصاری، امیمہ بی بی(ایم اے سال آخر) اور ناگیندرکشواہا(بی اے سال آخر) نے مخدوم محی الدین کی نظم ’چاندتاروں کا بند کا جائزہ‘ پیش کیا۔ان مقالوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے شعبہ کے استاد عبدالسمیع نے کہا کہ طلبہ اگر اسی طرح محنت کرتے رہے تو بہت جلد ہمارا شعبہ ہندوستان کی تمام یونیورسٹی کے شعبوں میں ممتاز مقام حاصل کر لے گا۔ 
پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر محمدجاوید نے کی جبکہ اظہار تشکر محمدکلام نے کیا۔ اس موقع پر شعبۂ اردوکے استادڈاکٹر احسان حسن، رشی کمار شرمااور محترمہ رقیہ بانوکے علاوہ شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالراور طلبا کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ 

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published.