دو اساتذہ کے سہارے 616طلبہ کا مستقبل

محمد راشد،ستامڑھی 9472469522
محمد راشد،ستامڑھی
  9472469522

سیتامڑھی ضلع ہیڈکوسے تقریباً 32کلومیٹر کی مسافت پر مشرق کی جانب پوپری بلاک کی پنچایت بھٹا دھرم پور کے گاؤں کوشیل کے وارڈ نمبر 14 میں واقع مڈل اسکول کی سات کمروں پر مشتمل شاندار دومنزلہ عمارت کسی بھی ناظر کا دل موہ لینے کے لئے کافی ہے، مگر عمارت کا اصل مقصد سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ اسکول میں 616طلبا وطالبات کا اندراج ہے اور ان کا مستقبل سنوارنے کے نام پر محض 2استانیاں ہی موجود ہیں ان میں بھی ایک تعطیل پرتھی، پریشان حال اسکول کی پرنسپل صاحبہ ہی اسکول میں موجود تقریباً250بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سنبھال نے کی کوشش میں مصروف تھیں، ممکن ہے یہ کوشش بھی چرخہ کے نوجوان دیہی قلم کاروں کی ٹیم کوکیمرہ،کاپی،قلم وغیرہ سے مزین اپنے اسکول کی جانب آتے ہوئے دیکھ کر ہی رہی ہوگی۔
دراصل مذکورہ اسکول میں پرنسپل منجوکماری کے علاوہ دو اور اساتذہ ہیں جن میں سے ایک راجیش داس کو بی ای او (بلاک ایجوکیشن آفیسر) کی آفس میں تعینات کیا گیا ہے، جب کی تیسری استانی شیلا کماری اسکول میں حاضر نہیں تھیں۔ جب کہ اسکول کے رجسٹر میں کُل 616طلبا وطالبات کے نام کا اندراج ہے۔ جن میں سے تقریباً 250طلاب حاضر تھے، اسکول کی پرنسپل منجوکماری اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ “ہمارے اسکول میں دو ہینڈ پائپ ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک ہی کام کررہا ہے،بیت الخلا کا بھی برا حال ہے،بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دو تین ہونے چاہئے تھے، مگر لڑکے اور لڑکیوں کے علاوہ اسٹاف کے لئے بھی ایک ہی بیت الخلاہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ ” درس وتدریس کا انداز لگانا قارئین کے لئے مشکل نہ ہوگا،مگر محکمہ تعلیم کو اس کا اندازہ لگانے کے لئے مثال ضروری ہے۔ چنانچہ چوتھی جماعت کے گیارہ سالہ سنیل کمار سے جب دریافت کیا گیا کہ آج کون سا دن ہے؟ تو انہوں نے جمعہ کو سنیچر بتایا۔دنوں کے نام بھی یاد نہ ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی تو عید مبارک! گھبرائے نہیں میں عید کی مبارک باد نہیں دے رہاہوں بلکہ اسکول کے طالب علم کانام بتا رہاہوں، عید مبارک حسین ولد قربان حسین عمر تیرہ سال جماعت چھ کے طالب علم کہتے ہیں کہ “پڑھائی نہیں ہوتی ہے، حاضر سب دن ہوتی ہے،جو نہیں آتا ہے اس کی بھی حاضری بنا دی جاتی ہے۔” ساتویں جماعت کے ایک دوسرے طالب علم ستیش کمار ولد گنیش رائے عمر 13سال مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “پڑھائی بالکل نہیں ہوتی ہے ہمارے اسکول میں سات کمرے ہیں مگر تمام طلبہ وطالبات کو محض دو کمروں میں سمیٹ دیا جاتا باقی کے کمرے خالی پڑے رہتے ہیں، وجہ یہ نہیں کہ جگہ نہیں ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ پڑھانے والے اساتذہ نہیں ہیں۔اساتذہ کی کمی کی وجہ سے دو کمروں میں تمام جماعتوں کے بچوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ” صاف ستھرے بھارت کا خواب دیکھنے اور دکھانے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے مذکورہ طالب علم مزید کہتے ہیں کہ “اسکول کی زمین چھ کٹھا ہے،مگر راستہ نہیں۔ اسکول میں چہار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں کے چرواہے جانوروں کو اسکول میں لے آتے ہیں اور یہاں گندگی پھیلاجاتے ہیں،اتنا ہی نہیں بلکہ لوگ اپنے کوڑے بھی یہاں ڈال جاتے ہیں۔”ساتویں جماعت کی 14سالہ طالبہ کریشمہ کماری ولد شبھم رائے کے مطابق ” یہاں لڑکیوں کے لئے الگ سے بیت الخلا نہیں ہے. ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ایک ہی بیت الخلا ہے اور اس میں بھی پانی لے جانے کے لئے نہ تو بالٹی ہے نہیں کوئی اور

اسکولی بچوں سے باتیں کرتے ہوئے چرخہ کے دہی قلم کار
                         اسکولی بچوں سے باتیں کرتے ہوئے چرخہ کے دہی قلم کار

برتن۔ بیت الخلا سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے صابن بھی نہیں ہوتا ہے”
13سالہ پپو نے بتایاکہ ” اسکول میں بجلی ہے، تمام کمروں میں وائرینگ بھی ہے لیکن صرف آفس میں ہی پنکھا اور بلب لگا ہوا ہے”۔ 14 سالہ مدھو کماری آٹھویں جماعت کی طالبہ کہتی ہیں کہ ” میڈم چھوٹے بچوں کو تو پڑھاتی ہی نہیں اور بڑے بچوں کو تھوڑا بہت پڑھاتی بھی ہیں تو ہوم ورک دینے کے 6-7 دنوں بعد ہی چیک کرتی ہے روزانہ نہیں کرتی”۔ایک دیگر طالب علم سنجیو کمار نے بتایا کہ” دو برسوں میں مشکل سے ہم لوگوں کا وزن ہواہوگا “۔اس کی ہامی وونود اور رنکوکماری بھی بھرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ” وزن صحیح سے نہیں کیا جاتاہے، رنکو اپنی بات کو وضاحت سے پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ” ہم لوگو کو مڈ ڈے مل فہرست کے مطابق نہیں ملتا ہے. جس دن دال، چاول، سبزی بنانا ہوتا  ہے اس دن چوکھا اور کھچڑی بنائی جاتی ہے، اور وہ بھی کھانا بھر پیٹ نہیں دیا جاتا،دال بھی بہت پتلی ہوتی ہے جو کھانے میں اچھی نہیں لگتی، سبزی کا حال بھی بے حال ہی ہوتا ہے جب کہ چاول سے کبھی کبھی بدبو آتی ہے”۔اُوشا کماری چوتھی جماعت کی طالبہ کہتی ہے کہ” میڈ ڈے میل صحیح سے نہیں ملتا کھانا اچھا نہیں لگتا، پلیٹ اتنی گندی ہوتی ہے کہ ہم لنچ کے وقت گھر سے ہی پلیٹ لے آتے ہیں اسکول میں صاف صفائی کا بھی برا حال ہے برسات کے موسم میں یہاں بہت بدبو آتی ہے”۔
اسکول کے باورچی خانہ میں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہاں کھانا بنانے کے لئے پانچ خواتین باورچیوں کی تقرری کی گئی ہے، جس میں محض دو ہی بارچی موجود تھیں،انہوں نے کہا کہ” اسکول کی ہیڈ ماسٹر اسکول وقت سے پہلے ہی گھر چلی جاتی ہیں جب کہ ہم لوگ چار بجے تک رہتے ہیں “۔60 سالہ لکشمن مہتو کہتے ہیں کہ ” ہمارے تین بچے پڑھنے جاتے ہیں لیکن پڑھائی نہیں ہوتی”۔ اپنی زندگی کی 45 بہاریں گزار چکی راکھی دیوی کہتی ہیں کہ ” ماسٹر ہے ہی نہیں ہے تو پڑھائی کیسے ہوگی، میرے پوتے راہل، اور سورج وہیں پڑھنے جاتے ہیں جبکہ میری پوتی کہتی ہے کہ دادی ہم خود ہی پلیٹ دھوتے ہیں “۔ پنچایت کے نائب مکھیا رام ناتھ یادو اس سلسلے میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” ابھی اساتذہ کی کمی ہے اسی حساب سے پڑھائی بھی ہوتی ہے”۔
مذکورہ اسکول کے طلبہ واستانی اور مقامی گارجین کی باتوں کے درمیان فرق،یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ اسکول کی اصل صورت حال کیا ہے، یوں تو ملک کو ڈیجیٹل دنیا کی طرف فروغ دینے کی ضدی پر اڑی مرکزی حکومت اور شراب کی بوند بوند کو اپنی ریاست سے بے دخل کرنے کی جدوجہد میں کمربستہ ریاستی حکومت کو اس سمت بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک کا ہر شہری تعلیم یافتہ ہوکر خود بخود مرکزی وریاستی حکومتوں کے خوابوں کی تعبیر بن جائے۔(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *