دو دھماکے، دو مذہب، دو جانچ

پونیہ پرسون باجپئی
پونیہ پرسون باجپئی

۔۔۔ تو جشن منائیے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، لیکن مذہب کے سہارے سیاست کا دہشت ضرور ہوتا ہے، کیوں کہ ۸ ستمبر ۲۰۰۶ کو مالے گاؤں کی حمیدیہ مسجد کے پاس ہوئے بم دھماکوں میں جن ۹ لوگوں: نورالہدیٰ شمس الضحیٰ، شیبر احمد مسیح اللہ، رئیس احمد، رجب علی، سلمان فارسی، فاروق اقبال مخدومی، شیخ محمد علی عالم شیخ، آصف خان بشیر خان اور محمد زاہد عبدالمجید کو پکڑا گیا اتفاق سے سبھی مسلمان تھے۔ اور ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸ کو مالے گاؤں کے انجمن اور بھیکو چوک پر جو دھماکے ہوئے، اس میں جن ۱۶ لوگوں: سادھی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، شو نارائن کل سنگرا، شیام بھنور لال ساہو، پروین تک کلکی، لوکیش شرما، دھن سنگھ چودھری، رمیش شواجی اُپادھیائے، سمیر شرد کلکرنی، اجے راہیرکر، جگدیش شنتامن مہاترے، کرنل پرساد شری کانت پروہت، سدھاکر دھر دویدی، رام چندر کل سنگرا اور سندیپ ڈانگے کو پکڑا گیا اتفاق سے سبھی ہندو تھے۔ ۲۰۰۶ کے دھماکے میں جب جب مسلمانوں کو پکڑا گیا تو بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے ’’دہشت گردی اور مسلم سماج کو ایک ترازو میں رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی‘‘۔ اور جب ۲۰۰۸ کے مالے گاؤں دھماکے میں سادھوی پرگیہ اور کرنل شری کانت پروہت سمیت درجن بھر لوگوں کو پکڑا گیا، تو کانگریس نے ’’ہندو دہشت گردی کا سوال اٹھا کر سنگھ پریوار اور بی جے پی کو لپیٹے میں لیا‘‘۔

اور اتفاق دیکھیے، کیا ہندو کیا مسلمان۔ کیا ۲۰۰۶ کے دہشت گردانہ دھماکے میں مارے گئے ۳۷ شہری اور کیا ۲۰۰۸ کے دھماکے میں مارے گئے ۶ شہری۔ اور دونوں دھماکوں میں زخمی دو سو سے زیادہ لوگ۔ دونوں کی ہی جانچ شروع میں مہاراشٹر دہشت گردی مخالف دستے نے کی۔ اور بعد میں معاملہ این آئی اے کے پاس چلا گیا۔ لیکن دہشت گردانہ حملہ ۲۰۰۶ کا ہو یا پھر ۲۰۰۸ کا، این آئی اے کو جانچ میں کچھ ملا ہی نہیں۔ تو ۲۰۰۶ کے سبھی ۹ ملزم جیل سے رہا ہو گئے۔ اور ۲۰۰۸ کے ۱۶ ملزمین میں سے ۶ ملزم (سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، شو نارائن کل سنگرا، شیام بھنور لال ساہو، پروین تک کلکی، لوکیش شرما، دھن سنگھ چودھری) کو این آئی اے نے اپنی فائنل چارج شیٹ میں معصوم قرار دیا اور سبھی پر سے مکوکا ہٹانے کی سفارش کر دی۔ یعنی پانچ دنوں میں ممبئی کی خصوصی عدالت سادھوی پرگیہ سنگھ سمیت چھ ملزمین کو رہا کر دے گی۔

تو یہ سوال کسی کے بھی ذہن میں آ سکتا ہے کہ مالے گاؤں میں دو الگ الگ دہشت گردانہ حملے میں جو ۴۳ شہری مارے گئے، دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے، کروڑوں کی ملکیت کا جو نقصان ہوا وہ الگ؛ زخمیوں میں کچھ ہی حالت آج بھی معذوروں جیسی ہے، تو پھر ان کا گنہگار ہے کون؟ کیوں کہ چارج شیٹ چاہے ۲۰۰۶ کے دھماکے کو لے کر ہو یا ۲۰۰۸ کے دھماکے کو لے کر، دونوں ہی چارج شیٹ میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کے درج کیے گئے اقبالیہ بیانوں تک کو خارج کر دیا گیا۔ یعنی گزشتہ ۸ سے ۱۰ برس تک جو بھی جانچ ہوئی، جانچ کو لے کر پولس۔سیکورٹی سے جڑے چار محکموں کے دو سو سے زیادہ افسروں نے جو بھی جانچ کی، وہ سب خارج ہو گئی۔ حالانکہ، کچھ راحت کی بات ہو سکتی ہے کہ ۲۰۰۸ کے دھماکوں کو لے کر ایجنسی نے عدالت سے بقیہ ۱۰ ملزمین کے خلاف تفتیش جاری رکھنے کی اجازت مانگی ہے، اور ان ۱۰ ملزمین میں کرنل شری کانت پروہت اور سندیپ ڈانگے بھی ہیں۔ لیکن مکوکا اِن پر سے بھی ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔ یعنی اے ٹی ایس چیف کرکرے کی جانچ میں جو قصوروار تھے، وہ این آئی اے کی جانچ میں قصوروار نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *