دہلی یونیورسٹی میں ’غالب اور عہد غالب‘ کی رسم رونمائی

غالب انسٹی ٹیوٹ تمام اداروں کے ساتھ مل کرعلمی و ادبی امور انجام دیتا رہے گا: پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

نئی دہلی (نامہ نگار):غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام وزارت ثقافت حکومت ہند اور دہلی یونیورسٹی کے تعاون سے شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے خواجہ احمد میموریل لائبریری میں جمعرات کو غالب انسٹی ٹیوٹ کی اہم ترین اشاعت ’’غالب اور عہد غالب کی رسم رونمائی عمل میں آئی۔ اس موقع پر ’’غالب اور عہدِ غالب‘‘کے موضوع پرایک مذاکرے کابھی انعقاد کیاگیا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی نے کہاکہ میرے لئے یہ انتہائی مسرت کاوقت ہے کہ میں اس ادارے میں گفتگو کر رہاہوں جہاں سے میں نے اپنا علمی سفر شروع کیا تھا۔ آج غالب انسٹی ٹیوٹ نے ایک تاریخی روایت کا آغاز کیاہے کہ وہ اداروں کے ساتھ مل کر علمی و ادبی امور کو انجام دے رہا ہے۔ اس روایت کو ہم مزید آگے بڑھائیں گے اور دوسرے شعبہ ہائے اردو و فارسی میں جاکربھی جلسوں کا انعقاد کریں گے۔ اس روایت کی وسعت کے لئے غالب ایک اہم وسیلہ ہے۔غالب ہماری شعری زندگی کا اتنا عظیم شاعرہے کہ اسے ہم نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطّہ میں جاکر یاد کر سکتے ہیں۔موجودہ کتاب ’’غالب اور عہدِغالب‘‘ کی رسم رونمائی اسی روایت کی ایک توسیع ہے۔

جلسہ کی ابتدا میں شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے صدر، پروفیسر ابن کنول نے کہاکہ یہ ہمارے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آج غالب انسٹی ٹیوٹ جیسا معتبر اور بین الاقوامی سطح کا ادارہ شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی میں مذاکرے کا اہتمام کر رہاہے جس کے لئے میں غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کرتاہوں۔انہوں نے کہا کہ انیسویں صدی کوہم اس لئے بھی یاد کرتے ہیں کہ اسی صدی میں وہ تمام اصناف جو مغرب میں تھیں وہ اردو میں آئیں۔خاص طور پرناول،مکتوب نگاری،انشائیہ،سوانح،نظم، سفرنامہ اور افسانہ نگاری کواس عہد میں کافی فروغ ملا۔وہ صدی ہمارے لئے اور ہمارے ادب کے لئے نہایت ہی اہم تھی،جس نے ہمیں غالب جیسا عظیم شاعر دیا۔

ڈاکٹر علی جاوید نے غالب انسٹی ٹیوٹ کو ’غالب اور عہدغالب‘ کی اشاعت کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ کتاب ادبی دنیا کے لئے ایک تاریخی دستاویز ہے۔انہوں نے کہاکہ ہرعہدعصرحاضر کانتیجہ ہوتاہے لہٰذا عہد غالب بھی ہمارے لئے اور اردو زبان و ادب کے لئے اہم عہد تھا۔ غالب نے اپنے عہد کی تبدیلیوں کودیکھااور ان تبدیلیوں کے اثرات کو قبول کرکے اپنی تحریروں میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا۔ غالب کے عہدمیں اور بھی شعراء تھے مگر وہ روایتوں کے اسیر تھے مگر غالب روایتوں کے دریچوں کو توڑکر نئے خیالات و تعبیرات کے امین بنے۔

ڈاکٹر محمد کاظم نے جلسہ کی نظامت کافریضہ انجام دیتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے جس شاندارروایت کا آغاز کیا ہے اس کا ہم سبھی خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنو ں میں شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے علمی اور ادبی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ ڈاکٹر ابوبکر عبادنے کہاکہ غالب جس صدی میں شاعری کررہے تھے وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لئے اہم ترین صدی تھی۔ غالب نے اپنے عہد سے آگے کے بارے میں بھی سوچاجس کااظہار ان کی شاعری اوراُن کے خطوط میں ملتاہے۔ غالب اردوکے ایسے چند شعراء میں سے ایک ہیں جن کی زندگی میں بے انتہانشیب و فراز آئے مگر غالب نے بڑی ہمت کے ساتھ سارے حالات کا مقابلہ کیا اور انہوں نے اتناخوبصورت شعری دیوان دیا جس پر ہمیں ہمیشہ ناز رہے گا۔

ڈاکٹرعلی اکبرشاہ نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی اس کتاب کی تحسین میں کہاکہ خوبصورت کتابوں کی روایت ایران میں کافی مقبول ہے۔ ایرانی حضرات کتابوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ شائع کرتے ہیں اس روایت کو قبول کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ نے نہایت ہی شاندار کتاب شائع کی ہے جس میں خوبصورت تصاویر کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی میں اس کی تفصیلات درج ہیں۔اس کتاب میں دہلی کے وہ تمام نقوش موجود ہیں جس کو دیکھے بغیر نہ ہم غالب کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ عہد غالب کو۔

ڈاکٹر شاذیہ عمیرنے عہد غالب کی علمی و ادبی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عہد غالب ہماری تاریخ کا زریں عہدتھا۔اس عہد نے بڑے بڑے شعرااور علماء کو پیدا کیااور غالب کی شاعری اور نثر میں ان کے عہدکا عکس خوبصورتی کے ساتھ ملتا ہے۔جلسہ کی ابتدا میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سیدرضاحیدرنے شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس شعبہ کی شاندار روایت اورتاریخ رہی ہے۔ یہ شعبہ اپنی علمی اورادبی کارناموں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری اردو دنیامیں جانا جاتا ہے۔شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کاغالب انسٹی ٹیوٹ سے پرانارشتہ رہاہے۔ انہی رشتوں کی مناسبت سے غالب انسٹی ٹیوٹ نے اپنی اہم ترین کتاب ’’غالب اور عہد غالب‘‘ کی رسم رونمائی کاارادہ شعبہ اردو میں کیا۔ڈاکٹر رضاحیدرنے اس موقع پرغالب اور عہد غالب پرگفتگو کرتے ہوئے کتاب کاتفصیل کے ساتھ تعارف بھی پیش کیا۔ اس جلسہ میں دہلی یونیورسٹی کے تمام اساتذہ،ریسرچ اسکالرز، طلبا و طالبات کے ساتھ ہی ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور،یاسمین فاطمہ ،عبدالتوفیق اور بڑی تعداد میں دیگرسامعین موجود تھے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *