رام سینا پر پابندی لگائی جائے : ایس ڈی پی آئی


سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے گلبرگہ میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرہ روکنے کی پولیس کی کوشش ناکام

گلبرگہ ( پریس ریلیز) :
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی انڈیا(ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے گلبرگہ میں منعقد ایک احتجاجی مظاہرے میں مطالبہ کیا گیا کہ ریاست کرناٹک میں مذہبی منافرت پھیلانے والی تنظیم شری رام سینا پر پابندی لگائی جائے ۔ پارٹی نے کہاکہ رام سینا مختلف سازشوں کے ذریعے ریاست کے عوام میں نفرت کا بیچ بو کر انہیں تقسیم کرنا چاہتی ہے اور ریاست میں فرقہ وارانہ م آہنگی کو نقصان پہنچارہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینا، ان پرحملے کرنا اور دیگر سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنا ہی رام سینا کا کام ہے۔ ’’شاہ آباد میں پچھلے دنوں شری رام کے پوسٹر پر گوبر تھوپ کر شہر کے حالات خراب کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی تھی ۔اس سلسلے میں پولیس کاروائی میں خود رام سینا سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان گرفتار کیے گئے۔یہ مذہبی منافرت پھیلانے کی بہت بڑی سازش تھی جس کو شاہ آباد کے عوام اور پولیس نے ناکام بنادیا۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب رام سینا نے اس طرح فساد پھیلانے کی کوشش کی ہے، اس سے پہلے بھی رام سینا نے رات میں سندگی(بیجاپور) میں پاکستانی جھنڈا لگاکر خوب فساد مچایا تھا،اور کافی توڑ پھوڑ مار پیٹ اور ہنگامہ کیا ۔کئی مسلم نوجوانوں کو ہراساں کیا گیا مگر بعد میں اس گھناؤنی سازش میں رام سینا کا ہاتھ سامنے آیا۔منگلور پب حملہ ہوا، بنگلور میں ’’کرایہ پر دنگا‘‘ اسٹنگ آپریشن ہوا، ہر جگہ اس تنظیم کا گندا کام لوگوں کے سامنے آیا ہے۔جیورگی کاسدا لنگاا سوامی جسکو لوگ اندولہ متیا کہتے ہیں اسکو پولیس نے جو آزادی دے رکھی ہے ، اس وجہ سے عوام میں نفرت کا یہ کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔اس کو روکنے کی ضرورت ہے، اور روکنے کے لئے رام سینا پرپابندی لگانا اشد ضروری ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار عبدالرحیم پٹیل ایس ڈی پی آئی ریاستی سیکریٹری نے احتجاج کے دوران کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شاہدنصیر (ضلعی سیکریٹری گلبرگہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’ پرامود متالک ہندوستان کے سب سے زہریلے لوگوں میں سے ایک ہے،اس بات کا اندازہ یوں ہی لگالیجئے کہ یہ آدمی گوا میں داخل نہیں ہوسکتا، اس پر پابندی ہے، اور یہ پابندی بھاجپا نے لگائی ہوئی ہے،جو کہ خود مسلم دشمنی میں پیش پیش ہے ،اسی لئے ایس ڈی پی آئی کرناٹک حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس تنظیم پر پابندی لگایا جائے اور اسکی مکمل جانچ کرکے ان فسادات میں متالک کا ساتھ دینے والوں کو جیل میں ڈالا جائے۔رام سینا پر پابندی میں ہی میں ریاست کاسکوں مضمر ہے۔‘‘اس موقع پر پولیس نے احتجاج کوروکنے کے لئے بھرپور کوشش کی، منی ودھان سودھا پولیس کی بھاری بندوبست کی وجہ سے ایک قلعہ کا منظر پیش کر رہا تھا اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کی لیڈر شپ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کے دوہرے رویہ اور دباؤکو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جب پولیس اور دپٹی کمشنر نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا تو ایس ڈی پی آئی کے لیڈر وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ جس کے بعد پولیس نرم پڑ گئی اورایس ڈی پی آئی کو احتجاج کرنے کے لئے اجازت دے دی گئی۔اس احتجاج کی قیادت ضلعی صدر سیدذاکر نے کی۔کثیر تعداد میں پارٹی کارکنان نے احتجاج میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *