رام ولاس پاسوان کو پھر یاد نہیں آئے مسلمان

نئی دہلی(نامہ نگار): مرکز کی مودی حکومت میں وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی کے قومی صدر رام ولاس پاسوان نے اعلیٰ ذات کے غریب ہندوؤں کو اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کو دیے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک دلت جس کے پاس زمین نہیں ہے وہ ہل جوت لے گا لیکن ایک غریب برہمن ہل جوتنے میں کترائے گا۔ کیونکہ اس کو عادت نہیں ہے۔ اس لیے کہاکہ ’سوورنوں‘(اعلیٰ ذات کے ہندوؤں) کو اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دو۔ لیکن اس پورے انٹرویو میں انہوں نے ایک دو جگہ سرسری طور پر اقلیتوں کے ذکر کے علاوہ ان کی پسماندگی کو دور کرنے کے بارے میں پوری طرح سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ۱۹۹۰ء میں وی پی سنگھ کی حکومت کے ذریعہ منڈل کمیشن کو نافذ کرنے کے بعد جب نئی دہلی میں واقع کانسٹی ٹیوشن کلب میں مسلم دانشوروں کے ساتھ ایک میٹنگ میں رام ولاس پاسوان سے پوچھا گیا تھا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیے اقدام کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا: اصل میں سب کچھ بہت جلدی میں ہوا، مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں بھی سوچا جارہا ہے۔ ان کے لیے بھی کوئی راستہ نکالا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس زمانے میں رام ولاس پاسوان ملک کے ایک طاقتور سیکولر لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ۲۰۰۲ء کے گجرات فساد کے بعد اٹل بہار واجپئی کی حکومت سے استعفیٰ دیا تھا اور ایسا کرنے والے وہ اکیلے مرکزی وزیر تھے۔ کسی مسلم رکن پارلیمنٹ نے بھی استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ لیکن سیاست کے بدلتے رخ کو بھانپتے ہوئے رام ولاس پاسوان نے بھی اپنی الگ راہ پکڑ لی۔ اب وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہیں۔ انہیں ماہر موسمیات کہا جاتا ہے ۔ شاید اسی لیے وہ اب اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی بات نہیں کرتے۔ انہوں نے ہجومی تشدد کے خلاف قانون بنائے جانے کے سلسلے میں بدھ کو کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی سبھی ریاستوں سے ہجومی تشدد کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کے لیے کہتے ہیں لیکن ریاستی حکومتیں سنتی ہی نہیں ہیں۔ البتہ رام ولاس پاسوان نے یہ نہیں بتایا کہ ملک کی کم وبیش ۲۱؍ ریاستوں میں بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت ہے اور ہجومی تشدد کے زیادہ تر واقعات ایسی ہی ریاستوں میں ہورہے ہیں۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *