روایتی بیجوں کو بچانے کے لیے کوشاں جھارکھنڈ کے کسان

 

Shailendara Sinha

شیلندر سنہا، دمکا (جھارکھنڈ): مرکزی حکومت نے وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق ۲۰۲۲ تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی ہے۔ مرکزی وزارت زراعت کے ایک سینئر افسر نے کہاکہ تشکیل شدہ کمیٹی ایک منصوبہ تیار کرے گی، تاکہ زرعی پالیسی کو پیداوار کے بجائے آمدنی کا ذریعہ بنایا جاسکے۔ افسر نے مزید کہا کہ حکومت نہ صرف فصل کی پیداوار کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، بلکہ کاشت کے اخراجات کی کمی پر بھی توجہ دے رہی ہے، تاکہ کسانوں کی کل آمدنی بڑھائی جا سکے۔ ایک طرف کاشت کاری کے فروغ کے لئے سرکاری سطح پر کوشش کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف ریاست جھارکھنڈ میں کسانوں کے سامنے روایتی بیجوں کا فقدان ہے۔ جھارکھنڈ میں روایتی بیجوں کے تحفظ کے لئے کسانوں کے درمیان بیج محفوظ اور جنگل بچاؤ مہم چلائی جا رہی ہے۔عوامی سطح پر دیہی علاقوں میں روایتی بیجوں کو بچانے کے لئے بیج میلہ لگایا جاتا ہے، جس میں کسان آپس میں بیج کے تبادلے کرتے ہیں۔ بیج بچاؤ مہم کے تحت کسان پیدل مارچ کر رہے ہیں، جس میں خواتین زیادہ فعال ہیں۔ قبائلی کسان آج بھی روایتی بیجوں کا ہی استعمال کر رہے ہیں۔

Pic 1 of article

دمکا ضلع کے گوپی کاندر ڈویژن کے پنڈر گاڈیہ گاؤں کے کسان مہادیو رائے، ٹینجور کے آشا مرانڈی، چراپاتھر کے منکی مرمر، ناموڈیہہ کے درگا وغیرہ سمیت سینکڑوں گاؤں کے کسان بیج بچاؤ مہم میں سرگرم ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ قدرت نے ہمیں اعلیٰ درجے کا بیج دیا ہے۔ یہ مانسون کے فیل ہونے پر بھی کارگر ہوتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں روایتی دھان کے بیج بھدی، ساٹھی، سنا، ڈگال دھان، پوٹھا سمیت ۷۲ اقسام کے دھان کے بیج اب بھی بچے ہوئے ہیں۔ روایتی مکہ کے بیج ڈبری، مکہ اور پہاڑی مکئی، ارہر، گھگھرا یعنی بربٹی، بچے ہوئے ہیں۔ روایتی کھیتی پہلے جھارکھنڈ میں زیادہ ہوتی تھی، لیکن اب کم ہو رہی ہے۔ واضح ہو کہ کرتھی ایک ایسی دال ہے، جسے پتھری جیسے امراض سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سرسوں جسے جھارکھنڈ میں لوٹنی کہا جاتا ہے، پہلے کثیر مقدار میں پیدا ہوتی تھی، اب اس کی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ بزرگ کسان بندی ساہا بتاتے ہیں کہ ر وایتی بیج سے پیداوار کم ہونے کی وجہ سے وہ ہائی بریڈ بیج کا استعمال کرنے لگے۔ ہائی بریڈ بیج کی فصل کا فائدہ فوری طور پر حاصل ہوتا ہے، اس لئے وہ اس کا زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔ روایتی بیجوں کو بچانے کی مہم چلائی جا رہی۔ رانچی میں واقع جین کیمپین نامی ادارے کی سمن سہائے روایتی بیجوں کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ کسانوں کے درمیان روایتی بیجوں کی اہمیت کی وضاحت کے لئے بیداری مہم بھی چلا رہی ہے۔ سنتھال پرگنہ میں ایگریرین اسسٹیس ایسوسی ایشن نامی ادارہ قبائلی گاؤں میں روایتی بیجوں کو بچانے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔ ادارہ کے سکریٹری ستیندر کمار سنگھ بتاتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں قدرتی بیج کہیں ناپید نہ ہو جائے۔ برسا زراعت یونیورسٹی رانچی کے سائنسی بیج کی خاصیت کو ترقی دے رہے ہیں۔ ستیندر سنگھ بتاتے ہیں کہ کسان سب سے بڑے سائنسداں ہوتے ہیں۔ وہ موسم کی صحیح معلومات رکھتے ہیں۔ قدرت نے جو روایتی اعلیٰ درجے کا بیج ہمیں فراہم کیا ہے، انہیں ہی تیار کیا جانا چاہئے، کیونکہ وہ یہاں کی آب و ہوا کے عین مطابق ہیں جو بارش کی بنیاد پر ہوتی ہیں، جس میں پانی کا کم استعمال ہوتا ہے۔ آج کل ہائی بریڈ بیجوں کا استعمال کسان کررہے ہیں، جس میں بڑی مقدار میں جراثیم کُش دوائیں شامل ہوتی ہیں۔ کسان اب ٹائیگر، سورنا، جدید، ابھیشیک، وندنا اور ہائی بریڈ ڈی آر ایچ ۲ جیسے بیجوں کا استعمال کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے روایتی بیج مناسب ہے۔ یہ جراثیم سے فصلوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نامیاتی کاشتکاری سے ماحولیاتی تحفظ اور بہتر کاشت ہوتی ہے۔ نامیاتی کاشتکاری قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے۔ اب کیمیکل کھادوں کا زمانہ آ گیا ہے، کیمیائی کھاد کے استعمال سے مٹی کی جسمانی و کیمیائی خصوصیات کا برا اثر پڑتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کسانوں کو روایتی بیج استعمال کرنے کے لئے ان کی تنظیم بیج میلہ منعقد کرتی ہے، جہاں بیج کا تبادلہ کا موقع ان کو حاصل ہوتا ہے۔ روایتی بیج کو بچانے کے لئے پیدل مارچ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ ستیندر کمار سنگھ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ کی ربیع خریف فصلوں کا سروے کرایا جائے اور اس کی دستاویز تیار کرائی جائے۔ کسانوں سے سائنسی انداز میں صلاح ومشورہ کیا جائے، تبھی لیباریٹری میں کی گئی تحقیق کو زمین پر نافذ کیاجا سکتا ہے۔ کسانوں کی معاشی ترقی کے لئے حقیقی کوشش کی جانی چاہئے۔ روایتی بیجوں کو بچانے کی سمت میں ہزاری باغ واقع پہاڑی رائس ریسرچ سینٹر بھی کام کررہا ہے، جس نے دھان کی کئی قسموں کو تیار کیا ہے۔ لیکن، ریاستی و مرکزی سرکاری کی سطح پر روایتی بیج کو بچانے کی کوشش جب تک تیز نہیں ہوگی، تب تک کسانوں کی معاشی حالت میں بہتری لانا آسان نہیں ہوگا ۔ (چرخہ فیچرس)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *